جمعرات 14 نومبر 2019ء
جمعرات 14 نومبر 2019ء

مذاکرات کامیاب،”آزادی مارچ“کے گرفتار 38 شرکاء کو رہا کرنے کا فیصلہ

راولاکوٹ (دھرتی نیوز) حکومت آزادکشمیر نے رواں مہینے کے پہلے ہفتے میں راولاکوٹ سے تیتری نوٹ کی جانب کیے جانے والے آزادی مارچ کے دوران گرفتار کیے گے ان38 شرکاء  مارچ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گرفتار شدگان  پر مختلف نوعیت کے الزامات لگائے گئے تھے اور گرفتاری کے بعد ان میں سے بعض کو ڈسٹرکٹ جیل کوٹلی منتقل کر دیا گیا تھا۔آزادی مارچ میں شامل جماعتوں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے گرفتار شدگان کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور اس سلسلے میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئی تھیں۔پیر کو پورے آزاد کشمیر ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ہفتے کو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی کہ وہ ان جماعتوں سے مذاکرات کر کے اس مسلئے کا حل نکالے۔حکومتی کمیٹی میں وزیر اطلاعات راجہ مشتاق منہاس، ممبر اسمبلی صغیر چغتائی، سابق وزیر حکومت سردار طاہر انور ایڈووکیٹ، رہنما جے کے پی پی اسد ابراہیم، ڈی جی پولیٹیکل افئیرز برائے وزیراعظم ملک ذوالفقار شامل تھے جبکہ دوسری طرف  چئیرمین لبریشن سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کے ہمراہ سابق صدور این ایس ایف بشارت علی خان، توصیف خالق اور حارث قدیر (صحافی)شامل تھے۔مذاکرات میں شامل وزیر اطلاعات راجہ مشتاق مہناس نے ”دھرتی“ کو بتایا کہ مذاکراتکامیاب ہو گئے ہیں۔ضروری کارروائی کی تکمیل کے بعد تمام گرفتار شدگان کو رہا کر دیا جائے گا اور اسی سلسلے میں میں خود کوٹلی جا رہا ہوں جہاں گرفتار شدگان میں سے بعض جیل رکھے گئے ہیں۔گرفتار شدگان کی رہائی کے فیصلے کے بعد جے کے ایل ایف نے پیر کو احتجاج کی دی جانے والی کال واپس لے لی ہے تاہم راولاکوٹ کے احتجاج کو استقبالیہ ریلی میں تبدیل کرنیکا اعلان کیا گیا ہے۔،  اس موقع پر کمشنر پونچھ چوہدری محمد رقیب اور ڈپٹی کمشنر پونچھ بھی موجود تھے جنہوں نے وزیراعظم کے احکامات پر فوری عملدرآمد کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کروائی۔