پیر 26 اکتوبر 2020ء
پیر 26 اکتوبر 2020ء

غزالہ حبیب کے شعری مجموعہ ”لامکاں“ کی تقریب اجراء کا انعقاد

راولاکوٹ (دھرتی نیوز)راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والی امریکہ میں مقیم شاعرہ،ادیب محترمہ غزالہ حبیب کے شعری مجموعہ ”لامکاں“ کی تقریب اجراء کا انعقاد غازی ملت پریس کلب  راولاکوٹ میں ہوا جس میں شاعرہ کے قریبی حلقہ احباب  اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کی مہمان خاص محترمہ غزالہ حبیب تھیں  جبکہ صدارت پریس کلب کے صدر اعجاز قمر نے کی۔مقررین نے اپنے اپنے  اظہار خیال میں  غزالہ حبیب کی تحریک آزادی کشمیر  کے لیے کی جانے والی کوششوں اور ادبی خدمات پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔مقررین نے مزید کہا کہ غزالہ حبیب کشمیر کی وہ بیٹی ہے جس نے زمانہ طالب علمی میں ہی نہ صرف ادبی سرگر میاں جاری رکھیں بلکہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی ظلم کو بے نقاب کرتی رہی ہیں اور یہی تڑپ انہیں امریکہ میں بھی سکون سے نہیں رہنے دیتی اور وہاں پر انہوں نے اپنی تنظیم فرینڈز آف کشمیر کے پلیٹ فارم سے کام جاری رکھا اور بھارتی چہرہ کو بے نقاب کرنے میں کردار ادا کیا۔ غزالہ حبیب نے اپنے شعری مجموعے میں بھی کشمیر میں ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے جو ان کی کشمیر کاز کے ساتھ وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  غزالہ حبیب  نے کہا کہ ان کے اس شعری مجموعے کی تقریبات کا سلسلہ کراچی سے شروع ہوا۔اسلام آباد،مظفراباد،اور باغ کے پریس کلبوں میں بھی پروگرام ہوئے لیکن مجھے پریس کلب راولاکوٹ میں آکر بہت زیادہ خوشی اس لیے ہوئی کہ یہ میرا اپنا آبائی ضلع ہے،مجھے اس سے بے پناہ محبت ہے اور جس طرح یہاں کی سول سوسائٹی نے مجھے عزت اور پیا ردیا اس سے میرے حوصلے مزید بلند ہوئے۔انہوں نے کہا کہانہوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی مشاعروں میں جانا شروع کر دیا تھا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیاں کم اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے کوششیں زیادہ شروع کیں۔اپنی تنظیم کے پلیٹ فارم سے عالمی دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کروانے کے لیے کئی کامیاب پروگرام کیے۔انہوں نے کہا کہ اب شعری مجموعے کے ذریعے بھی مسلۂ کشمیر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔تقریب سے جن دیگر مقررین نے خطاب کیا ان میں محترم رونق حیات،مسعودالرحمان (کمیشنرپونچھ)،راشد نعیم (ڈی آئی جی)،احمد احجازی،وسیم خورشید،عابد صدیق،اعجاز قمر،ریاض شاید،ساجد انور،ظفر خان اور دیگر شامل تھے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم