پیر 26 اکتوبر 2020ء
پیر 26 اکتوبر 2020ء

لاہور کے ایک پولیس اسٹیشن میں راجہ فاروق حیدر کے خلاف مقدمہ درج

  لاہور (دھرتی نیوز)پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے ایک تھانہ میں پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر حکومت راجہ فاروق حیدر سمیت پاکستان مسلم لیگ ن  کی مرکزی قیادت کے خلاف بغاوت اور غداری کے مقدمات درج کر لیے گے ہیں۔یہ ایف آئی ار تھانہ شاہدرہ میں مدبر رشید نامی شخص کی درخواست پر درج کی گئی ہے جس کے مندراجات کے مطابق یکم اکتوبر کو لاہور میں ایک سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن  کے زہر اہتمام ایک پروگرام ہوا جس میں ن لیگ کی مرکزی قیادت سمیت راجہ فاروق حیدر بھی شامل تھے۔اس پروگرام میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف جو عدالتی احکامات کے تحت مشروط طور پر بیرون ملک گے ہیں اپنے خطاب میں متنازعہ باتیں کیں اور ایسی زبان استعمال کی کہ جس سے بغاوت کی بو آتی ہے اور تقریب میں موجود لوگوں نے اس تقریر کی حمایت کی لہذا ان کے خلاف بغاوت اور غداری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔درخواست میں ایک سابقہ پروگرام کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں اس سے ملتی جلتی تقریر کی گئی تھی۔وزیر اعظم آزاد کشمیر سمیت جن دیگر افراد کے خلاف ایف آئی ار درج کی گئی ہے ان میں سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی،راجہ ظفرالحق،مریم اورنگز یب،خواجہ سعد رفیق اور دیگر شامل ہیں۔واضع رہے کہ یہ تقریب مسلم لیگ ن کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے رکھی گئی تھی اور اس میں آزاد کشمیر حکومت کے بعض وزراء کرام جو سی ای سی ن لیگ کے ممبر ہیں شرکت کی تھی لیکن ایف آئی ار میں صرف راجہ فاروق حیدر کا ہی نام درج ہے۔ پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سمیت مسلم لیگ ن کی تمام قیادت کے خلاف بغاوت اور غداری کے الزامات میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے. یہ ایف آئی آر لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں مدبر رشید نامی شہری کی درخواست پر درج کی گئی ہے. پاکستانی ریاست کی وفاداری کا دن رات ورد کرنے والے بھی اگر مقتدرہ کی مرضی کے خلاف کوئی لفظ بھی منہ سے نکالیں تو انہیں نکیل ڈالنے کا بھی وہی راستہ ہے جو آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کے سرخیلوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے. لیکن حکمران طبقات کی لڑائی میں اس طرح کے اقدامات سے دو متحارب طبقات کے نمائندوں کو ایک جیسے ردعمل کے ذریعے ایک صف میں کھڑا کر لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو کنفیوز کرنیکی کوشش کی جاتی ہے. حکمران طبقے کے ایک دھڑے کے خلاف بغاوت اور غداری کے مقدمات سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ اکثریتی مظلوم و محکوم عوام میں اس نظام اور اسکے رکھوالوں کے خلاف نفرت حد درجہ بڑھ رہی ہے اور ایک سنجیدہ بغاوت کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے.  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم