پیر 18 اکتوبر 2021ء
پیر 18 اکتوبر 2021ء

وفاق میں بے حیائی کا سونامی لانے والوں کو تحریک آزادی کشمیرسے کوئی سروکار نہیں،سراج الحق

  راولاکوٹ(اسٹاف رپوٹر) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ وفاق میں،بے حیائی اور مہنگائی کا سونامی لانے والوں کو تحریک آزادی کشمیر اور کشمیریوں کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں،ان کا نظریہ صرف ذاتی مفادات کا تحفظ ہے،پاکستان کی معیشت کا بیڑا غرق کرنے والے قومی مجرم ہیں،شہ رگ دشمن میں قبضے میں ہو اور وزیراعظم ایک منٹ خاموشی اختیار کر کے خود کو کشمیریوں کا سفیر کہے یہ کشمیریوں کی توہین ہے،جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت نے اول روز سے کشمیریوں کی حقیقی پشتیبانی کا حق ادا کیا،تحریک آزادی کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے میں نے پہلے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور صبح آزادی تک جدوجہد جاری رکھیں گے،بیس کیمپ کے مجاہد صفت عوام جماعت اسلامی کو ووٹ دیں صحت اور تعلیم مفت فراہم کریں گے،نوجوانوں کو بلاسود قرض اور روزگار کے مواقع فراہم کریں گے،ان خیالات کااظہار انہوں نے راولاکوٹ میں کشمیر بچاؤ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر امیر جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر ڈاکٹر خالد محمود خان،ڈائریکٹر امور خارجہ جماعت اسلامی پاکستان آصف لقمان قاضی،نائب امیر جماعت اسلامی ارشد ندیم ایڈووکیٹ،سیکرٹری جنرل محمدتنویر انور خان،سجاد انور،زاہد رفیق،قیوم افسر،ارسلان نثار سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا،کشمیر بچاؤ کانفرنس میں شریک شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہکہ تحریک آزادی کشمیر کی سرخیل اب کشمیریوں کی تیسری نسل ہے۔ مقبوضہ وادی کے باسیوں نے جس طرح بھارت کے ظلم و جبر کا مقابلہ کیا اور آزادی کی شمع روشن رکھی اس کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسلام آباد میں بیٹھے سابقہ و موجودہ حکمرانوں نے کشمیر کاز سے بے وفائی کی۔ پی ٹی آئی، نون لیگ اور پی پی میں ایک ہی قبیل کے لوگ اور تینوں کا ایک ہی نظریہ ہے یعنی اپنے مفادات کا تحفظ کرو اور عوام کو کسی خاطر میں نہ لاؤ۔ موجودہ حکومت نے پاکستان کی رہی سہی معیشت اور اداروں کا بھی بیڑہ غرق کردیا۔ کب سے کہہ رہے ہیں کہ کشمیر پر ایکشن پلان بنایا جائے اور اس کی آزادی کا روڈ میپ دیا جائے، مگر حکمران ہیں کہ ان کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ مودی کے 5 اگست کے اقدام کے بعد کمزور خارجہ پالیسی جاری رکھی گئی اور نئی دہلی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے گئے۔ کشمیری اپنے بہتر مستقبل کے لیے سٹیٹس کو پارٹیز کا بائیکاٹ کریں اور 25 جولائی کو ترازو پر مہر لگائیں۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو گزشتہ 73برسوں سے جدوجہد آزادی میں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ جماعت اسلامی کے قائدین اور ان کے عزیزواقارب نے تحریک آزاد یئ کشمیر میں اپنا خون بہایا۔ہم آئندہ بھی کشمیر کی آزادی کی شمع روشن رکھیں گے۔کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف کشمیریوں کو ہے، تینوں نام نہاد بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے ادوار میں آزاد کشمیر کے شہریوں کو غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے، کشمیر میں انٹرنیٹ، گیس اور بجلی کی سہولتیں ناکافی جبکہ انفراسٹرکچر کا براحال ہے۔ موجودہ حکومت نے تین سالوں میں کشمیریوں کی فلاح اور ترقی کے لیے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹر کی حیثیت سے انہوں نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ پوری جرأت و طاقت سے لڑا۔ انہوں نے کہاکہ شاید ہی سینیٹ میں کوئی ایسا دن ہو جس روز ان کی تقریر میں کشمیر کاز کا ذکر نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ ان کادل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتا ہے اور وہ ہر فورم پر کشمیر کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔   

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم