منگل 16 جولائی 2019ء
منگل 16 جولائی 2019ء

فاروق حیدر کو آگے لانا میری غلطی تھی،سکندر حیات خان

کوٹلی(دھرتی نیوز)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے بزرگ رہنما، سابق صدر ووزیراعظم آزادکشمیر سردار سکندر حیات خان نے کہا ہے کہ فاروق حیدر کو پروموٹ کر کے میرٹ کی خلاف ورزی کااعتراف کرتا ہوں،فاروق حیدر پورس کا ہاتھی ہے جو اپنوں کو ''دغا''دیتا ہے۔فاروق حیدر نے میرے بارے میں جو کہا یہ رب تعالیٰ کی طرف سے میرٹ پامال کرنے پرمیرے لیے سزا ہے،میں اپنی اس غلطی پر اللہ تعالیٰ اور آزادکشمیر کی عوام سے معافی کا طلبگار ہوں۔میں آج جہاں بیٹھا ہوں کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا،سوچتا ہوں فاروق حیدر نے ''مردہ گھوڑا''کہہ کر میرے سامنے جو آئینہ رکھا ہے اُس میں صاف نظر آرہا ہے کہ واقعی گھوڑوں کا دور گزر گیا اب''گدھوں ''کا دور دورہ ہے۔سردار عتیق خان نے بھی سینئرزکی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کہ گھوڑا جب بوڑھا ہو جائے تو اُسی گولی مار دینی چاہیے،فاروق حیدر کے بھی وچار اپنے بڑوں بارے عتیق خان ہی جیسے ہیں،مجھے فاروق حیدر کی فکر نہیں ہے لیکن مسلم لیگ بارے فکر مند ہوں کہ قیادت فاروق حیدر جیسے بیہودہ شخص کے پاس رہے گی تو اُس کے ''شر''سے جماعت کیسے محفوظ رہے گی۔گورمانی سے لیکر کرمانی تک سب کو جانتا ہوں، کون کیا تھا اور کیا ہے؟ سب کچھ باری آنے پر بتاؤں گا۔ جو لوگ میرے بارے میں کچھ جانتے ہیں وہ بولیں اور میں جن کے بارے میں جانتا ہوں میں بھی بولوں گا،میں جب بولا تو پھر نہ کہنا ننگا کردیا۔فاروق حیدر کو دعوت دیتا ہوں وہ دو تین شریف آدمیوں کا پینل بنا لیں جس پر اُسے بھروسہ ہواور مجھے بھی بھروسہ ہو، وہ ہم دونوں سے سوال کریں اور جوابات لیکر بتائیں گے غلط کون ہے؟ اگر میں غلط ثابت ہوا تو معافی مانگ لوں گا۔فاروق حیدر نے مجبور کیا تو بتا رہا ہوں جس شخص کی سات بہنوں میں ایک بھی اُس سے راضی نہ ہو وہ دوسروں کے خلاف کیسے بات کر سکتا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سمیت جن افراد نے موجودہ حالات میں آواز بلند کی میں اُن کا شکر گزار ہوں۔ان خیالات کا اظہار اُنھوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سردار سکندر حیات خان نے کہا کہ آڈیو لیکس کے بعد دو روز تک میں انتظار کرتا رہا کہ شاید فاروق حیدر رابطہ کرکے اپنی پوزیشن کلیئر کریں مگر میرے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ میں ردعمل نہیں دینا چاہتا تھا لیکن انتظار کے بعد بھی جب فاروق حیدر نے تردید نہیں کی تو یہی ثابت ہوا کہ جو شخص ملاقات کرکے دس بارہ لوگوں کے سامنے مجھے کہتا ہے کمرے میں بٹھا کر جوتے مار لیا کریں،ناراض نہ ہوا کریں اُس نے باہر جاکر اپنے دل میں رکھا میرے خلاف زہر اُگلا ہے اسی لیے آج دوروز بعد میں اپنا ردعمل دے رہا ہوں۔ سردار سکندر حیات خان نے کہا کہ فاروق سکندر میرے پاس آیا تھا اُس نے پوچھا کہ بتائیں اس حالت میں کیا کروں؟ تو میں اُسے کہا آپ اور سردار نعیم خان کی سیاست سے میرا کوئی تعلق نہیں جو مناسب سمجھتے ہو کرو۔فاروق سکندر کا بیان پڑھا،دل کا اطمینان ہواکہ اُس نے تہذیب کے دائرے میں رہ کر اپنا خوبصورت موقف پیش کیا۔سردار سکندر حیات خان نے بتایا کہ یہ میرا گناہ تھا کہ میں فاروق حیدر کو پروموٹ کیاجس کی سزا آج مجھے اُس کے سخت الفاظ سن کر تکلیف کی صورت مل رہی ہے۔ حضرت علی کا قول ہے کہ جس پر احسان کرو اُس کے شر سے بچو۔ ''شر''شرارت کی انتہا ہوتی ہے اور میں اس وقت فاروق حیدر کے شر کی زد میں ہوں۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا، فاروق حیدر نے مجھے جو کچھ کہا، وہ میرٹ کی خلاف ورزی کرکے ایک نالائق شخص کو پروموٹ کرنے کی سزا ہے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم