جمعرات 13 دسمبر 2018ء
جمعرات 13 دسمبر 2018ء

احتساب کے نام پر انتقام کا جواب لودھراں کے عوام نے دے دیا،نواز شریف

اسلام آباد (صباح نیوز) سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام کا جواب لودھراں کے عوام نے دے دیا، میرا مقدمہ عوام لڑ رہے ہیں جس پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔جنہوں نے ریفرنس بنا کر احتساب عدالت بھیجے ہیں اور سارا معاملہ نیب کو بھجوایا ہے۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ نوازشریف کو کسی نہ کسی طرح سزا ہو اور یہ احتساب کے نام پر انتقام ہو رہا ہے جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ تبھی کامیاب ہوتے ہیں اگر نوازشریف کو سزا ہوتی ہے جو ضمنی ریفرنس آ رہے ہیں میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کتنے سال یہ اور آتے رہیں گے۔ کب تک آتے رہیں گے اور کیوں آتے رہیں گے۔ موجودہ ریفرنس میں کچھ ہوتا تو ضمنی ریفرنس کی ضرورت نہ ہوتی۔ مجھے خود نہیں معلوم مجھ سے کیوں انتقال لیا جا رہا ہے اور مسلسل لیا جا رہا ہے، میں اس کا سامنا کر رہا ہوں اور ڈرتا نہیں ہوں،وہ مجرم جو دو دو دفعہ آئین توڑ گئے ہیں اور ججوں کو گرفتار کر گئے ہیں وہ کس کے مجرم ہیں ان پر کیوں ہاتھ نہیں پڑتا کیا وہاں تک پہنچتے ہوئے پر جلتے ہیں۔ کیا ہے کچھ بتائیں ناں۔ ان خیالات کا اظہار نوازشریف نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم ووٹ کے تقدس کی جو بات کر رہے ہیں لوگ اس کو سمجھ رہے ہیں اور یہ معاملہ عوام کے دلوں اور دماغوں میں رچ بس گیا ہے۔ چاہے لوگ شہروں میں رہتے ہیں یا دیہاتوں میں رہتے ہیں۔ ماشا اللہ سب اس کو سمجھ رہے ہیں۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ جو ضمنی ریفرنس آ رہے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کتنے سال یہ اور آتے رہیں گے۔ کب تک آتے رہیں گے اور کیوں کر آتے رہیں گے۔ بڑی عجیب سی بات ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے بلکہ یقین ہونے لگتا ہے کہ ان ریفرنسوں میں کچھ نہیں ہے۔ ان ریفرنسز میں کچھ ہوتا تو پھر ضمنی ریفرنس کی ضرورت نہیں تھی۔ ضمنی ریفرنس اسی چیز کو ری پیکج کر کے انہیں الزامات کو دہرا کر ضمنی ریفرنس کی صورت میں دائر کئے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ریفرنس میں اگر کوئی جان ہوتی، کوئی الزام ہوتا اور اس میں کوئی ثبوت ہوتا اور کوئی سچائی ہوتی تو کسی ضمنی ریفرنس کی ضرورت ہوتی۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ جنہوں نے ریفرنس یہاں یہ بنا کر بھیجے ہیں اور سارا معاملہ نیب کو بھجوایا ہے۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف کو کسی نہ کسی طرح سزا ہو اور یہ احتساب کے نام پر انتقام ہو رہا ہے جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ تبھی سرخرو ہوتے ہیں کہ جب نوازشریف کو سزا ہوتی ہے۔ اگر نوازشریف کو سزا نہیں ہوتی۔ الزام جب نہیں ہے تو سزا کیوں کر ہو گی تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا سارا کیا کرایا اس پر پانی پھر جائے گا۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے مگر خوشی اس بات کی ہے کہ یہ سارا کچھ جو کر رہے ہیں۔ اس کا جواب پاکستان کے عوام دے رہے ہیں۔ گذشتہ روز جو چیزوں کا جواب ہے انہیں جھوٹے کیسز کا جواب ہے اور پھر احتساب کے نام پر جو انتقام ہے۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم