جمعه 06 دسمبر 2019ء
جمعه 06 دسمبر 2019ء

مظفرآباد میں صحافیوں کا سرکاری تقریبات کا مکمل بائیکاٹ

مظفرآباد(دھرتی نیوز) سینٹرل پریس کلب مظفراباد پر پولیس کی مداخلت اور توڑ پھوڑ کے بعد صدر پریس کلب طارق نقاش کے فیصلے کے مطابق دارالحکومت کے جملہ صحافیوں نے حکومت کی تمام تقریبات کا مکمل بائیکاٹ کر دیا۔ آزادکشمیر کے 72ویں یوم تاسیس کے حوالے سے سرکاری طور پر منائی جانے والی مرکزی تقریب پولیس لائن میں شرکت اور کوریج کے لیے تمام ممبران سینٹرل پریس کلب میں دعوت نامے بھیجے گئے جو سیکرٹری جنرل غلام رضا کاظمی نے شکریہ کے ساتھ واپس بھیج دیے اور موقف اختیار کیا کہ جب تک پریس کلب پر  حملے کے مرتکب ذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہیں کی جاتی انہیں معطل کر کے عدالتی کمیشن نہیں بنتا پریس کلب کے فیصلے کے مطابق کسی حکومتی یا سرکاری تقریب میں شریک نہیں ہونگے پریس کلب کے گیٹ کے اندر کسی وردی پوش پولیس اہلکار لے کے کر آئی جی تک کسی بھی عہدیدار کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔دریں اثناء سینٹرل پریس کلب پر حملے کیخلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد لاہور پریس کلب،کراچی پریس کلب، پشاور پریس کلب، ملتان، فیصل آباد، ڈی آئی خان، حید ر آباد، بنوں،گلگت، ایبٹ آباد،مانسہرہ، کوہستان، بٹگرام کے پریس کلبز اور ملک بھر کی سیاسی یونین نے شدید احتجاج کیا ہے اور واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ آزادکشمیر کے جملہ اضلاع اور تحصیلوں کے پریس کلبز کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔دریں اثناء سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرخواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن او ر سینٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد کے صدر راجہ آفتاب خان سمیت دیگر وکلاء قیادت نے پریس کلب پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جبکہ تاجر قیادت عبدالرزاق خان، شوکت نواز میر، باسط قریشی اوردیگر تاجر قائدین نے بھی پریس کلب پر حملے کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے مرکزی احتجاجی پروگرام میں شرکت کی۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم