بدھ 23 جنوری 2019ء
بدھ 23 جنوری 2019ء

کرپشن فر اہمی انصاف کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے،چیف جسٹس

مظفرآباد( پی آئی ڈی )چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر عدالت العالیہ جسٹس ایم تبسم آفتا ب علوی نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں نظام عدل کی بہتری اور انصاف کی بہم رسانی کے لیے جہاں دیگر عوامل کی اہمیت تسلیم شدہ ہے وہاں جدید ٹیکنالوجی یا آئی ٹی کا کردار بھی مسلمہ ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مثبت اور موثر استعمال سے خدمات کی انجام دہی میں انقلاب لایا جا سکتا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر انحصار اور فروغ سے قابل قدر فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ عدالتی نظام میں معلومات تک رسائی بھی انصاف مہیا کیے جانے کی ایک کڑی ہے۔ اور اس مقصد کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی انتہائی اہم اور متحرک کردار ادا کر سکتی ہے۔ جلد ہی عدالت العالیہ کے تمام شعبہ جات کے علاوہ سرکٹ میرپور، کوٹلی، اور راولاکوٹ کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر کی ماتحت عدالت ہاء کو مکمل کمپیوٹر ائزڈ سسٹم سے منسلک کیے جانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ آزادکشمیر بھر کا جملہ عدالتی نظام جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو اور اس کے ثمرات و فوائد سے عوام الناس کے لیے استفادہ ممکن ہو سکے۔ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر عدالت العالیہ جسٹس ایم تبسم آفتا ب علوی نے آزادجموں وکشمیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام آزادجموں وکشمیر ہائی کورٹ میں آفیشل ویب پورٹل اور کیس فلو مینجمنٹ سسٹم کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب میں ججز عدالت العالیہ جسٹس اظہر سلیم بابر ،جسٹس صداقت حسین راجہ، جسٹس چوہدری محمد منیر ،جسٹس سردار محمد اعجاز، سیکرٹری اطلاعات وآئی ٹی محترمہ مدحت شہزاد،سیکرٹری حکومت سید ظہور الحسن گیلانی ، سیکرٹری محمد زاہد عباسی ،سربراہان محکمہ جات ،ماتحت عدالت ہاء کے ججز ،قاضی صاحبان، وائس چیئرمین آزادجموں وکشمیر بار کونسل چوہدری شوکت عزیز ایڈووکیٹ ، صدرہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ،صدر سنٹرل بار ایسوسی ایشن ، سینئر وکلاء ،خواتین وکلاء اور میڈیا کے نمائندگان بھی موجود تھ۔ تقریب سے وائس چیئرمین بار کونسل چوہدری شوکت عزیز ایڈوکیٹ، ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر خالد رفیق ، فیاض الحسن گیلانی، قاضی جاوید اقبال او ردیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر عدالت العالیہ جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی نے کہا کہ عدالتی نظام کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام ہی فراہمی انصاف کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔چیف جسٹس عدالت العالیہ نے کہا کہ کرپشن کا گھن ہمارے معاشرے کو اند ر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ کرپشن سے قانونی ضابطے پامال ہوتے ہیں اور بددیانتی کو ہوا ملتی ہے ، انصاف کا خون ہوتا ہے، حقدارکو حق نہیں ملتا اور معاشرے میں بے چینی اور افراتفری پیدا ہوتی ہے گویا کرپشن قانون کی حکمرانی اور فراہمی انصاف کی راہ مین ایک رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح معاشرتی و طبقاتی تقسیم ، مذہبی ،علاقائی اور لسانی تعصب ،برادری ازم اور اپنے حقوق و فرائض سے لاعلمی جیسے عوامل بھی قانون کی حکمرانی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ہم نے عدلیہ میں کرپشن کے حوالہ سے موصول ہونے والی شکایات پر فوری اور موثر کارروائی کی ہے۔ ایسے عناصر کی سختی سے سرکوبی اور قلع قمع کرنے کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور اب الحمدللہ عدلیہ میں کرپشن کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ تاہم پھر بھی عدلیہ میں کرپشن جیسے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کوئی بھی شکایت ہمارے علم میں لائی جائے تو ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس پر بھر پور کارروائی کی جائے گی۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم