هفته 21  ستمبر 2019ء
هفته 21  ستمبر 2019ء

راولاکوٹ،کچرے کے ڈھیر سے ملنے والی نامولود بچی مردہ حالت میں پیدا ہوئی تھی

    راولاکوٹ( دھرتی نیوز)دو دن پہلے سی ایم ایچ راولاکوٹ کے سامنے کچرے کے ڈھیر سے ملنے والی نامولود بچی کی نعش تدفین کی سہولت میسر نہ ہونے کے باعث غریب والدین نے کچرے کے ڈھیر میں پھنک دیا لیکن سی ایم ایچ کے ریکارڈ کی بہترین تدوین کے باعث پولیس کو یہ معمہ حل کرنے میں مشکل پیش نہیں آئی۔ ہسپتال کے ریکارڈ اور شعبہ بے ہوشی کے انچارج ڈاکٹر ہارون الرشید کے مطابق نامولود بچی کی والدہ کا نام شیرون زوجہ اشفاق علی آباد کہوٹہ کی رہائشی ہے۔وہ بچی کی پیدائش سے قبل حویلی سے باغ اور پھر راولاکوٹ آئی ۔اس کے ساتھ اس کا خاوند اور ایک پھوپھی بھی تھی۔ اسے 28 جنوری کی صبح دو بجکر بیس منٹ پر آپریشن تھیٹر لایا گیا اور دو بجکر چالیس منٹ پر آپریشن کے ذریعہ بچی کی پیدائش مردہ حالت میں ہوئی۔ریکارڈ کے مطابق اس وقت بے ہوشی کے ڈاکٹر لیاقت اور لیڈی ڈاکٹر طاہرہ اور اسٹاف کے دیگر لوگ موجود تھے جبکہ پیدائش کے بعد اس بچی کو مردہ حالت میں ورثاء کے حوالے کیا گیا جنہوں نے دستخط کر کے اسے وصول کیا لیکن اس سے قبل بچی کے پاؤں کے پرنٹ ریکارڈ کے لیے رجسٹرڈ پر لے لیے گے۔یہ طریقہ کار پاکستان کے چند بڑے ہسپتالوں میں رائج ہے جبکہ آزاد کشمیر میں صرف سی ایم ایچ راولاکوٹ میں کیا جاتا ہے جس کا سہرا بھی ڈاکٹر ہارون الرشید کو جاتا ہے جن کی کاوشوں سے 1990 سے آج تک ہسپتال میں پیدا ہونے والے تمام بچوں کے فٹ پرنٹ موجود ہیں۔اگلی صبح ورثاء نے تدفین کا کوئی انتظام نہ ہونے اور حالات کی تنگدستی کے باعث نعش کچرے میں پھنک دی لیکن جب پوسٹمارٹم کے لیے لے جایا گیا تو اسٹاف نرس بینش نے نعش کے پاؤں میں سیاہی دیکھی تو اسے شک ہوا کہ اس بچی کی پیدائش ہسپتال میں ہوئی ہے جس کے پولیس نے ہسپتال عملے کی مدد سے ریکارڈ چک کیا تو سارا ریکارڈ مل گیا جس کے بعد بچی کے والد کو ہراست میں لے لیا گیا ۔واضع رہے کہ راولاکوٹ شہر میں سرکاری طور پر کوئی قبرستان نہیں ہے جہاں اس طرح کی بے سہارہ یا لاوارث نعشوں کو سپرد خاک کیا جا سکے۔عوامی حلقوں نے ہسپتال انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ میونسپل کارپوریشن یا پی ڈی اے فوری طور پر سرکاری سطع پر قبرستان کا اہتمام کریں تا کہ اس طرح کے واقعات آئندہ سرزد نہ ہوں۔ راولاکوٹ،کچرے کے ڈھیر سے ملنے والی نامولود بچی مردہ حالت میں پیدا ہوئی تھی راولاکوٹ( دھرتی نیوز)دو دن پہلے سی ایم ایچ راولاکوٹ کے سامنے کچرے کے ڈھیر سے ملنے والی نامولود بچی کی نعش تدفین کی سہولت میسر نہ ہونے کے باعث غریب والدین نے کچرے کے ڈھیر میں پھنک دیا لیکن سی ایم ایچ کے ریکارڈ کی بہترین تدوین کے باعث پولیس کو یہ معمہ حل کرنے میں مشکل پیش نہیں آئی۔ ہسپتال کے ریکارڈ اور شعبہ بے ہوشی کے انچارج ڈاکٹر ہارون الرشید کے مطابق نامولود بچی کی والدہ کا نام شیرون زوجہ اشفاق علی آباد کہوٹہ کی رہائشی ہے۔وہ بچی کی پیدائش سے قبل حویلی سے باغ اور پھر راولاکوٹ آئی ۔اس کے ساتھ اس کا خاوند اور ایک پھوپھی بھی تھی۔ اسے 28 جنوری کی صبح دو بجکر بیس منٹ پر آپریشن تھیٹر لایا گیا اور دو بجکر چالیس منٹ پر آپریشن کے ذریعہ بچی کی پیدائش مردہ حالت میں ہوئی۔ریکارڈ کے مطابق اس وقت بے ہوشی کے ڈاکٹر لیاقت اور لیڈی ڈاکٹر طاہرہ اور اسٹاف کے دیگر لوگ موجود تھے جبکہ پیدائش کے بعد اس بچی کو مردہ حالت میں ورثاء کے حوالے کیا گیا جنہوں نے دستخط کر کے اسے وصول کیا لیکن اس سے قبل بچی کے پاؤں کے پرنٹ ریکارڈ کے لیے رجسٹرڈ پر لے لیے گے۔یہ طریقہ کار پاکستان کے چند بڑے ہسپتالوں میں رائج ہے جبکہ آزاد کشمیر میں صرف سی ایم ایچ راولاکوٹ میں کیا جاتا ہے جس کا سہرا بھی ڈاکٹر ہارون الرشید کو جاتا ہے جن کی کاوشوں سے 1990 سے آج تک ہسپتال میں پیدا ہونے والے تمام بچوں کے فٹ پرنٹ موجود ہیں۔اگلی صبح ورثاء نے تدفین کا کوئی انتظام نہ ہونے اور حالات کی تنگدستی کے باعث نعش کچرے میں پھنک دی لیکن جب پوسٹمارٹم کے لیے لے جایا گیا تو اسٹاف نرس بینش نے نعش کے پاؤں میں سیاہی دیکھی تو اسے شک ہوا کہ اس بچی کی پیدائش ہسپتال میں ہوئی ہے جس کے پولیس نے ہسپتال عملے کی مدد سے ریکارڈ چک کیا تو سارا ریکارڈ مل گیا جس کے بعد بچی کے والد کو ہراست میں لے لیا گیا ۔واضع رہے کہ راولاکوٹ شہر میں سرکاری طور پر کوئی قبرستان نہیں ہے جہاں اس طرح کی بے سہارہ یا لاوارث نعشوں کو سپرد خاک کیا جا سکے۔عوامی حلقوں نے ہسپتال انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ میونسپل کارپوریشن یا پی ڈی اے فوری طور پر سرکاری سطع پر قبرستان کا اہتمام کریں تا کہ اس طرح کے واقعات آئندہ سرزد نہ ہوں۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم