بدھ 23 اکتوبر 2019ء
بدھ 23 اکتوبر 2019ء

مسئلہ کشمیر کا حل ، فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی ہوگا، علی شاہ نواز

اسلام آباد ( دھرتی نیوز)بھارت کے چوٹی کے اخبارات اکانومکس ٹائمز ،انڈین ایکسپریس، ڈیلی اکسکلوثر اور دیگر بھارتی میڈیا نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی سفارتی محاذ پر سرگرم کشمیریوں کے بین الاقوامی سفیر سردار علی شاہنواز خان کوپاکستانی اسٹیبلشمنٹ کااہم مہرہ قرار دینے کا پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے۔ سابق نارویجن وزیراعظم سے انٹرویوکے دوران بھارتی اخبارنے سردارعلی شاہنواز کوپاکستانی اعلیٰ سطحی اداروں کے ہاتھوں استعمال ہونے کا تاثر دیا جبکہ سردار علی شاہنواز نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوے کہا کہ وہ گزشتہ پچیس برسوں سے تحریک آزادی کشمیر کو عالمی سطح پر اور خاص کر یورپ اور امریکہ میں اجاگر کرنے کی بے لوث کوششیں کررہے ہیں اور ان کا مشن صرف اورصرف کشمیریوں کو بھارتی ظلم وجبر سے بچانا اور انہیں حق خودارادیت دلانا ہے۔سابق نارویجن وزیراعظم شل ماگنے بوندے وک جنہوں نے حال ہی میں مقبوضہ کشمیر اورآزادکشمیر کا دورہ کیا اور سردار علی شاہنواز جو کہ آزادکشمیر کے شہر راولاکوٹ کے رہائشی اور کئی عشروں سے ناروے میں مقیم اور کشمیر سکینڈینیوین کونسل کے چیرمین بھی ہیں کا سیاسی تعلق بھی سابق وزیراعظم کی جماعت سے ہے۔ سردار علی شاہنواز کئی سالوں سے ناروے اور امریکہ میں پارلیمنٹرین سے ملاقاتیں کرتے اور جموں کشمیر تنازعے پر مصالحت کیلئے با اثر افراد اور اداروں کو قائل کرتے ہیں ،ان کی ان کاوشوں کو متنازعہ کرنے کیلئے بھارتی میڈیا انہیں بین الاقوامی سطحی پر متنازعہ بنانے کیلئے سرگرم ہو گیا ہے۔ بھارتی اخبار کوانٹرویو میں سابق نارویجن وزیراعظم نے حالیہ دورہ مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر میں حریت رہنماؤں سے ملاقات کے بعد سہ فریقی مذاکرات کو مسئلہ کشمیر کے حل کا واحد راستہ قراردیدیا۔ اس تناظرمیں ان کاکہنا تھا کہ بھارت میں عام انتخابات سر پر ہیں ان حالات میں ابھی مذاکرات کے لیے ماحول سازگار نہیں لیکن لوک سبھا چناؤ کے بعد مذاکرات کا راستہ کھل جائے گا۔ بوندیوک جوخود کومسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک مصالحت کار کے طور پرسامنے لانا چاہتے، سابق نارویجن وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حریت رہنماؤں سے ملاقات کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کی رائے آپ کے سامنے رکھوں انہوں نے صورتحا ل کواپنے نقطہ نظرسے بیان کیا, سرحدپار دہشت گردی کے حوالے سے اظہارخیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا کسی صورت بھی فوجی حل تلاش نہیں کیا جاسکتا، تمام فریقین کو مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات کی میز پر آنا ہی ہوگا، بھارت میں آئندہ انتخابات سے قبل یہ ممکن نہیں لگتا لیکن نئی حکومت کیساتھ حالات سازگار ہو سکتے ہیں۔ سہ فریقی مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بھارتی موقف کی قدر کرتے ہیں لیکن اقوام متحدہ میں موجود قراردادوں اور انسانی حقوق کے کمیشن کی رپورٹس کو بھی نظراندازنہیں کیا جاسکتا۔ دہلی کی جانب سے اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے ابھی تک دلچسپی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ دوسری طرف حریت رہنما میر واعظ عمر فارق نے بھارتی میڈیا کو ایک انٹرویو میں اس دورے کی افادیت کا ذکر کرتے ہوے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا کہا کہ یہ دورہ حکومت ہند کی اعلی سطع پر کشمیر بارے پالیسی میں تھوڑی تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے جسے جاری رہنا چاہیے۔ جب ان سے دورہ کشمیر کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر ایشیا کا سب سے دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے سینکڑوں لوگ اپنی جان گنواچکے ہیں اب اس مسئلے کے اختتام پذیر ہونے کا وقت آچکا ہے۔ آزادکشمیر کے دورہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مقامی قیادت نے مجھے لائن آف کنٹرول کادورہ کرایا اورمجھے یہ جاننے کا موقع ملا کے زمینی حقائق میں کافی حد تک تبدیلی آرہی ہے۔