بدھ 26  ستمبر 2018ء
بدھ 26  ستمبر 2018ء

خواجہ سرا کی تعریف پر اسلامی نظریاتی کونسل کا اختلاف

اسلام آباد(صباح نیوز)چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہاہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے خواجہ سراہوں کے حقوق اور حفاظت بل 2017 میں اسلامی نظریاتی کونسل کی خواجہ سرا کی تعریف کے حوالے سے تجویزنظرانداز کرکے بل پاس کیا،اسلامی نظریاتی کونسل نے بل میںخواجہ سرا کی تعریف سے اختلاف کیا ہے، اس میں وہ بھی شامل ہوتے ہیں جو مصنوعی طور پر اپنے آپ کو خواجہ سر بنالیں ۔ اس حوالے سے چیرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم صرف ان کوخواجہ سرا مانتے ہیں جو اللہ کی طرف سے قدرتی طور پر پیدا ہوئے ہیں جبکہ جو بل کمیٹی میں پاس ہواہے اس میں وہ بھی شامل ہیں جو مصنوعی طور پر اپنے آپ کو خواجہ سر بنالیں اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل نے خواجہ سرا کی تعریف سے اختلاف کیاہے ۔اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے شعبہ تحقیق کے سربراہ غلام دستگیر نے کہا کہ ہمارا اختلاف بل میںخواجہ سرا کی تعریف پر ہے ہماری تجویز تھی کہ صر ف ان خواجہ سراہوں کو تعریف میں شامل کیاجائے جو پیدائشی ہوں ۔خواجہ سرا (خنثہ)کی تعریف کی شق۲ میں لکھا ہے کہ وہ پیدائشی تو مرد ہومگر بعد میں خواجہ سرا بن جائے جس پر ہم نے اختلاف کیاہے کہ اگر کوئی کسی وجہ سے نامردہوجاتاہے تو وہ خواجہ سرا نہیںہوتاہے اور اس بل کے بعد جواپنے آپ کو نامرد کرے گا اس کوقانونی حفاظت حاصل ہوجائے گی جبکہ شریعت اسلامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی ہے کہ کوئی اپنے آپ کونامرد بنائے۔کمیٹی کے رکن سینیٹر مفتی عبدالستار نے کہاکہ خواجہ سراہوں کی تعریف مبہم رکھی گئی ہے اور کمیٹی میں بھی میں نے اس پر اختلاف کیاتھا اور کہاکہ تھاکہ اسکا فیصلہ میڈیکل رپورٹ سے کیاجائے کہ کون خواجہ سرا ہے اور کون نہیں ہے اور میرے اور سینیٹرنثار خان کے کہنے پر اس معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیج دیاگیاتھا کہ وہ اس کودیکھے اور اس کی تعریف کرے خواجہ سراوہ ہی ہے جس کی اسلامی نظریاتی کونسل نے تعریف کی ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اورشیعہ علماءکونسل کے راہنما عارف حسین واحدی نے کہاکہ جو اپنے آپ کو نامرد بنائے تو وہ جرم کاارتکاب کرتاہے اور اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی اور جوکسی اور وجہ سے بھی اگر نامرد بن گیاتو اس کو خواجہ سرا نہیں کہیں گے وہ مرد ہی ہوگا۔