منگل 22 اکتوبر 2019ء
منگل 22 اکتوبر 2019ء

راولاکوٹ، نوجوان کی نعش کچرے کے ڈھیر سے برآمد

راولاکوٹ(کرائم رپورٹر)راولاکوٹ سے تین کلومیٹر دور شاہراہ غازی ملت پر سلاٹر ہاوس کے قریب بوری میں بندایک نوجوان کی نعش برآمد ہو ئی ہے جس کی شناخت نعمان خالق کے نام سے ہوئی ہے۔ نعش کو ٹکڑوں کے بعد ایک بوری میں بند کر کے کچرے کے ڈھیر کے قریب پھنکا گیا تھا۔مقتول قریبی گاوں پوٹھی کا رہائشی تھا اور اس کی عمر پچیس سال کے قریب تھی ۔ وہ تقریباًدوماہ قبل گھر سے غائب ہو گیا تھا،ورثاء نے مقامی تھانہ میں گمشدگی کی ابتدائی رپورٹ درج کروائی تھی اور پولیس کو دیئے گے بیان میں بعض افرادپرشک کااظہارکیاتھاکہ انہوں نے ٹیلی فون کرکے نعمان خالق کوگھرسے بلایااس کے بعداس کے بعدنعمان خالق گھرواپس نہ آیا ۔پولیس نے شک کی بنیاد پر مذکورہ افراد سے پوچھ کچھ کی اور انہیں حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا ۔جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کچرا جمع کرنے والے پٹھانوں نے بوری میں نعش کے ٹکڑے دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد پولیس نے نعش کو قبضے میں لے پوسٹمارٹم کروایا اور ورثاء کے حوالے کیا۔بعد ازاں مشتعل ہجوم نے نعش جوڈیشل کمپلیکس کے گیٹ پررکھ کراحتجاج کیا۔لواحقین کامطالبہ تھاکہ پولیس کے ان اہلکاران کے خلاف جنہوں نے بروقت کارروائی نہیں کی کومعطل کرکے ان کے خلاف قتل کامقدمہ درج کیاجائے ۔احتجاجی دھرناچارگھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا۔ بعد ازاں پولیس حکام نے پولیس تھانہ راولاکوٹ کے انچارج سٹی انسپکٹرسردارمحمداعجازخان اورتفتیشی افسرشاہداقبال کومعطل کردیا گیاجس کے بعدورثاء نے احتجاج دھرناختم کرکے نعش کوسپردخاک کرنے کے لیے گئے۔ احتجاجی دھرناسے سردارشاہدخورشید،سردارقیوم افسر،سیدحبیب حسین شاہ ایڈووکیٹ، سردارنعیم ناز، ڈاکٹرعثمان سعیدخان، افتخارخان اورمختلف سیاسی وسماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے زعماء نے خطاب کیا۔اس موقع پرمقتول نعمان خالق کاوالدبھی نعش کے ہمراہ دھرنے میں موجودتھا۔پولیس ایک سنئیر آفیسر نے بتایا کہ دو قبل ورثاء کی جانب سے کمشدگی کی رپورٹ درج کیے جانے کے بعد تفتیش جاری رکھی گئی ،بعض افراد سے پوچھ کچھ بھی کی گئی۔تین ہفتے قبل یہ تفتیش انسپکٹر محمد طارق خان کے حوالے کی گئی تھی اور وہی اس کی تفتیش کر رہے تھے۔اس دوران کمشدگی کی رپورٹ کو ایف آئی ار میں تبدیل کر گیا تھا اور اب نعش ملنے کے بعد ورثاء جن لوگوں پر شک اظہار کر رہے تھے ان میں سے پانچ افراد جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں کو گرفتار کر لیا گیا اور ان سے تفتیش جاری ہے ۔