هفته 14 دسمبر 2019ء
هفته 14 دسمبر 2019ء

پارٹی ممبرشپ منسوخی کا طریقہ کار سول ڈکٹیٹرشپ کی بدترین مثال ہے،نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ

اسلام آباد(دھرتی نیوز)جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی سابق مرکزی سیکرٹری جنرل اور سینئر نائب صدر نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ  وہ غازی ملت سردار ابراہیم خان (مرحوم) اور سردار خالد ابراہیم خان (مرحوم)کی سیاسی پیروکار ہوں، جموں کشمیر پیپلز پارٹی (جے کے پی پی)سے میری پارٹی رکنیت منسوخ کرنا سیاسی نا پختگی اور سول ڈکٹیٹر شپ کی بدترین مثال ہے۔میں اور جے کے پی پی کے دیگر نظریاتی کارکن 9 دسمبر2019 کو پارٹی الیکشن اور کنونشن کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔اتوار کو یہاں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پارٹی کارکنان کے ہمراہ پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میری پہلی ترجیح ہے، سیاست دوسری، جماعت تیسری ترجیح، الیکشن لڑنا چوتھی اور الیکشن جیتنا یا ہارنا پانچویں ترجیح ہے۔ کشمیری 72 سال سے آزادی کی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں 118 دن سے کرفیو نافذ ہے۔ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز اور غیر قانونی قبضہ قائم کر رکھا ہے۔نیریندر مودی کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ان حالات میں سیاسی جماعتوں کی اندرونی ”سیاست“ کو میں زیادہ اہمیت نہیں دیتی کیونکہ میری ترجیحات جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ مختلف ہیں۔ ہمارا خاندان غازی ملت سردار ابراہیم خان اور سردار خالد ابراہیم خان کا چار نسلوں سے سیاسی پیروکار ہے۔ میں گزشتہ 20 سال سے جموں کشمیر پیپلز پارٹی اور سردار خالد ابراہیم خان کیساتھ سیاسی طور پر وابستہ رہی ہوں۔ہمارے قائد سردار خالد ابراہیم خان کی گزشتہ سال نومبر میں وفات ہوئی جس سے ریاست جموں کشمیر اور جماعت کو شدید نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ 1990 میں جے کے پی پی بنی تو غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اور سردار محمد خالد ابراہیم خان کے ساتھ میرے والد سردار ارشاد خان بھی تنظیم کے بانیوں میں سے تھے۔ جموں کشمیر پیپلز پارٹی اصولی اختلاف کے بعد بنائی گئی تھی کیونکہ اس وقت پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور محترمہ بینظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھیں اور جب آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی نے الیکشن جیتا تو محترمہ بینظیر بھٹو نے آزادکشمیر میں وزیر اعظم کو نامزد کیا تو اس نامزدگی کے طریقہ کار پر غازی ملت سردار ابراہیم خان اور سردار خالد ابراہیم خان کواختلاف تھا۔ ہمارے قائدین نے اس وقت اصولی اختلافات کے بعد پاکستان پیپلزپا رٹی چھوڑ کر جموں کشمیر پیپلز پارٹی بنائی تھی اور جمہوری جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ سردار خالد ابراہیم خان نے جمہوری جدوجہد کرنے کے فلسفے کو ہی لیکر اپنی موت تک جدوجہد کی۔سردار خالد ابراہیم خان اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن جیت کر اسمبلی بھی گئے، اس دوران انہوں نے دو مرتبہ اسمبلی نشست بھی چھوڑی۔ ایک مرتبہ انہوں نے آزادکشمیر کی بیوروکریسی میں غیر قانونی طریقے سے کی جانے والی تقرریوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے استعفیٰ دیا اور دوسری مرتبہ جب سال 2008 میں آزادکشمیر میں بار بار وزیراعظم تبدیل کیے جارہے تھے اور ذاتی مراعات کے بل پاس کیے جارہے تھے تو اس عمل کے خلاف انہوں نے استعفیٰ دیا۔ آزادکشمیر ہائی کورٹ میں پانچ نئے ججز کو غیر آئینی طریقہ سے تعینات کرنے پر اسمبلی میں آواز اٹھائی تو عدالت عظمی نے ان کو جواب طلبی کے نوٹس بھیجے۔سردار خالد ابراہیم خان سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوئے۔عدالت عظمیٰ نے انکی گرفتاری کے لیے ورانٹ جاری کیے تو اسی دوران انکی وفات ہو گئی۔سردار خالد ابراہیم خان کی وفات کے بعد اسمبلی نشست خالی ہوئی تو تنظیم نے سردار خالد ابراہیم خان کی اہلیہ کے کہنے پرانکے بڑے بیٹے سردار حسن ابراہیم خان کو پارٹی ٹکٹ دیا تو ہم سب نے ملکر ان کے الیکشن کیلئے جدوجہد کی۔جس کے نتیجے میں وہ سیٹ جیت کر اسمبلی رکن منتخب ہو گئے۔ گزشتہ ایک سال کے اندر پارٹی نے بہت سے ایسے کام کیے جو ہمارے نزدیک متنازعہ تھے لیکن میں ان کو اخلاقی تقاضوں کی وجہ سے پبلک نہیں کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم میں اختلافات رائے سردار خالد ابراہیم خان کی موجودگی میں بھی رہا لیکن سب مل بیٹھ کر بات چیت سے اختلافات اور مسائل حل کر لیتے تھے۔نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ بھارت نے جب اپنے آئین میں آرٹیکل 370 کو ہٹا کر کشمیر بارے اپنی پالیسی سامنے لائی اور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگایا تو میں نے ایک کشمیری شہری اور وکیل ہونے کے ناطے اپنے ذاتی لیٹر ہیڈ پیڈ پر 3 اکتوبر کو وزیراعظم پاکستان کو خط لکھا، میرے لیٹر ہیڈ پیڈ پر میرے سابقہ عہدے لکھے ہوئے تھے۔ یہ خط لکھنے پر مجھے تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے نوٹس جاری کیا جس کا میں نے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر زبانی جواب دیا۔مجھے کہا گیا کہ تحریری جواب دیں۔ تب میں نے پارٹی صدر سے مطالبہ کیا کہ مجھے تحریری چارج شیٹ جاری کی جائے تو میں آپ کو تحریری جواب دوں گی کیونکہ پہلے نوٹس میں مجھ سے صرف وضاحت طلب کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اسی دوران سردار خالد ابراہیم خان کے ذاتی ملازم وارث نے مجھے ایک نوٹس بھیجا جس پر میں نے صدر جماعت کے سامنے اعتراض کیا کہ نوٹس بھیجنے کا یہ طریقہ درست نہیں تو صدر جماعت نے غلطی تسلیم کر لی۔ 19 اکتوبر کو صدر جماعت نے مجھے تحریری چارج شیٹ بھیجی جس کا میں نے دو دن میں تحریری جواب بھی دے دیا۔ محھے پارٹی کی ایڈوائیزری کمیٹی کے سامنے شارٹ نوٹس پر بلایا گیا تو میں مختصر وقت میں پہنچی اور اپنے آپ کو پیش کیا۔ کمیٹی اجلاس میں سردار خالد ابراہیم کے فرزند اصغر نے تسلیم کیا کہ بذریعہ ذاتی ملازم نوٹس بھیجتے ہوئے ان سے غلطی ہوئی ہے، اس پر میں نے کہا کہ آپ نے غلطی تسلیم کر لی تو بات یہیں پر ختم ہوئی، جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ایسے ختم نہیں ہو گی بلکہ اب اس ایڈوائزری کمیٹی میں یا آپ رہیں گی یا میں رہوں گا۔ اس پر پارٹی سیکرٹری جنرل نے مجھے کہا کہ ہم آپ کی پارٹی رکنیت معطل کرتے ہیں تو میں نے ان کو توجہ دلائی کہ یہ آپ کا اختیار نہیں بلکہ پارٹی کے چیف آرگنائزر کا اختیار ہے، اس پر فرزند اکبر نے چیف آرگنازئزر کو ہدایت جاری کی کہ انکی پارٹی رکنیت معطل کر دیں۔ بعد میں پریس ریلیز کے ذریعے میری ممبرشپ معطل کرنے کی خبر جاری کی گئی۔ اسی پریس ریلیز میں پارٹی کے کنونشن کا اعلان بھی کیا گیا اور ساتھ میں میری رکنیت کی معطلی کا بھی اعلان ہوا۔9 دسمبر کو پارٹی کے الیکشن ہو رہے ہیں ان سے مجھے دور رکھنے کیلئے یہ سب کاروائی کی گئی۔ مجھے جماعت کا مفاد ہمیشہ عزیز رہا ہے، سردار خالد ابراہیم کے دونوں فرزند سیاسی عمل اور تنظیمی عمل سے دور رہے ہیں، ہم نے انہیں موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ 28 نومبر تک میں نے پارٹی کی طرف سے کی گئی کاروائی پر کوئی موقف نہ دیا لیکن پارٹی کے نظریاتی کارکنان نے اپنے اپنے اعتراضات سامنے لائے۔اب 28 نومبر کو پارٹی ترجمان نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ میری پارٹی رکنیت منسوخ کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی پر مشکل وقت ہے، اس وقت پارٹی میں یکجہتی کی ضرورت ہے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ریاستی جماعت کو اس صورتحال میں اہم کردار ادا کرنا ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ یہ سب سردار خالد ابراہیم خان کے بیٹوں کی سیاسی نا پختگی، جمہوریت سے عاری رویے اور سیاسی نا عاقبت اندیشی کی وجہ سے ہوا۔ میری ممبرشپ منسوخی کا طریقہ کار سول ڈکٹیٹرشپ کی بدترین مثال اور جمہوری عمل کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں یہ روایت رہی ہے کہ پارٹی الیکشن شیڈول کے بعد ایسی کاروائی کبھی نہیں کی جاتی۔ سردار خالد ابراہیم اس طرح کی سیاست کبھی نہیں کرتے تھے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کے تمام نظریاتی کارکنان 9 دسمبر کو ہونے والے پارٹی الیکشن اور کنونشن کا مکمل بائیکاٹ کریں گے کیونکہ یہ کنونشن غیر آئینی اور جمہوری روایات کی بد ترین  علامت ہے۔خالد ابراہیم خان کے فرزند نئے ہیں ان کو غلط ٹریک پر ڈالا گیا۔ پارٹی کے عہدیداروں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی لیکن انہوں نے بھی سیاسی نہ اہلی کا مظاہرہ کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم الحاق پاکستان کے ماننے والے لوگ ہیں۔ میں نے کشمیر کی صورتحال پر توجہ دلانے کیلئے وزیراعظم پاکستان کو ذاتی حیثیت میں خط لکھا تھا، سیاسی کارکنان کو ذاتی اظہار رائے سے کوئی نہیں روک سکتا، غازی ملت سردار ابراہیم خان کی اسلام آباد میں برسی کی تقریب انکی فیملی کراتی ہے۔ سردار اسد ابراہیم خان کی ریکوسٹ پر میں نے وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو اس تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر بلایا تو مجھے فردوس عاشق اعوان کو مدعو کرنے پر بھی پارٹی نے نوٹس بھیجا۔نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرے سمیت تمام نظریاتی کارکنان پارٹی کے 9 دسمبر کے الیکشن اور کنونشن کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں، میں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ پارٹی کارکنان کیساتھ مشاورت کے بعد کروں گی، سردار خالد ابراہیم خان نے مجھے سیاسی جانشین بنایا، اس لیے سردار خالد ابراہیم خان کے نظریے پر کاربند رہوں گی۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم