اتوار 29 نومبر 2020ء
اتوار 29 نومبر 2020ء

میرپو ر،کرپشن سیکنڈل جو بھی ملوث پایا گیا اپنے انجام کو پہنچے گا،چیف جسٹس

میر پور(دھرتی نیوز) عدالت العالیہ آزاد کشمیر کے قائم مقام چیف جسٹس،جسٹس اظہر سلیم بابر نے کہا ہے کہ تبادلے ملازمت کا حصہ اور ریٹائر منٹ ملازمت کی انتہاء ہے،ملازمت کے دوران اچھے کا م اور خوش گوار یادوں کو چھوڑ کر جانا عزت کی بات ہے،میرپو ر ڈویژن کے لوگ بیرون ممالک سے زر مبادلہ کما کرلاتے ہیں جو باعث اطمنان اور خوشی کی بات ہے،اس میں پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہاں کی خوشحالی کسی جو ڈیشل آفیسر کو متاثر نہ کرے،عدلیہ کی ملازمت میں عزت اور پیسہ دونوں ہیں اس لئے جو ڈیشل آفیسران دلیری سے فیصلے کر کے لوگوں کو انصاف فراہم کریں،میرپو رمیں کر پشن کا میگا سیکنڈل دریافت ہوا ہے جس کی 3مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں یہ سیکنڈل بد نامی کا سبب بنااور بد نماداغ بھی ہے،اس میں کوئی بھی ملوث پایا گیا اپنے انجام کو پہنچے گا،کوئی کتنا بااثر کیوں نہ ہو ں اس میں ملوث پایا گیا سامنے لائیں گے،ججز اور قاضی صاحبان اپنے آپ کو محدود رکھیں،پی آر بنانے کی کوشش نہ کریں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرپور ڈویژن کے جو ڈیشل آفیسرا ن کی جانب سے رجسٹرار ہائی کورٹ امیر اللہ خان مغل کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا،تقریب میں سینئر جج ہائی کو رٹ جسٹس شیراز کیانی،جسٹس صداقت حسین راجہ،،فیصل مجید ڈسٹرکٹ جج میرپور،ڈسٹرکٹ بار کے صدر مرزا قمر زمان جرال بے خطاب کیا،تقریب میں احتساب بیورو کے جج راجہ طارق جاوید،ریفرنس جج منگلا ڈیم منشاء غوث مغل سیکر ٹری جنرل راشد ندیم بٹ،وائس چیئر پر سن بار کونسل نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ،ضلع قاضی میرپور عبدالخالق عتیق،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھمبر منیر احمد فاروقی،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوٹلی مشتاق احمد طاہر،ضلع قاضی کوٹلی محمو د اختر،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج ڈڈیال راجہ شمریز،وضلع میرپور،ضلع کوٹلی،بھمبرکے ایڈیشنل سیشن جج صاحبان قاضی صاحبان،سول جج صاحبان نے شرکت کی،اسٹیج سیکر ٹری کے فرائض ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج میرپو رمحمد غضنفر خان نے سر انجام دیئے،قائمقام چیف جسٹس مسٹر جسٹس اظہر سلیم بابر نے کہا کہ امیر اللہ خان مغل کی بطور رجسٹرار ہائی کورٹ میرپور ڈویژن میں الوداعی تقریب رکھنے کا آئیڈیاڈسڑکٹ سیشن جج میرپور فیصل مجید نے سامنے رکھا،جو وقت کی ضرور ت اور اچھی روایت ہے جس کو قائم کیاگیا،تبادلے ملازمت کا حصہ اور ریٹائر منٹ ملازمت کی انتہاء ہوتی ہے،ریٹائر منٹ میں لفظ پیرانہ سالی استعمال ہو تا ہے جو نامناسب ہے،رجسٹرار ہائی کورٹ اس پر سر کلر جاری کریں اس کا متبادل لفظ تلاش کر یں،امیر اللہ خان مغل نے طویل عرصہ عدلیہ میں گزارہ اچھی شہرت لے کر رخصت ہورہے ہیں،میری ان کے لئے دعا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی زندگی میں اللہ ان کو پر یشانیوں سے محفوظ رکھے،میرا ان کے ساتھ مختلف مقامات پر ساتھ رہا،انتہائی مخلص درویش صفت انسان ہیں،آزاد کشمیر کے قوانین کو یکجا کر کے35کتابوں کی شکل میں ترتیب دی اسطرح کی تقاریب میں تجربات شیئر کر نے کا موقع ہو تا ہے،انہوں نے کہا کہ آج کل میڈیامیں کراچی کے حوالے سے خبریں گر دش کر رہی ہیں کہ کراچی پانی میں ڈوبا ہو ا ہے،کراچی ملک کا معاشی حب ہے کر اچی کی طرح میرپور ڈویژن کے لوگوں کے بیرون ملک ہو نے سے یہاں خوشحالی ہے جو باعث اطمنان اور خوشی کی بات ہے،پریشانی یہ ہے کہ یہان کی خوشخالی کسی جوڈیشل آفیسر کو متاثرنہ کردے،ملازمتوں میں سب سے اچھی ملازمت عدلیہ کی ہے جس مین عزت اور پیسہ بھی اسلئے ججز کو فیصلے میرٹ کے مطابق عدل و انصاف قائم کر نے کیلئے کر نے چاہئے،انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل کرپشن کا ایک میگا سیکنڈل دریافت ہوا ہے جس کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کروائی جارہی ہیں،یہ سیکنڈل بدنامی کا باعث اور بدنماداغ ہے،جسٹس صداقت راجہ اس کی انکوائری کر رہے ہیں اور اچھے آفیسران پر مشتمل ٹیم ایک ماہ سے آڈٹ کررہی ہے،اس بات کو بھول جائیں کہ کو ن کتنابااثرہے جوبھی اس میں ملوث پایا گیا اس کو سامنے لائیں گے،مجموعی طورپر تفتیش تسلی بخش ہے،ڈسٹرکٹ بار میرپور اس سیکنڈل میں بھرپور معاونت فراہم کر رہی ہے،انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی ملازمت بہت نازک ہے،ججز کو ایسی آلائشوں سے بچانا چاہئے،ججز اپنے آپ کو محدودرکھیں،زیادہ پی آر بنانے کی کوشش نہ کر یں،ہائی کو رٹ کے سینئر جج جسٹس شیراز کیانی نے کہا کہ امیراللہ خان مغل کو ٹریفک مجسٹریٹ کے زمانے سے جانتا ہوں،2003میں شریعہ کورس کے حوالے سے ایک ساتھ رہنے کا موقع ملا،ان کے ساتھ عمرہ ادا کیا یہ دل صاف،عاجز،انکسار انسان ہیں،ایسے بندے خد اکے ہاں بڑے مقبول ہوتے ہیں،انسان اپنا کام نیک نیتی سے کرے تو اللہ کی رحمت شامل حال ہو جاتی ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارا کام لوگوں کے تنازعات کو قانونی شکل میں حل کر کے انصاف فراہم کر نا ہے،انہوں نے کہاکہ جج کو دیانت دار،دلیر،تعصب سے بالا تر ہو نا چایئے اور بلا خوف و خطر فیصلے کر نے چاہیئے،ہائی کو رٹ کے جج جسٹس صداقت حسین راجہ نے کہا کہ امیر اللہ خان عدلیہ میں چالیس سال خدمات دینے کے بعد باعزت رخصت ہورہے ہیں جو بڑا اعزاز ہے،خوش قسمت انسان ہیں،عدلیہ پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر ہے،کل ہم نے خدا کے آگے جواب دہ ہو نا ہے،انہوں نے نوجوان آفیسران کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ جوانی کے عالم میں انسان کے پاؤں زمین پر نہیں لگتے،اس کیلئے اللہ کے ہاں جواب دہی کیلئے تیار رہنا چاہئے،اس موقع پر رجسٹرار امیراللہ خان مغل نے کہا کہ میں زندگی بھر تقریر نہیں کی نہ کر سکتا ہوں،جومیر ے بارے میں کہا گیایہ اللہ کا کرم ہے،ڈسٹرکٹ جج فیصل مجید نے کہا کہ امیر اللہ خان مغل کی خدمات ناقابل فراموش ہیں،اس موقع پر وائس چیئر پرسن نبیلہ ایوب،ڈسٹرکٹ بار کے صدر مرزا قمر زمان الزمان نے امیر اللہ مغل کی خدما ت کو زبر دست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،خوبصورت،باوقار تقریب کا اختتام دعا سے ہوا  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم