جمعه 16 نومبر 2018ء
جمعه 16 نومبر 2018ء

بجٹ پیش ۔ملازمین کی تنخواوں میں اضافہ

اسلام آباد(صباح نیوز)مالی سال19-2018کیلئے 5 کھرب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دےا گےا ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ پےش کیا۔وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 59 کھرب 32 ارب 50 کروڑ روپے ہے۔دفاع کے لیے 1100 ارب مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4435 ارب روپے رکھا گیا ہے۔تعلیم کے لیے 97 ارب روپے،صحت کے شعبے کے لیے 13.9 ارب روپے ،پانی کے ذخیروں کے شعبے کے لیے 70 ارب روپے،پاکستان ریلوے کی ترقیاتی سرمایہ کاری کے لیے 39 ارب روپے،قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 1620 ارب روپے،یکم جولائی 2018 سے سول اور فوجی ملازمین کے لیے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الانس دیا جائے گا جبکہ تمام پنشرز کے لیے بھی یکساںدس فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔حکومت نے دفاعی بجٹ میں آنندہ مالی سال کے لیے تقریبا 10.12 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے اور یہ رقم 999 ارب روپے سے بڑھا کر 1100 ارب روپے کی جائے گی۔بچوں کی غذائیت کے پروگرام کے لیے 10 ارب روپے ،بجلی کی پیدوار کے لیے 138 ارب روپے ،تونائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے 138 ارب روپے ،کراچی کے لیے 25 ارب روپے،پی ایس ڈی پی کے لیے 800 ارب روپے، رکھے گئے ہےں،کراچی کے لیے 25 ارب روپے کے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گےا ہے ،سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے لیے وفاقی بجٹ میں 800 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کا کل حجم 1030 ارب ہوگا۔ مختص 800 ارب کے علاوہ اضافی 230 ارب کارپوریشنز/حکام کی خود سرمایہ کاری کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔زرعی قرضوں کا ہدف 1100 ارب رکھا گیا ہے،زرعی مشینری پر سیلز ٹیکس سات فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کر دیا گیا ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 125 ارب روپے مختص کےے گئے ہےں،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4435 ارب روپے، افراط زر کی شرح چھ فیصد سے کم رکھنے کا ہدف جبکہ جی ڈی پی کا ہدف 6.2 فیصد رکھا گےا ہے ۔مالی سال 19-2018 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کا ہدف گذشتہ برس کے مقابلے میں اعشاریہ دو فیصد اضافے کے بعد 6.2 فیصد رکھا گیا ہے جبکہ بجٹ خسارہ 4.9 فیصد لانے کا ہدف ہے۔ بجٹ کا مجموعی حجم 59 کھرب 32 ارب 50 کروڑ روپے ہے جو کہ گذشتہ بجٹ سے 16.2 % ہے۔تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی چھوٹ کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے اور اب 12 لاکھ روپے سالانہ تک آمدن ٹیکس فری ہو گی۔12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے سالانہ کمانے والوں کو 12 لاکھ سے زیادہ آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔24 لاکھ سے 48 لاکھ روپے آمدن والوں کو 24 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 10 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔48 لاکھ سے زائد آمدن رکھنے والوں کو 15 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کرنا ہوگی۔