جمعرات 13 دسمبر 2018ء
جمعرات 13 دسمبر 2018ء

زلزلہ متاثرین کے لیے کتنی امداد آئی ،خرچ کتنی ہوئی،سپریم کورٹ نے تفصیل مانگ لی

اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومت سے2005کے زلزلہ متاثرین کو ملنے والی امدادکے استعمال سے متعلق تفصیلات طلب کرلی ہیں جبکہ اب تک متاثرہ علاقوں میں ہونے والے کام کا سروے کرنے کےلئے کمیشن تشکیل دے دیا ہے ، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے پیش کردہ ضوابط کار تسلیم کرتے ہوئے سیشن جج مانسہرہ پر مشتمل کمیشن کوہدایت کی ہے کہ تین ہفتوں میں سروے کرکے رپورٹ پیش کریں ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے 2005کے زلزلہ متاثرین کو ملنے والی امدادکے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز کیا توچیف جسٹس نے استفسار کیاکہ زلزلے کے بعد ایر اکو اربوں روپے کے فنڈزملے تو زلزلہ متاثرین کے لئے کیا ترقیاتی کام ہوئے ؟ اد دوران درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 2005 کے زلزلے میں 17 ہزار جنازے اٹھے،ایک لاکھ لوگ زخمی ہوئے لیکن متاثرین زلزلہ کے لئے ایرا اور پیرا نے کیاکیا،یہ بات دونوں اداروں سے پوچھی جانی چاھیے۔ان اداروں نے لگژری گاڑیاں اور بڑی تنخواہیں لینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ بتایا جائے ایرا کا سربراہ کون ہے۔ نمائندہ ایرا نے بتایا کہ ایرا کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل عمر حیات ہیں۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ پیرا کا سربراہ کون ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیاکہ زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لئے اب تک ایرا نے کیا کیا؟متاثرین کی شکایت ہے کہ زمین پر کچھ نہیں ہوا،کیا متاثرین کی شکایت کبھی ایرا نے سنی، اس دوران ڈی جی ایڈمن ایرا نے بتایاکہ شکایات سننا وفاقی اور صوبائی حکومت کا کام ہے،متاثرین کی بحالی کے لیے ادارے نے کام کیا ہے، محمد لطیف کا کہنا تھا کہ 65سو لوگوں کو ایک لاکھ روپے تک معاوضہ دیا گیا ہے، لوگوں کو شیلٹر ہوم بھی بنا کر دیئے گئے اور گھروں کی تعمیر کے حوالے سے بھی متاثرین کو معاوضہ دیا گیا، محمد لطیف کاکہناتھا کہ ایرا نے دوہزار نو کے بعد کوئی گاڑی نہیں خریدی، دو ہزار نو کے بعد صرف ایک بس خریدی گئی جبکہ ایرا کو تمام فنڈنگ بیرون ملک سے ملتی ہے،یہ تمام فنڈنگ وفاقی حکومت کو ملتی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ بیرون ملک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی فنڈنگ ہوئی، جب چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا آپ کے مطابق متاثرہ علاقے میں سب کچھ ہو گیا ہے؟تو محمد لطیف نے بتایاکہ چینی امداد اور پی ایس ڈی پی فنڈز ملے انکا آڈٹ ہوا، متاثرین کے لیے گیارہ ہزار چھ سو کنال اراضی حریدی گئی، دو ہزار دس میں صرف چالیس فیصد زمین کا قبضہ ملا، ان کا کہنا تھا کہ سیکٹر سی این ڈی کو ڈیولپ کیا جا چکا ہے، اس دوران درخواست گزار کاکہنا تھا کہ بالاکوٹ میں تیرہ سال سے ہسپتال نہیں بن سکا، کنگ عبداللہ ہسپتال 2013 میں مکمل ہونا تھا تاہم اب تک مکمل نہ ہو سکاآپ کسی جج سے بالاکوٹ کا سروے کرا لیں،چیف جسٹس نے کہاکہ اس ضمن میں ضابطہ کار ( ٹرمز آف ریفرنس،ٹی او آرز)بنا لیتے ہیں، سیشن جج کو کمیشن بنا دیتے ہیں جو سروے کر کے رپورٹ دے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں کام ہونا ہے، اس حوالے سے ہمیں ورکنگ پلان دیا جائے، ہسپتال کی بجائے بالاکوٹ میں کلینک بنا دیا گیا ہے، مجھے کام چاہیے، خود جا کر بھی جائزہ لے سکتے ہیں، چیف جسٹس نے خبردار کیاکہ جو بھی ذمہ دار ہوا اسکو نہیں چھوڑیں گے، ایراکے نمائندے محمد لطیف کا کہنا تھا کہ ہم خود آپکو وزٹ کرا لیتے ہیں، متاثرہ علاقوں میں تین ہسپتال فعال ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے سروے کروالیتے ہیں پھر خود بھی وزٹ کر لینگے آپ تصور کریں ان لوگوں کے ساتھ حادثہ کیا ہوا ، مدد امداد کرنے والے لوگ زلزلہ سے فقیر بن گئے،ایرا نے انکی آباد کاری کرنی تھی لیکن ایرا چھوٹے موٹے کاموں میں پڑگیا۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم