بدھ 23  ستمبر 2020ء
بدھ 23  ستمبر 2020ء

اختیارات دے کر واپس نہیں لیے جا سکتے،وزیر اعظم

    مظفرآباد (پی آئی ڈی) وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آنے والا الیکشن ریاست کی عوام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل  ہو گااور ان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ برادری ازم اور علاقائی سیاست کو ختم کرکے اپنے نمائندے منتخب کریں۔ 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ریاست کو باوقار اور بااختیار بنانا ایک خواب تھا جو پورا کر دیا۔آئین ساز ی ایک ارتقائی عمل کا نام ہے اس میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے۔ مگر لیے گئے اختیارات واپس نہیں دیئے جا سکتے۔ریاست کے عوام کے حقوق اور انصاف کی فراہمی کے لیے وکلاء کو آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ عدلیہ اور انتظامیہ،مقننہ  مل کر ہی ایک انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے اپنا بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تمام اداروں کی آئینی حدود متعین ہیں۔ 05اگست 2019کے ہندوستان کے اقدامات کے بعد بھارت ریاست جموں وکشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان ٹھوس اور واضح پالیسی اپنائے۔ سنٹرل بار ایسوی ایشن کے لیے 10لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے ہفتہ کے روز سنٹرل بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی تقریب حلف برداری سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حلف برداری کی تقریب سے صدر سنٹرل بار ایسوسی ایشن ناصر محمود مغل ایڈووکیٹ، سابق صدر سنٹرل بار ایسوسی ایشن راجہ آفتا ب احمد ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل سنٹرل بار ایسو سی ایشن احمد نواز تنولی ایڈووکیٹ، جابرکاظمی ایڈووکیٹ، سابق سیکرٹری جنرل سید انیس گیلانی  ایڈووکیٹ، و دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، ججز صاحبان، ضلع قاضی، قاضی صاحبان، جوڈیشنل آفیسران،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل،  صدرسپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن،صدر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن،ممبر ان بارکونسل،ممبران و عہدیداران سنٹرل بار ایسو سی ایشن، سینئر وکلاء، خواتین وکلاء اور سول سوسائٹی نے بھی شرکت کی۔ حلف برداری کی تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان صرف 22کروڑ عوام کی امیدوں کا ضامن نہیں بلکہ پڑوسی ممالک بنگلہ دیشن، سری لنکا، نیپال کی امیدوں کا بھی ضامن ہے۔ کشمیریوں کا پاکستان سے لازوال رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ایک واضح پالیسی اپنانا ہوگی۔ کشمیریوں کی قربانیوں کی لازوال داستان ہے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ میں عدلیہ کا  دل سے احترام کرتا ہوں۔ عدلیہ کے وقار اور وکلاء کے حقوق کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الزامات کی سیاست نہیں کرنا چاہتا، مجھ پر کوئی کرپشن کے ایک پیسہ بھی ثابت کر دے تو میری گردن حاضر ہے۔ گندی سیاست کا قائل نہیں۔ آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو قومی معاملات میں ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں۔ آنے والے الیکشن میں اپنے مرضی کے نمائندے منتخب کریں مگر  یہ بات یاد رکھیں کہ وہ نمائندے منتخب کریں جو آپ کے وقار اور تشخص کی حفاظت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے صدر، وزیراعظم او وزراء کرام تنخواہ اکھٹی کی جائے تو ایک جج کے برابر بھی مراعات نہیں بنتی ہیں،مکانیت ہو یا مالی وسائل کا مسئلہ حکومت تمام وسائل مہیا کرے گی۔ عوام کوبرق رفتار انصاف کی فراہمی کے لیے وکلاء اورعدلیہ کا کردارنہایت اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وکلاء کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے حقو ق کے لیے ساتھ دیں۔ انہو ں نے کہا کہ ماتحت عدلیہ اور وکلاء کے تمام مسائل حل کریں گے۔ لیگل آفیسران،سٹینڈنگ کونسل کے اعزازیہ میں اضافہ کیا جائے گا۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل،لیگل آفیسران،سٹینڈنگ کونسل کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ ماتحت عدلیہ کے مسائل کو بھی حل کریں گے۔ قاضی صاحبان کے بھی معاملات یکسو کیے جائیں گے۔ تمام بار ایسو سی ایشن کا اجلاس بلائیں گے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر وکلاء کی صحت کی سہولیات اور دیگر امور سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر سنٹرل بار ایسوسی ایشن ناصر محمود مغل نے کہا کہ وزیر اعظم آزادکشمیر کا یہاں آنا ہمارے لیے باعث حوصلہ اور لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنے دور میں آئین و قانون میں ترامیم کا عمل، اداروں کا قیام اور موذوں افراد کی تعیناتی جیسے اقدامات لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبوری آئین 1974جو تحریک آزادی کشمیر کے تاریخی اورقانونی پس منظر سے مطابقت نہ رکھتا تھا اس میں ترامیم کے لیے ایک جراتمندانہ اور غیرت مندانہ جدوجہد کی اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر نے ریاست کے عوام کو بااختیار اور باوقار بنایا۔ قبل ازیں وزیر اعظم آزادکشمیر جب تقریب میں پہنچے تو صدر سنٹرل بار ایسو سی ایشن ناصر محمود مغل ایڈووکیٹ اور ممبران نے استقبال کیا اور وزیر اعظم پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ ٭٭٭٭٭٭٭  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم