منگل 16 جولائی 2019ء
منگل 16 جولائی 2019ء

سانحہ حسین کوٹ،گرفتار ملزمان کی طرف سے درخواست ضمانت دائر

  راولاکوٹ (کرائم رپورٹر)راولاکوٹ کے قریب حسین کوٹ(منجاڑی)کے مقام پر دو دن قبل پیش آنے والے واقعہ میں ملوث ملزمان نے سنیئر سول جج،مجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت میں درخواست ضمانت دائر کر دی۔ گرفتارملزمان کی جانب سردار طاہر انور ایڈووکیٹ،راجہ اعجاز ایڈووکیٹ،سردار واجد ممتاز ایڈووکیٹ اور نوشین کنول ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ کہ ملزمان قابل ضمانت جرم میں گرفتار ہیں اس لیے نہ ہی ان کا ریمانڈ دیا جائے اور نہ ہی انہیں بند حوالات رکھا جائے بلکہ فوری طور پر ضمانت پر رہا کیا جائے۔مستغیث مقدمہ کی جانب سے سردار جاوید نثار ایڈووکیٹ، سردار محمد نیاز احمد ایڈووکیٹ،سردار عاصم ارشاد ایڈووکیٹ، سردار امروز شاہین ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت سے کہا کہ معاملے کی سنگینی حالات و واقعات اور ملزمان سے آلات اور نقشہ جات برآمد کرنے ہیں اس لیے مقدمے کی باقاعدہ سماعت کرکے فیصلہ کیا جائے اس پر عدالت نے تاریخ پیشی بغرض بحث یکم جولائی مقرر کی،اس موقع پر وکلا کے علاوہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کمرہ عدالت اور احاطہ عدالت میں  موجود تھی۔دریں اثناء ہفتہ کومقامی لوگوں نے احاطہ عدالت میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا۔”دھرتی“ کو ایک سنیئر پولیس آفیسر نے بتایا کہ قبروں کو کھود کر ”قیمتی خزانہ“ تلاش کرنے  کے منصوبے کا ماسٹر مائنڈ چوہدری فضل کریم ہے جو کھوئی رٹہ کا رہائشی ہے ار پار تجارت میں حصہ دار ہے اور ٹریڈنگ کا کام کرتا ہے۔ٹریڈنگ کے دوران ہی اسے ایک کتابچہ دیا گیا جس کی مدد سے اسے شک گذرا کہ منجاڑی کے قبرستان میں قیمتی اشیاء جن میں مورتیاں بھی شامل ہیں دفنائی گئی ہیں۔ایس ایچ او کوٹلی چوہدری مہربان چوہدری فضل کریم دوست اور پارٹنر تھا۔دوستی نبھانے کے لیے  اس نے ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور پولیس کے محکمے سے باہر باہر اس نے مجسٹریٹ میونسپل کارپوریشن راولاکوٹ جس سے  ایس ایچ او کی پرانی شناسائی تھی کی مدد حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا۔مجسٹریٹ میونسپل کارپوریشن نے بھی دوستی کی آڑ میں حامی بھر لی اور پھر پشاور سے ایسے لوگوں سے رابطہ کیا گیا جو اس کام کے ماہر تھے اور ان کے پاس ایسی مشین تھی جو مختلف دھاتوں کی زمین کے اندر کھوج لگاتی ہے۔اسی مشین کی مدد سے کھدائی کا کام شروع کیا گیا کہ مقامی لوگوں نے مزاحمت کی اور پولیس کو بھی اطلاع دی گئی۔پولیس کو شک ہے کہ مذکورہ قبرستان میں مشین کی مدد سے کسی دھات کی نشاندہی کی گئی لیکن منصوبہ ساز کامیاب نہ ہو سکے۔پولیس کے مطابق موقع سے ضبط کی گئی مشین کی مالیت تیس لاکھ سے زائد ہے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم