اتوار 07 جون 2020ء
اتوار 07 جون 2020ء

آزادجموں وکشمیر سنٹرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 2020“ کثرت رائے سے منظور

” مظفرآباد(پی آئی ڈی) آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی نے مسودہ قانون”آزادجموں وکشمیر سنٹرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 2020“ کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ جمعرات کے روزمنعقدہ قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون سردار فاروق احمد  طاہر نے مجلس قائمہ کی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق ایکٹ کے Prembleکے علاوہ اس کی دفعہ 5,4,3,2,اور 6میں ترامیم کی گئی ہیں۔ جبکہ دفعہ 17کو حذف کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت آزادکشمیر سینٹرل بورڈ آف ریونیو کے نام سے بورڈ کی تشکیل دے گی۔ جس کا ایک چیئرمین ہوگاجو کہ گریڈ 21یا اس سے بالا کا آفیسر ہوگا اور وہی سیکرٹری بورڈ بھی ہوگا۔ بورڈ کے ایک آفیشو ممبران میں سینئر ممبر بورڈ  آف ریونیو،سیکرٹری مالیات، سیکرٹری قانون، چیف کمشنر /کمشنر ایج آر (ڈائریکٹ ٹیکس) شامل ہونگے۔ جبکہ بور ڈایک سیکرٹری بور ڈ /ممبر خود منتخب کر ے گا۔  بورڈ کا چیئرمین گریڈ 21بالاکاسینئر ترین آفیسر ہو گاجسے عوامی مفاد میں بورڈ کی ممبر شپ کی تبدیلی کا اختیار ہو گا۔ حکومت بوقت ضرورت فیڈرل بور ڈ آف ریونیو،حکومت پاکستان سے گریڈ 21یا بالاکے آفیسر کی خدمت مستعار الخدمت بھی لے سکے گی۔ مجلس قائمہ کی رپورٹ کے مطابق حکومت ایک پالیسی بورڈ بھی تشکیل دے گی جو کہ معاشی پالیسی اور اہداف کے حوالہ سے گائیڈ لائن فراہم کرے گی۔ اس پالیسی بورڈ کے چیئرمین  وزیر ان لینڈ ریونیو ہونگے۔ ممبر ان میں وزیر مالیات، وزیر انڈسٹریز، چیف سیکرٹری، چیئرمین آزادجموں وکشمیر سینٹرل بورڈ آف ریونیو،سیکرٹری ان لینڈ ریونیو شامل ہونگے جبکہ ایک ممبرکا انتخاب بورڈ خود کر ے گا۔ چیئرمین سینٹرل بورڈ آف ریونیو پالیسی بورڈ کا سیکرٹری بھی ہو گا۔ پالیسی بور ڈ مالی سال کی ہر سہ ماہی میں کم از کم ایک اجلاس منعقد کرنے کا پابند ہو گا۔ پالیسی بور ڈ ٹیکسیشن میں بہتری، ایڈمنسٹریشن اور ریونیو کولیکشن کے حوالہ سے بورڈ کو ضروری ہدایات بھی جاری کرے گا۔ مجلس قائمہ کی رپورٹ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے ممبر اسمبلی عبدالماجد خان نے کہا کہ اس قانون کو بناتے وقت حکومت آزادکشمیر نے وفاق پاکستان کے ساتھ مشاور ت نہیں کی اور یہ وفاق کے متوازی قانون سازی کی جار ہی ہے جس پر ہمارے شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کو دوبارہ مجلس قائمہ کے سپرد کیا جانا چاہیے تاکہ وفاق کے ساتھ مشاورت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق پاکستان  اس قانون کے حوالہ سے سنجیدہ قسم کے تحفظات موجود ہیں جو دور کیے جانے چاہیں۔ اس کے علاوہ تمام سیاسی قیادت کو اس قانون سازی کا حصہ بنایا جاناچاہیے۔ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون و پارلیمانی امور سردار فاروق احمد طاہر نے کہا کہ بل کو 8مئی کے اجلاس میں مجلس قائمہ کے سپرد کیا گیا تھا جس کاباقاعدہ اجلاس منعقد ہو چکا ہے جس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ 13ویں آئینی ترمیم کے بعد ٹیکس وصولی کا اختیار کشمیر کونسل کے پاس تھا جب یہ اختیار ہمارے پاس آیا ہے تو اب ضروری ہے کہ اس بورڈ کی تشکیل دی جائے۔ اس قانون کا مسودہ کابینہ سے منظوری کے بعد اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وفاق کے متوازی کوئی قانون بنایا جارہا ہے۔ CBRکا یہی قانون کشمیر کونسل میں بھی رائج تھا اب تیرھویں آئینی ترمیم کے بعد ضرورت تھی کہ یہ قانون بنایا جائے۔ ہم نے آئین کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ قانون سازی کی ہے۔ ممبر اسمبلی سردار صغیر خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو بھی قانون سازی کے عمل میں شامل کرے۔ حکومت اور اپوزیشن لازم و ملزوم ہیں۔ ریاست کی بہتری کے حوالہ سے قانون سازی کے عمل میں ساری جماعتوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔ ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی نے کہا کہ ترھویں آئینی ترمیم کے بعد یہ ایک اہم قانون سازی ہے۔ اس قانون کو لاگو ہونے دیں اگر اپوزیشن کو پھر کوئی مسئلہ ہوا تو اس میں مزید ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔ اس وقت ہندوستان مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کو بے اختیار کر رہا ہے ایسے وقت میں اگر آزاد کشمیر کی اسمبلی بااختیار ہو رہی ہے تو اس کا مثبت پیغام دنیا کے سامنے جائے گا۔ ممبر اسمبلی حسن ابراہیم نے کہا کہ اگر آئین کے تحت وفاق کے ساتھ مشاورت کی ضرورت نہیں ہے تو بے شک نہ کریں لیکن آزاد کشمیر کی ساری سیاسی جماعتوں کو اس قانون سازی کے عمل میں شامل کیا جائے۔بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان نے کہا کہ ترہویں آئینی ترمیم کے بعد جب ٹیکس وصول کا اختیار حکومت آزاد کشمیر کو حاصل ہوا تو یہ قانون ساز ی ضرورت تھی اور ایک سیکرٹریٹ کی تشکیل ضروری تھی۔ ان مقصد کے لیے سینٹرل بورڈ آف ریونیو تشکیل دیا گیا ہے اور محکمہ ان لینڈ ریونیو اس کا سیکرٹریٹ ہوگا۔ گریڈ21یا بالا کا آفیسر بورڈ کا چیئرمین اور سیکرٹری ہوگا اور اسے مکمل اختیار حاصل ہونگے تاکہ ایک چین آف کمانڈ رہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 25ارب روپے کے ٹیکسز وصول کرنے ہیں اس طرح جتنا یہ بورڈ مضبوط اور اسکی بہتر تشکیل ہوگی اتنا ہی نہ صرف اس حکومت بلکہ آنے والی حکومتوں کو بھی فائدہ ہوگا اور اسکے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے جس کے تحت اس قانون سازی کے لیے وفاقی حکومت سے مشاورت ضروری ہے۔ ہم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے گریڈ 21کے آفیسر کو چیئرمین کے لیے مستعارالخدمت بنیادوں پر تعینات کیے جانے کا قانون بھی رکھا ہے تاکہ اگر ہمیں ٹیکنیکل سپورٹ کی ضرورت ہو تو ہم وفاق سے بھی چیئرمین تعینات کر سکیں۔ سپیکر قانون ساز اسمبلی نے اس پر رولنگ دی کہ اگر آئین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں۔ جس کے تحت قانون سازی سے پہلے وفاق سے مشاورت ضروری ہے تو پھر اس قانون سازی کی تحریک ایوان میں پیش کی جائے جس پر وزیر قانون نے آزاد جموں وکشمیر سینٹرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 2020کی تحریک منظوری کے لیے ایوان میں پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم