اتوار 29 مارچ 2020ء
اتوار 29 مارچ 2020ء

جے کے پی پی بھی منقسم، ایک ہی دن دو کنونشن،کارکنان کے لیے کڑا امتحان

راولپنڈی (دھرتی نیوز) آزاد کشمیر کی ایک اور ریاستی جماعت جموں کشمیر پیپلزپارٹی (جے کے پی پی) بھی بالا آخر دو حصوں میں منقسم ہو گئی اور پہلی بار پارٹی کا مرکزی کنونشن دو علیحدہ علیحدہ جگہوں پر منعقد کیا جا رہا ہے، راولپنڈی پریس کلب میں جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے مرکزی کنونشن کیلئے ایک ماہ پہلے 9دسمبر کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن 9دسمبر کو ہی پارٹی کی سابق سینئر نائب صدر و جنرل سیکرٹری نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پارٹی کا علیحدہ سے کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ شروع سے ہی جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے ساتھ وابستہ رہی ہیں،ان کے پاس کئی مرکزی عہدے رہے ہیں اور پارٹی کی صدارت کیلئے بھی وہ امیدوار رہی ہیں، آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 2016ء کے انتخابات میں وہ خواتین کی  مخصوص نشستوں پر مضبوط امیدوار بھی تھیں لیکن بوجوہ کامیاب نہ ہو سکیں۔5اگست 2019ء کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے اعلان کے بعد نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے ذاتی حیثیت میں وزیراعظم پاکستان کو ایک خط لکھ کر کشمیر میں رونما ہونے والے حالات کی طرف توجہ مبذول کروائی اور بعد ازاں ایک تقریب میں پاکستان کی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو مدعو کیا جو پارٹی کے بعض رہنماؤں کو ناخوشگوار گزرا اور نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کو ایک شوکاز نوٹس بھیجا گیا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد انہیں پارٹی کی رکنیت پہلے معطل کر کے اور پھر منسوخ کر کے انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا، پارٹی کے بعض ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ 9دسمبر کو ہونے والے کنونشن میں پارٹی کی صدارت کیلئے مضبوط امیدوار تھیں جو پارٹی کے بعض رہنماؤں کو منظور نہ تھیں اور انہوں نے ایک منصوبے کے تحت انہیں پارٹی سے باہر کر دیاَ اب جبکہ 9دسمبر کو پارٹی کی صدارت ممبر قانون ساز اسمبلی حسن ابراہیم خان پارٹی کی صدارت سنبھالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں پارٹی کے ناراض کارکنان نے نبیلہ ارشاد کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے 9دسمبر کو ہی نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کنونشن کروانے کا اعلان کیا ہے، نبیلہ ارشاد نے ”دھرتی“ کے استفسار پر بتایا کہ ان کی رکنیت غیر آئینی طریقے سے منسوخ کی گئی وہ اب بھی پارٹی میں ہیں اور وہ راولپنڈی میں منعقد ہونے والے کنونشن کو غیر آئینی تصور کرتی ہیں اس لیے علیحدہ کنونشن طلب کیا ہے، جموں کشمیر پیپلزپارٹی اپنی تشکیل سے لیکر اب تک ہر دو سال کے بعد 9دسمبر کو کنونش منعقد کر کے مرکزی عہدیداران کا چناؤ کرتی ہے لیکن پہلی بار متوازی کنونشن سے پارٹی کی ساکھ بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم