هفته 26 مئی 2018ء
هفته 26 مئی 2018ء

چیئر مین سینٹ کا 12 مارچ انتخاب کل ہو گا ، سیاسی جوڑ توڑ عروج پر

اسلام آباد، کراچی(نیوز ایجنسیاں)چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کل (پیر کو)پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوگا۔ 52نومنتخب اراکین سینیٹ حلف اٹھائیں گے اجلاس کا باضابطہ طور پر اعلامیہ جاری کردیا گیا ۔ صدر ممنون حسین نے اجلاس پیر کی صبح دس بجے طلب کیا ہے ۔ اجلاس صدر کے نامزد پریذائیڈنگ افسر سردار یعقوب ناصر کی صدارت میں ہوگا۔ نومنتخب ارکان کے حلف کے بعد چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کیلئے اجلاس میں وقفہ کردیا جائے گا۔ 12بجے دن کاغذات نامزدگی جمع ہوسکیں گے ۔ دو بجے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوگی چار بجے خفیہ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے مرحلے میں پریذائیڈنگ افسر چیئرمین سینیٹ کا انتخاب کرائیں گے ۔ نومنتخب چیئرمین سینیٹ سے حلف لینے کے بعد پریذائیڈنگ افسرنومنتخب چیئرمین کو کرسی صدارت سنبھالنے کی دعوت دیں گے اور خود ہال میں جا کر اپنی نشست میں جاکر بیٹھ جائیں گے ۔ چیئرمین سینیٹ ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کرائیں گے اور نومنتخب ڈپٹی چیئرمین سے حلف لیں گے ۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ون ٹو ون مقابلے کی صورت میں کسی بھی امیدوار کو کامیابی کیلئے 53ووٹ لینے ہوں گے ۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اگر تین امیدوار مقابلے میں ہوئے تو دوبارہ انتخاب ہوگاتیسری پوزیشن پر آنے والے کو آﺅٹ کردیا جائے گااور اگر ان تین امیدواروں میں کسی امیدوار کے دو امیدواروں کے ووٹ ملا کر زیادہ ہوتے ہیں تو اسے کامیاب قرار دیا جائے گا۔ یہی طریقہ کار ڈپٹی چیئرمین کیلئے تین امیدواروں کی موجودگی کی صورت میں اختیار کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرتے ہوئے اس عہدے کے لیے نومنتخب سینیٹرز انوار الحق اور صادق سنجرانی کے ناموں کا اعلان کر دیا جرگہ لیکر خیبر پختونخوا ہاﺅس پہنچ گئے اور مدد کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا شکریہ ادا کیا عمران خان نے کہا ہے کہ اگر کسی مجرم کو پارٹی کا صدر بنایا جا سکتا ہے تو خوف یہی ہے کہ کل کو شریف خاندان کی کرپشن کو قانونی نہ قرار دے دیا جائے اس لیے چاہتے ہیں کسی صورت مسلم لیگ ن کا چیئرمین سینیٹ نہ آئے ا س امر کا اظہار انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وزیر اعلٰی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ عمران خان نے ہمارے پینل کی حمایت کر دی ہے مسئلہ حل ہو گیا ہے چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے ہو گا آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں انہوں نے محمود خان اچکزئی اور میر حاصل بزنجو سے بھی مدد مانگ لی اور کہا کہ بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ لانے کا موقع مل گیا ہے مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور فاٹا کے دوستوں سے بھی بات کریں گے جرگہ لیکر خیبر پختونخوا ہاﺅس آئے اور خوش واپس جا رہے ہیں انوار الحق اور صادق سنجرانی میں سے کوئی ایک چیئرمین سینیٹ کے لیے ہمارا امیدوار نامزد ہو گا اور جلد ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا عمران خان کو دونوں ناموں سے آگاہ کر دیا ہے نام فائنل ہونے پر اس کا اعلان کر دیں گے۔ ادھرحکومتی اتحادی جماعتوں نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی نامزدگی کا اختیار پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نواز شریف کو دے دیا۔حکمران اتحاد کی طرف سے آج (اتوار کو) امیدواروں کا اعلان متوقع ہے ۔اس امر کا اظہار حکمران اتحاد کے چیئرمین سینٹ کے لیے متوقع امیدوار وزیر بندرگاہیں و جہاز رانی میر حاصل خان بزنجو نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد کیا۔حکمران اتحاد میں پاکستان مسلم لیگ(ن)،پختونخوا ملی عوامی پارٹی،نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)،مسلم لیگ(فنگشنل) اور فاٹا کے ارکان پر مشتمل ہے بلوچستان سے آزاد ارکان کی حمایت کے حصول کے لیے میر حاصل بزنجو نے نواز شریف کو مختلف آپشنز سے آگاہ کر دیا ہے۔میر حاصل بزنجو کے ممکنہ طور پر چیئرمین سینٹ بننے پر ان کی جگہ وفاقی کابینہ میں بلوچستان کے آزاد سینیٹرز سے نامزدگی کا ا مکان ہے۔میر حاصل بزنجو نے پنجاب ہاﺅس میں نواز شریف سے ملاقات کی۔ملاقات کے بعد میڈیا کے استفسار پر حاصل بزنجو نے بتایا کہ حکومتی اتحادی جماعتوں نے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے امیدواروں کی نامزدگی کا اختیار نواز شریف کو دے دیا ہے وہ جو فیصلہ کرینگے ہماری حمایت اور تائید حاصل ہو گی آج(اتوار کو )امیدواروں کے ناموں کا اعلان متوقع ہے، کراچی سے صباح نیوز کے مطبق چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے معاملے پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے مسلم لیگ (ن)کی حمایت پر اتفاق کرلیا ۔