اتوار 22  ستمبر 2019ء
اتوار 22  ستمبر 2019ء

راولاکوٹ،’مورتیوں“ کی تلاش میں قبروں کی کھدائی،11 افراد گرفتار،9 کے خلاف ایف آئی ار درج

راولاکوٹ (دھرتی نیوز) پولیس نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات حسین کوٹ کے علاقہ منجاڑی کے قبرستان سے قبریں کھودنے کے الزام میں 9سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا جن میں چوہدری مہربان (ایس ایچ او کوٹلی)،چوہدری فصل کریم)تاجر)،سردار عمران(مجسٹریٹ میونسپل کارپوریشن)،مختتار خان،مقصود علی،افسر خان،قدیراللہ،محمد کامران،صاحب گل شامل ہیں۔پولیس  نے صدام شاہ نامی ایک مقامی دکاندار کی درخواست پر ایف آئی ار درج کی ہے جس کے مطابق 27 جون کی شام مندرجہ بالا لوگ ایک سرکاری گاڑی اور دو پرائیویٹ گاڑیوں میں جائے وقوعہ پہنچے اور قبرستان کا معائنہ کیا۔مقامی لوگوں نے اصرار کیا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ ٹیم یہاں سے کچھ مٹی لے رہی ہے جو معائنے کے لیے بھجی جائے گی۔جب اس جگہ کہ کھدائی کی جانے لگی تو اور بھی لوگ جمع ہو گے جس پر ہمیں ڈرایا دھمکایا بھی جانے لگا اور پولیس وردی میں کچھ لوگ پہرہ بھی دینے لگے۔اس دوران کچھ قبروں کی کھدائی مکمل کر لی گئی لیکن جب مزاحمت بڑھی تو وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگے لیکن علاقہ کے لوگوں نے انہیں دھر لیا اور پھر پولیس کو اطلاع دی گئی جس نے موقع پر پہنچ کر ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ایک ملزم موقع سے فرار ہو گیا جس کے متعلق خیال ہے کہ وہ کوئی قیمتی چیز لے کر فرار ہوا ہے۔پولیس نے ملزمان کے خلاف محض مقدس مقامات  (قبروں کی بے حرمتی) اوربے جا مداخلت کے دفعات لگائے ہیں جو قابل ضمانت ہیں اور جس کی سزا ایک سال  یا جرمانہ  یا پھر دنوں  سزائیں ہو سکتی ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق گرفتار کئے گئے افراد رات گئے قبرستان سے قبریں کھودنے میں مصروف تھے اور کم ازکم دو قبریں کھودی جا چکی تھیں کہ پولیس کو اطلاع کی گئی  جس نے موقع پر پہنچ کر جملہ افراد کو گرفتار کر لیا، ایک سرکاری اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شر ط پر بتایا کہ مذکورہ افراد جن میں سے بعض کا تعلق پشاور سے ہے کے پاس ایسے آلات تھے جو زمین کے اندر موجود چیز کی کھوج لگاتے ہیں اس کے علاوہ ڈریل مشین بھی تھی۔کھوئی رٹہ کے ایک تاجر ان سے رابطے میں تھے جن کے پاس اس جگہ کا نقشہ تھا جو مقبوضہ کشمیر سے منگوایا گیا تھا۔ راولاکوٹ میں ان کا رابطہ  مجسٹریٹ کارپوریشن سردار عمران سے تھا جو محض رابطہ کار تھا، مذکورہ افراد اس نقشے کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ مذکورہ قبرستان میں کئی سوسال پرانی مورتیاں یا اس طرح کی قیمتی اشیاء دفنائی گئی ہیں جو تقسیم سے پہلے ہندو خاندانوں نے قبرستان میں اس غرض سے دفنائی تھیں کہ یہ مسلمانوں کی مقدس جگہ ہے اور اس وجہ سے محفوظ رہیں گی، ان افراد کے پاس اس طرح کی چیزوں کے کھوج لگانے کے آلات اور ڈرل مشینیں بھی تھیں اور وقوعہ سے قبل وہ چار سے زائد مرتبہ مذکورہ جگہ کا دورہ کرکے مقامی لوگوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش بھی کر چکے تھے، جمعرات کی شام یہ لوگ مذکورہ قبرستان میں پہنچے اور پہلے ناپ تول کے عمل میں لگے رہے پھر رات دس بجے قبرستان کی کھدائی شروع کردی اور مقامی لوگوں کے مطابق دو سے زائد قبروں کو کھود بھی چکے تھے۔ مقامی لوگوں نے  مزاحمت کی اور پھر پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچی مذکورہ افراد کو حراست میں لے لیا۔”دھرتی“ کے ذرائع کے مطابق مزید دو افراد بھی پولیس کی حراست میں ہیں جن کے نام صفدر صادق ولد محمد صادق اور باسط علی ولد جاوید اختر (نکیال) ہیں۔ان میں سے ایک صفدر صادق ولد محمد صادق کوٹلی پولیس میں ہیڈکانسٹیبل ہے اور ایس ایچ او کوٹلی کی سیکورٹی پر مامور تھا۔پولیس کے کسی بھی افسر نے فون کال اٹینڈ نہیں کی جس کی وجہ سے گرفتار ملزمان کی صیح تعداد اور ضبط کیے گے سامان کی تفصیل معلوم نہ ہو سکی۔تفتیشی اہلکار مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں، اس واقعہ کے بعد مقامی علاقے میں خوف وہراس پایا جاتا ہے اور شہر میں مختلف طرح کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔   

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم