جمعه 18 اکتوبر 2019ء
جمعه 18 اکتوبر 2019ء

کینسر آگاہی مہم کو کشمیر کے دور دراز علاقوں تک پھیلانے کی تجویز

مظفرآباد(دھرتی نیوز)ماہرین نے کینسر کو فوراً قومی سطح پر ایک مسئلہ سمجھتے ہوئے جامع پالیسی مرتب کی جائے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی 2018ء کی رپورٹ کے مطابق سال 2018ء میں پوری دنیا سے 9.6ملین لوگ کینسر سے فوت ہوئے۔ جو کہ یومیہ چوبیس ہزار لوگ بنتے ہیں۔ کینسر کے مرض کا تیزی سے پھیلنا پوری دنیا کے لیے باعث تشویش ہے، ترقی یافتہ ممالک نے کینسر کے خاتمے کے لیے مکمل منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ جس میں کینسر سے آگاہی ، کینسر کے مرض کی علامات سامنے آنے سے پہلے اس کا پتہ چلانا (Early Diognosis) اور مؤثر علاج شامل ہیں لیکن بد قسمتی سے بہت سے ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے کینسر کے لیے قومی سطح پر کوئی پالیسی مرتب نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں کینسر کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور کینسر سے اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے،ان خیالات کا اظہار کینسر آگاہی تنظیم کے صدر اور جاپان کینسر ایسوسی ایشن کے رکن ڈاکٹر راجا محمد ادیب خان نے گرین ہلز سائنس کالج میں کینسر آگاہی سوسائٹی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا،سیمینارمیں مختلف میڈیکل کالجز ، یونیورسٹیز ، مختلف شعبہ ہائے زندگی اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی،ڈاکٹر راجا محمد ادیب خان نے تجاویز دیں کہ کینسر ریسرچ انسٹیٹیوٹ جس کا حکومت وعدہ کر چکی ہے فی الفور قائم کیا جائے، جہاں ملک بھر سے طالبعلم اور محققین آکر آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں کینسر کے تیزی سے پھیلنے کی وجوہات دریافت کریں نیز کینسر کے مؤثر علاج کے لیے سستی ادویات بھی بنائی جائیں،کینسر کی تشخیص کے لیے کینسر ڈائیگناسٹک سنٹر(Cancer Diagnostic Center) کا قائم کیا جا سکے۔ کیونکہ اگر کینسر اپنی ابتدائی سٹیج پر تشخیص ہو جائے توا س کا علاج ممکن ہے۔ اس طرح بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں،کینسر رجسٹری قائم کی جائے۔ تاکہ آزاد کشمیر کے تمام باشندگان جو کہ کینسر میں مبتلا ہیں اور کینسر سے مرنے والے افراد کی تعداد کا اندراج کیا جا سکے۔ کیونکہ جب تک ہمارے پاس مکمل ڈیٹا نہیں اس مرض کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر منصوبہ بندی نہیں کی جاسکتی،انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کینسر آگاہی مہم کو کشمیر کے دور دراز علاقوں تک پھیلانے کے لیے ان تمام تنظیموں اور افراد کی سرپرستی کرے جو اس میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں،اسی طرح تمباکو نوشی جو کہ پھیپھڑوں کے کینسر میں 80فیصد اور باقی کینسر کی اقسام میں 17فیصد باعث بنتی ہے پر فوراً پابندی لگائی جائے ،نیز ان تمام عوامل کی حوصلہ شکنی کی جائے جن سے بچوں میں تمباکو نوشی کی طرف رغبت بڑھتی ہے،سیمینار کے آخر میں شرکا نے سوالات بھی کیے