هفته 16 نومبر 2019ء
هفته 16 نومبر 2019ء

ہجیرہ،جنسی تعلق کے الزام میں معطل اے ایس آئی کی انکوائری شروع

ہجیرہ (دھرتی نیوز) ہجیرہ تھانہ میں تعینات ایک پولیس اہلکار اے ایس آئی گوہر کاظمی پر خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی تعلق قائم کرنے کے الزام کے بعد ہجیرہ کی سول سوسائٹی اور نوجوانوں نے گذشتہ روز احتجاجی مظاہرہ کیا اور اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا. جمعہ کو اے ایس آئی ہجیرہ تھانہ گوہر کاظمی پر الزام عائد ہونے کے بعد ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر وحید گیلانی نے اے ایس آئی کو معطل کر کے انکوائری شروع کی تھی۔ہفتہ کو الزامات کا سامنا کرنے والی لڑکی نے اسسٹنٹ کمشنر ہجیرہ کے سامنے بیانات قلمبند کروائے کہ وہ اس طرح کے کسی واقعہ سے لاعلم ہے اور نہ ہی مذکورہ پولیس ٓافیسر کو جانتی ہے۔واقعات کے مطابق ہجیرہ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے اپنے ڈرائیور کی اطلاع پر یہ الزام عائد کیا کہ اے ایس آئی گوہر کاظمی کو احاطہ عدالت میں تھانہ پولیس ہجیرہ کے ملکیتی ایک کمرہ جس میں وہ رہائش پذیر ہے میں ایک خاتون کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھا گیا. ڈرائیور سے جب بیانات لئے گئے تو اس نے کہا کہ روشن دان سے اس نے کمرے میں جھانک کر دیکھا اور دن کے قریب بارہ بجے اے ایس آئی اور خاتون بستر پر قابل اعتراض حالت میں تھے لیکن اس سے قبل کے وہ لوگوں کو اکٹھا کرتا خاتون کمرہ سے نکل کر بھاگ گئی اس لئے کوئی اور نہ دیکھ سکا. انکوائری کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکرہ کمرہ سے ملحقہ واش روم کے روشن دان کے علاوہ کوئی روشن دان نہیں ہے جبکہ واش روم کے روشن دان سے کمرے میں جھانکنے کی کوئی گنجائش بھی موجود نہیں ہے. اے سی ہجیرہ کے مطابق انکوائری کے دوران وکلاء کے سامنے جو اے ایس آئی کو پیش کیا گیا تو اس نے قرآن پر حلف لیتے ہوئے اس واقعہ سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا اور میڈیکل کروانے کی پیشکش بھی کی. جس کے بعد وکلاء نے تھا نے مین دی گئی اپنی درخواست واپس لے لی اور کہا کہ ان کے پاس کو ئی ثبوت نہیں اور یہ سب کچھ غلط مہمی کی بنیاد پر ہوا ہے ۔اے سی ہجیرہ ہی کے مطابق خاتون جو اپنے گرفتار اور مبینہ طور پر عادی مجرم دو بھائیوں کے کیس کی پیروی کر رہی ہے،وہ پی آئی کے کمرہ میں جو مذکورہ اے ایس آئی کے کمرہ سے جڑا ہوا ہے میں ضرور گئی لیکن وہاں کوئی موجود نہیں تھا اس لئے واپس آگئی. بیان کے مطابق وہ خاتون وہاں اپنے بھائیوں کے کیس سے متعلق معلومات لینے گئی تھی.پتہ چلا ہے کہ مذکورہ اے ایس آئی کے پاس جو کمرہ ہے. ان دو کمرہ جات کی ملکیت پر عدالت میں متعین پولیس اور تھانہ ہجیرہ کے مابین تنازعہ تھا جو کچھ عرصہ قبل حل کرواتے ہوئے ایک کمرہ عدالتی پولیس اور ایک کمرہ تھانہ ہجیرہ کے تصرف میں لایا گیا. ہجیرہ تھانہ کے زیر تصرف کمرہ میں مذکورہ اے ایس آئی کو رہائش دی گئی تھی. جبکہ پی آئی ہجیرہ گزشتہ کچھ دنوں سے کمرہ دوبارہ حاصل کرنے کیلئے کوشاں تھے. جمعہ کے واقعہ کے بعد پی آئی اور عدالت میں متعین دیگر دو پولیس اہلکار بھی غائب ہیں.