منگل 24 نومبر 2020ء
منگل 24 نومبر 2020ء

ٹائیں ماڈل سائنس کالج کمپلیکس کو ٹیچرز ٹریننگ اکیڈمی بنانے پر احتجاج،10 نومبر کی ڈیڈلائن

ٹائیں (دھرتی نیوز)عوام علاقہ ٹائیں /کاہنڈی بیلٹ کا ایک اجلاس ٹائیں ماڈل سائنس کالج کمپلیکس کے حوالے سے ہواجس کی   صدارت محمد صغیر خان ممبر اسمبلی  نے کی۔ مہمان خصوصی جنرل (ر) سردار محمد انور خان سابق صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر تھے-اجلاس میں مختلف طبقات کی نمائندگی کرنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں 'ماڈل کالج چلانے کی بجائے مذکورہ کمپلیکس کو بطورِ'' ٹیچرز ٹریننگ اکیڈمی '' استعمال میں لانے کے لیے حکومتی منظوری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اوراتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کی گئی”مین راولپنڈی /باغ/راولاکوٹ روڈ پر تعمیر شدہ عمارات و احاطہ جو کہ ''ٹائیں ماڈل سائنس کالج کمپلیکس'' کے نام سے جانا جاتا ہے؛کشمیر کونسل کے فنڈز سے  جنرل (ر) سردار محمد انور خان (جو 2003 میں صدر آزاد جموں و کشمیر تھے) کی ترغیب پر PC-1 کے مطابق ٹائیں اور اس کے مضافات میں رہنے والے پسماندہ عوام کے بچوں کو سائنسی تعلیم دینے کے لیے تعمیر کیا گیا - یہ کمپلیکس 8 سال کی تگ و دو سے 2011 میں مکمل ہوااور کشمیر کونسل نے PC-1 کے مطابق تدریسی عمل شروع کرنے کیلئے اسے آزاد جموں و کشمیر حکومت کو ٹرانسفر کر دیا- بدقسمتی سے عوام علاقہ کی کاوشوں اور مختلف وفود کا حکومتوں کو (جن میں موجودہ وزیر اعظم بھی شامل ہیں) مسلسل یاد دہانی کرانے کے باوجود کمپلیکس میں مطلوبہ تدریسی عمل 9 سال گزرنے کے باوجود شروع نہیں ہو سکا؟بالآخر مجبوراً سابق صدر سردار انور خان  نے موجودہ وزیر اعظم کو کرونا وباء سے قبل پھر یاد دہانی کرائی کہ اگر حکومت تدریسی عمل جاری نہیں کر سکتی تو کسی اور ادارے کو درخواست کی جائے کہ وہ ہماری مدد کرے-وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے اپنے پرنسپل سیکرٹری (وقت) راجہ امجد پرویز کے ذریعے سابق صدر ریاست جنرل (ر) سردار محمد انور خان کو مطلع کیا کہ اگر پاکستان آرمی اپنا تعلیمی ادارہ کھولے تو وہ (وزیر اعظم) اجازت نامہ جاری کر دیں گے -آخر کار جب افواج پاکستان کو APS&COLLEGE کھولنے کے لیے آمادہ کیا گیا اور GHQ سے وزیر اعظم کو فوج کی طرف سے ادارہ کھولنے کی رضامندی سے 10 ستمبر 2020 کو آگاہ کیا گیاتو انہوں نے ''پر اسرار خاموشی'' کے بعد اجازت نامہ حسبِ وعدہ دینے سے انکار کرتے ہوئے 16 اکتوبر 2020 کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کر دیاجس کے مطابق اس کمپلیکس کو فوج کے حوالے کرنے یا PC-1 کے جذبے کے مطابق بطور ''ماڈل کالج چلانے کی بجائے مذکورہ کمپلیکس کو بطورِ'' ٹیچرز ٹریننگ اکیڈمی '' چلانے کا مبہم اور ناقابلِ قبول نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا -جس میں بمطابق نوٹیفیکیشن'' مفاد سرکار'' کو'' مفاد عامہ ''پر ترجیح دی گئی ہے جبکہ یہ کمپلیکس '' مفاد عامہ'' کے لیے جنرل صاحب کی کاوشوں سے بنایا گیا تھا جسے بہر صورت مفاد عامہ کے لیے ہی استعمال کیا جا سکتا کہ نا کہ مفاد سرکار میں؟ یونین کونسل ٹائیں /کاہنڈی اور ملحقہ علاقوں کا یہ نمائندہ اجلاس عام اس حکومتی اقدام کی (جو عوام علاقہ کے لیے حیران کن بھی ہے) بھر پور مذمت کرتا ہے اور ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس اقدام کی ہر صورت مزاحمت کی جائے گی اور کسی طور پر بھی PC-1 کے مغائر کمپلیکس کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی - عوام علاقہ فی الحال /وقت پر امن احتجاج کا اعلان کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ 10نومبر 2020تک یہ نوٹیفیکیشن منسوخ کیا جائے اور APS&COLLEGE کے قیام کے لئے NOC جاری کیا جائے ورنہ نتائج کی ذمہ داری حکومت وقت پر ہو گی ہم یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ عوام علاقہ اپنے بچوں کی تعلیم و تعلم اور ''تدریسی عمل'' کے علاوہ اس عظیم الشان کمپلیکس کو کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے -یہ کمپلیکس چونکہ کشمیر کونسل کی مالی مدد سے تعمیر ہوا ہے اور حکومت آزاد کشمیر اس کو مطلوبہ مقاصد کیلئے استعمال کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ غیر اخلاقی طور پر مغائر PC-1 اس پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتی ہے-اس لئے مذکورہ کمپلیکس کو حکومت آزاد کشمیر کو ٹرانسفر (منتقل) کرنے کے احکامات منسوخ کیے جائیں۔وزارت امور کشمیر /حکومت پاکستان سے عوام علاقہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں حکومت آزاد کشمیر کے غاصبانہ رویے سے بچایا جائے اور ٹرانسفر (منتقلی) کے احکامات منسوخ کرتے ہوئے یہ کمپلیکس نئے سرے سے فوری طور پر پاکستان فوج کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اس ادارے کو عوام کی مرضی کے مطابق چلا سکیں“اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر اس قرارداد کے مطابق عمل نہ کیا گیا تو ہر صورت احتجاج کا حق ہم محفوظ رکھتے ہیں اور حکومت کے اس فیصلے کو کہ یہاں 'ماڈل کالج چلانے کی بجائے مذکورہ کمپلیکس کو بطورِ'' ٹیچرز ٹریننگ اکیڈمی '' کا قیام عمل میں لایا جائے گا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔    

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم