پیر 18 اکتوبر 2021ء
پیر 18 اکتوبر 2021ء

جماعتی پالیسی کے مغائرعبدالرشید ترابی کی دستبرداری،جماعت اسالامی کا ہنگامی اجلاس طلب

  باغ،راولاکوٹ(دھرتی نیوز)جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سابق امیر اور حلقہ وسطی باغ سے جماعت اسلامی کے نامزد امیدوار عبدالرشید ترابی تحریک انصاف آزاد کشمیر کے اس حلقے سے نامزد امیدوار تنویر الیاس کے حق میں دستبردار ہو گے ہیں۔انہوں نے یہ فیصلہ جماعت اسلامی کی پالیسی کے مغائر کیاہے اور جماعت اسلامی کے مرکزی قائدین کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا۔جماعت اسلامی کے مرکزی امیر ڈاکٹر خالد محمود نے اس فیصلے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ان کا ذاتی فیصلہ قرار دیا۔ سابق امیر اور حلقہ وسطی باغ سے جماعت اسلامی کے نامزد امیدوار عبدالرشید ترابی نے 2016 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار مشتاق مہناس سے ایک معاہدے کے تحت ان کے حق میں دستبردار ہو گے تھے اور بعد ازاں اسی معاہدے کے روشنی میں انہیں نہ صرف مخصوص سیٹ پر اسمبلی ممبر منتخب کیا گیا بلکہ انہیں پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کا چیئرمین بھی بنایا گیا اور انہوں نے پانچ سال یہ مراعات حاصل کیں۔موجودہ انتخابات میں جماعت اسلامی آزاد کشمیر  کی مرکزی قیادت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ ان انتخابات میں اپنے جھنڈے اور اپنے منشور کے ساتھ حصہ لیں گے اور اسی پالیسی کے تحت بتیس انتخابی حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے جن میں سے اکتیس ابھی تک کھڑے ہین لیکن عبدالرشید ترابی جو باغ کے حلقہ وسطی سے امیدوار تھے اپنے طور پر پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہو گے ہیں۔قبل ازیں ان کے حوالے سے یہ افوائیں گردش کر رہی تھیں کہ وہ ن لیگ کے ساتھ دوبارہ اتحاد کر لیں گے لیکن ان افواہوں کے برعکس انہوں نے تنویر الیاس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔وسطی کے اس حلقے میں ابھی بھی مقابلہ تنویر الیاس،راجہ یاسین،مشتاق مہناس اور ضیاء قمر کے درمیان ہو گا۔ عبدالرشید ترابی کی شمولیت کے حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر خالد محمود سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ر عبدالرشید ترابی  کا فیصلہ ان کا ذاتی ہے جس سے جماعت اسلامی لاتعلق ہے۔ہمارے اکتیس حلقوں میں آج بھی امیدوار کھڑے ہیں اور ان انتخابات میں ہمارا کسی سیاسی جماعت سے کوئی اتحاد نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عبدالرشید ترابی کی دستبرداری کے حوالے سے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث جماعت کے ذمہ داران کا اجلاس ہنگامی بنیادوں پر طلب کیا گیا ہے جس میں بعض اہم فیصلے کیے جائیں گے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم