جمعه 15 نومبر 2019ء
جمعه 15 نومبر 2019ء

ضمنی الیکشن میں دھاندلی کو قبول نہیں کیا جائیگا، لیاقت حیات

راولاکوٹ(دھرتی نیوز ) جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی کے سابق صدر نامزد اُمیدوار سردار لیاقت حیات خان نے حلقہ ایل اے 19 پونچھ 3 راولاکوٹ میں تیس دسمبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کو ڈھونگ انتخابات قرار دے دیا سردار لیاقت حیات خان نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر کی پوری مشینری حلقہ میں دندناتی پھر رہی ہے وزیر اعظم وزیروں مشیروں اور بیوروکریسی کی فوج لے کر حلقے کو فتح کرنے پہنچے ہوئے ہیں پولیس پروٹوکول اور سرکاری آفیسران کی گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں جو حلقے میں عوام کو گمراہ کررہے ہیں ایسی صورت ھال میں شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے یہ الیکشن بالکل ایک ڈھونگ ہوگا اور سائنسی طریقے سے دھاندلی کروائی جائے گی جس کو ہم نہیں مانتے سردار لیاقت حیات خان نے کہا کہ آج بے نظیر بھٹو کی برسی منائی جارہی ہے جو ایشاء کی ایک نظریاتی جماعت کی رہنما تھی جس جماعت کے سربراہ زولفقار علی بھٹو نے عوام کو روٹی کپڑا مکان کا نعرہ دیا تھا عوام کی خوشحالی کی بات کی تھی اس پارٹی پر آج سرمایہ دار طبقہ قابض ہے پاکستان میں اس پارٹی پر آصف علی زرداری نے قبضہ کررکھا ہے اور یہاں آزادکشمیر میں اسی قبضہ گروپ کے آلہ کار الیکشن لڑ رہے ہیں یعقوب خان جس کو پارٹی کے منشور تک کا پتہ نہیں وہ عوام کے مسائل کے حل میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں عتیق خان کی پارٹی ایڈز زدہ ہوچکی ہے جو آج سیاسی سہارے تلاش کرنے کیلئے پونچھ کے الیکشن میں موجود ہیں اب انکا سیاسی علاج ممکن نہیں ہے ان خیالا ت کااظہار انھوں نے صابر شہید سٹیڈیم میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کیا اس جلسہ عام کا انعقاد الیکشن کے سلسلے میں کیا گیاتھایاد رہے کہ جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی کے علاوہ کسی بھی پارٹی نے صابر شہید سٹیڈیم میں جلسہ عام کیلئے کادرخواست جمع نہیں کروائی تھی ماضی میں ہر سیاسی جماعت اپنا جلسہ اس سٹیڈیم میں منعقد کرنے کیلئے اجازت نامہ کے لئے درخواست جمع کروایا کرتی تھی نیشنل عوامی پارٹی کے صدر سردار لیاقت حیات کہ دوسری جماعتوں کا یہاں جلسہ نہ کرنا انکی سیاسی ناکامی ہے چونکہ وہ نلکا کھمبا ٹونٹی کی سیاست کررہے ہیں اور آج عوام ایسے چھوٹے مفادات کے لئے انکے ساتھ نہیں ہیں ہمارا سیاسی جلسہ ہماری فتح اور جیت کا اعلان ہے انھوں نے کہا ہے کہ اقتدار پر مسلط نااہل ، حکمرانوں نے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے علاقائیت اور برادری ازم کو فروغ دیا شہدا کو بھی قبیلوں کے شہدا بنا دیا۔ شہدا قوم کے میراث ہوتے ہیں۔ ہم شہدا کے وارث ہیں ۔ ہم عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ 70سالوں سے ریاست نے ایک سامراجی غلام ٹولہ قابض ہے۔ جہنوں نے ریاست کے عوام کے حقوق بری طرح غصب کیے ہیں اور عوام کی عزت نفس کو مجروع کر کے رکھ دیا ہے۔ ریاست کی عوام تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے سرکاری تعلیمی ادارے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سٹرکیں ہستہ حال ہیں ۔ہسپتالوں میں غریب متوسط طبقہ کے لیے علاج معالجہ کی سہولیات و درکنار تذلیل کی جاتی ہے۔ آٹھ لاکھ کشمیر ی بیرون ملک ملازمت کرتے ہیں۔ جو کروڑوں روپے کا زر مبادلہ فرام کرتے ہیں ۔ مگر حکمران استحسالی طبقہ اپنے باپ کی وراثت سمجھ کر لوٹ رہا ہے۔ 15سالوں سے اعلیٰ ریاستی عہدوں پر قابض شخص نااہل اور ان پڑھ ہے۔ جو سبسڈی لفظ کا مطلب نہیں جانتا دوسرا اپنے آپ کو پاکستانی کہلوانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔