اتوار 27 مئی 2018ء
اتوار 27 مئی 2018ء

سینیٹ الیکشن ہفتے کو ہوں گے، ووٹ کی راز داری رہے گی

اسلام آباد(اے این این ) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے (آج) ہفتہ کو ہونے والے سینیٹ الیکشن کےلئے ضباطہ اخلاق جاری کر دیا ہے جس میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ووٹ کی راز داری اور تقدس یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین اسمبلی سیکرٹریٹ کارڈ ہمراہ لائیں،موبائل فون پولنگ بوتھ میں لے جانے پر پابندی ہوگی،بیلٹ خراب کرنے ،جعلی بیلٹ استعمال کرنے پر قید اور جرمانے کی سزا ہو گی،پولنگ اسٹیشن کے باہر پولیس اور رینجرز تعینات ہونگے۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ الیکشن (آج) ہفتہ کو ہو رہے ہیں جس کے لئے الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے جس کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کو اسمبلی سیکرٹریٹ کا کارڈ ساتھ لانا ہوگا۔ضابطہ اخلاق کے مطابق اراکین کے موبائل فون پولنگ بوتھ لانے پر مکمل پابندی ہوگی جب کہ بیلٹ پیپر اور ووٹ کی رازداری کو یقینی بنانا ہوگا۔الیکشن کمیشن کے مطابق بیلٹ پیپر کو خراب کرنے یا اسے پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے پر مکمل پابندی ہوگی اور جعلی بیلٹ پیپر استعمال کرنے پر کارروائی ہوگی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور 6 ماہ سے 2 سال تک قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے جب کہ الیکشن کمیشن مجاز ہے کہ جرمانہ اور قید کی سزا ایک ساتھ سنا سکے۔ضابطہ اخلاق میں مزید بتایا گیا ہے کہ بیلٹ پیپر پولنگ اسٹیشن سے باہر لیجانے پر مکمل پابندی ہوگی، غیرمتعلقہ شخص کو بیلٹ پیپر دینے پر آر او فوری سزا سنا سکتا ہے ، ریٹرننگ افسر کو بیلٹ پیپر منسوخ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، کسی بھی قسم کی بے قاعدگی ، بدنظمی پر آر او انتخابی عمل معطل کرسکے گا، سینیٹ کی پولنگ کے روز پولنگ اسٹیشن کے باہر رینجرز اور ایف سی تعینات ہوگی۔2018 کے سینیٹ انتخابات میں مجموعی طور پر 135 امیدوار میدان میں ہیں۔ ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے 20، ایم کیو ایم پاکستان کے 14، تحریک انصاف کے 13، پاک سرزمین پارٹی کے 4 جبکہ 65 آزاد امیدوار سینیٹ انتخابات میں حصہ لیں گے۔آزاد امیدواروں میں مسلم لیگ(ن) کے وہ 23 امیدوار بھی شامل ہیں جو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑسکیں گے۔پنجاب اور سندھ میں 7، 7 جنرل نشستوں، خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی 2، 2 نشستوں اور ایک اقلیتی نشست پر انتخاب ہوگا جب کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 7،7 جنرل نشستوں جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی 2، 2 نشستوں پر انتخاب ہوگا۔ فاٹا میں 4 جنرل نشستوں جبکہ اسلام آباد میں ایک جنرل نشست اور ایک ٹیکنو کریٹ کی نشست کے لیے انتخاب ہوگا۔پنجاب سے 20 امیدوار حتمی فہرست میں شامل ہیں۔ جنرل نشستوں پر 10، خواتین کی نشستوں پر 3، ٹیکنوکریٹ نشستوں پر 5 جبکہ اقلیتوں کی نشست پر 2 امیدوار میدان میں اتریں گے۔سندھ سے مجموعی طور پر 33 امیدوار الیکشن میں حصہ لیں گے۔ جنرل نشستوں پر 18، ٹیکنوکریٹ نشستوں پر 6، خواتین کی نشستوں پر 6 جبکہ اقلیتوں کی نشست پر 3 امیدوار مقابلہ کریں گے۔اسی طرح خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں کے لئے 27 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا، جنرل نشستوں پر 14، ٹیکنوکریٹ نشستوں پر 5 اور خواتین کی نشستوں پر 8 امیدوار مقابلے کی دوڑ میں ہیں۔ بلوچستان سے 25 امیدوار سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں گے، جنرل نشستوں پر 15، خواتین کی نشستوں پر 6 جبکہ ٹیکنوکریٹ نشستوں پر 4 امیدواروں کے درمیان جوڑ پڑے گا۔