منگل 16 جولائی 2019ء
منگل 16 جولائی 2019ء

جامعہ پونچھ میں تین روزہ زرعی کانفرنس کا آغاز

راولاکوٹ(دھرتی نیوز)جامعہ پونچھ راولاکوٹ کی فیکلٹی آف ایگریکلچر کے زیر اہتمام”ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار زراعت۔حکمت عملی اور انتظام“ کے موضوع پر تین روزہ عالمی کانفرنس شروع ہو گئی۔کانفرنس میں ملک بھر اور بیرون ملک سے سیکڑوں سکالرز اور طلبہ شریک ہیں۔کانفرنس کے افتتاح سیشن سے صدر ریاست و چانسلر پبلک سیکٹر یونیورسٹیز آزاد کشمیر مسعود خان نے  بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ دنیا کیلئے بڑے چیلنجز ہیں۔ عالمی کانفرنس کے زراعت پر دور رس اثرات مرتب ہو نگے۔شہریوں کو صحت مند اور مناسب غذا کی فراہمی کیلئے منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔زراعت کو ٹیکنالوجی کی بنیاد پر مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔انھوں نے کہا کہ یہ وضاحت کرنا ہو گی کہ زراعت میں پائیدار ترقی کیا ہے۔اس سے مراد ہے کہ ہم اپنے وسائل کا بہترین استعمال کریں۔زمین کا انتخاب اور اسے فصل کیلئے قابل کاشت بنانا۔بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہمیں ریسورسز کا بہترین استعمال یقینی بنانا ہو گا۔مجھے یقین ہے کہ کانفرنس میں تبادلہ خیالات کے باعث زراعت کی پائیدار ترقی کیلئے مفید تجاویز سامنے آئیں گی۔انھوں نے آزاد کشمیر میں زراعت سے متعلق امور پر اعدادو شمار کے زریعے جامع گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ حکومت 10سالہ زرعی پالیسی مرتب کرنا چاہتی ہے۔جامعہ پونچھ میں عالمی کانفرنس کے موقع پر سامنے آنے والی سفارشات کا خیر مقدم کیا جائے گا۔آزاد کشمیر میں زراعت سے متعلق گفتگو کرتے ہو ئے انھوں نے کہا کہ مکئی،گندم،چاول اہم یہاں کی اہم فصلیں اوربہت سارے پھل بھی ہیں۔ہم تمام پہاڑی علاقے کا بامقصد استعمال کرنے کیلئے ماڈل ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔مقامی ریسوززکیساتھ اگر ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جائے تو زراعت کے میدان میں انقلاب آ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیم اور چھوٹے آبی ذخائر کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے چھوٹے آبی زخائر کی تعمیر ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت جنگلات کا تحفظ چاہتی ہے کانفرنس کے انعقاد پر انھوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر رسول جان ڈاکٹرعبد الحمید اور دیگر کو مبارکباد پیش کی۔قبل ازیں جامعہ پونچھ کے وائس چانسلر پروفیسر Emeritusڈاکٹر محمد رسول جان(پرائیڈ آف پرفارمنس،ستارہ امتیاز)نے عالمی کانفرنس کے شرکاء کوخوش آمدیدکہتے ہو ئے کانفرنس کے پس منظر اور موضوعات کے اعتبار سے ترتیب پر روشنی ڈالی۔انھوں نے کہا کہ موسمی تغیرات کی موجودہ صورتحال میں جامعہ پونچھ میں زراعت کی ترقی سے متعلق عالمی کانفرنس کے انعقاد کے دور رس اثرات مرتب ہو نگے۔موسمی تغیرات کے چیلنجز سے نمٹنے اورفوڈ سیکیورٹی کیلئے نئی تکنیک اختیار کرنا ہو نگی۔ا نھوں نے عالمی اور ملک بھر سے آنے والے مندوبین کو راولاکوٹ کی تاریخی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔انھوں نے کہا کہ آپ طویل مسافت طے کر کہ آ ئے لیکن یہ کانفرنس آپ کیلئے یقینا سود مند ثابت ہو گی۔انھوں نے کہا کہ آزاد کشمیرکے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان اور موجودہ صدرسردار مسعود خان کا تعلق بھی راولاکوٹ اور ایک ہی خاندان سے ہے۔سردار مسعود خان دنیا کے اہم فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔چانسلر کی حثیت سے ان کی سرپرستی تعلیم کیلئے نیک شگون ہے۔دریں اثناء کانفرنس کے چیف آرگنائزر و ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید نے مہمان سکالرز کا شکریہ ادا کرتے ہو ئے کہا کے کانفرنس کے انعقاد کا مقصدموسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے طریقے کار وضع کرنا اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے کیلئے فورم مہیا کرنا ہے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم