پیر 27  ستمبر 2021ء
پیر 27  ستمبر 2021ء

ترقیاتی اداروں میں سیاسی تقرریاں موخر

مظفراباد،راولاکوٹ(خصوصی رپورٹ)حکومت آزاد کشمیر نے آزاد کشمیر کے اکثریتی اضلاع میں قائم ترقیاتی اداروں کی ناقص کارگردگی  اور بڑے پیمانے پر ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کے باعث کم از کم چھ ماہ تک سیاسی تقرریاں نہ کرنے  اور ان تقرریوں سے قبل ان اداروں کا آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم آزاد کشمیر کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی  ترقیاتی و بلدیاتی  اداروں،ضلع کونس اور محکمہ زکوۃ میں سیاسی تقریاں فی الفور کرنے کے لیے سیاسی دباو  بڑھ گیا ہے لیکن وفاق کی طرف سے حکومت آزاد کشمیر کو واضع پیغام دیا گیا ہے کہ کرپٹ عناصر کو  اس طرح کے سیاسی عہدے نہیں دئیے جائیں گے اور احتساب کے عمل کو متاثر نہیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بعض وزراء  سے مشاورت کے بعد اور وفاق کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کیا ہے کہ بلدیاتی اداروں میں مخصوص مدت کے لیے ایڈمنسٹریٹر تعینات کیے جائیں گے اور آئندہ سال کے وسط تک ہر حال میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے۔اس طرح ترقیاتی اداروں میں سیاسی چیئرمینوں کی تقرری سے قبل ان اداروں میں آڈٹ کروایا جائے گا اور اس دوران ان اداروں کا چارج متعلقہ کمشنرز صاحبان کے پاس ہی رہے گا۔واضع رہے کہ سابقہ حکومت نے ان اداروں کو خود کفیل بنانے کے لیے حکومتی فنڈز روک دئیے تھے لیکن بعد ازاں ملازمین کے احتجاج پر کچھ فنڈز بحال کر دئیے تھے لیکن اس کے باوجود ان اداروں پر سالانہ کروڑوں روپے کے اخراجات صرف تنخواہوں کی مد میں کیے جاتے ہیں جس کا حکومت کو ایک روپیہ بھی فائدہ نہیں ہے۔موجودہ وقت صرف میر پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) منافع بخش ادارہ ہے لیکن اس کے خلاف بھی ڈیڑھ ارب روپے کے ریفرنسز احتساب بیورو میں زیر سماعت ہیں۔اس طرح پرل  ڈویلپمنٹ اتھارٹی راولاکوٹ(پی ڈی اے) میں بھی کڑوڑوں روپے کے گھپلے ہوئے ہیں اور متعدد ریفرنسز احتساب بیورو میں داخل کیے جا چکے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہی کہ اسی ادارے کے ایک سابق اسٹیٹ آفیسر جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں کہ خلاف کئی درخواستیں تحقیقاتی اداروں کے پاس زیر سماعت ہیں اور وہ ایک دفعہ پھر اسی ادارے کے چیئرمیں بننے کی دوڑ میں بھی شامل ہیں۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم