هفته 26 مئی 2018ء
هفته 26 مئی 2018ء

صادق سنجرانی چیئر مین ، سلیم مانڈی والا ڈپٹی چیئر مین سینیٹ منتخب

اسلا م آباد(صباح نیوز)سینیٹ میں اپوزیشن کے اتحاد نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی کو بالاخر نیا چیئرمین سینیٹ منتخب کرا لیا ہے۔ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونے والے انتخاب میں 103 سینیٹرز نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔ صادق سنجرانی کو 57 جبکہ ان کے مدمقابل حکومتی اتحاد کے امیدوار راجا ظفر الحق صرف 46 ووٹ حاصل کر پائے۔ سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر نے نومنتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے حلف لیا جس کے فوری بعد انہوں نے ایوانِ بالا کے قائد کی نشست سنبھال لی۔اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے ووٹنگ ہوئی جس میں اپوزیشن کی جانب سے سلیم مانڈوی والا اور حکومتی اتحاد کی جانب سے عثمان کاکڑ مدمقابل آئے۔ سلیم مانڈوی والا 54 ووٹ لے کر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے جبکہ عثمان کاکڑ 44 ووٹ حاصل کر پائے۔ خیال رہے کہ ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے حصہ نہیں لیا۔بلوچستان کے علاقے چاغی سے تعلق رکھنے والے نومنتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا عوامی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا تاہم وہ سابق وزرائے اعظم میاں محمد نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے کوآرڈینیٹر رہ چکے ہیں۔ صادق سنجرانی 1998 میں میاں نواز شریف کے کوآرڈینیٹر رہے جبکہ بعد ازاں 2008 میں اس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا جس کے بعد وہ پانچ سال تک اسی منصب پر فائز رہے۔ رپورٹس کے مطابق صادق سنجرانی سابق صدر آصف علی زرداری سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔سینیٹ کے کل ارکان کی تعداد 104 ہے لیکن خفیہ ووٹنگ میں 103 ارکان نے حصہ لیا۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین بننے کیلئے 52 ووٹ درکار تھے۔ سینیٹ میں مسلم لیگ (ن)کے سینیٹرز کی تعداد 33 ہے جن میں سے اسحاق ڈار بیرون ملک ہونے کے باعث ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے۔اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کو پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 5، نیشنل پارٹی 5، جے یو آئی(ف) 4، مسلم لیگ فنکشنل، اے این پی اور بی این پی مینگل کے ایک ایک ارکان کی حمایت بھی حاصل تھی، جن کی کل تعداد 50 بنتی ہے۔ جماعت اسلامی نے بھی ن لیگ کی حمایت کا اعلان کیا تھا جن کے پاس سینیٹرز کی تعداد 2 ہے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی 20، تحریک انصاف 13، بلوچستان کے آزاد سینیٹرز 6 اور یوسف بادینی کے ووٹ کو شامل کر کے کل تعداد 40 بنتی ہے۔ ایم کیو ایم اور فاٹا اراکین نے بھی اپوزیشن کے آزاد امیداوار کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔قبل ازیں پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ کے 52 نومنتخب ارکان نے حلف اٹھالیا جب کہ اسحاق ڈار بیرون ملک ہونے کے باعث حلف نہ اٹھا سکے۔ہفتہ کو سیکرٹری سینیٹ کی زیرصدارت ایوان بالا کے اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ سیکرٹری سینیٹ نے قواعد کے مطابق صدارت کی ذمہ داری پریذائیڈنگ افسر سردار یعقوب ناصر کو سونپی۔ سردار یعقوب ناصر نے نومنتخب 52 ارکان سے حلف لیا۔ حلف برداری کے بعد نو منتخب ممبران نے سینیٹ رول آف ممبرز اور حاضری رجسٹر پر دستخط کیے۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بیرون ملک ہونے کے باعث حلف نہیں اٹھا سکے جب کہ مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر اسد اشرف نے نہال ہاشمی کی خالی نشست پر حلف اٹھایا ہے۔ اسحاق ڈار سمیت 52 سینیٹرز 6 سال کے لیے ملک کے ایوان بالا کے رکن بن گئے ہیں جب کہ ڈاکٹر اسد اشرف 3 سال کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔