پیر 10 دسمبر 2018ء
پیر 10 دسمبر 2018ء

پڑوسی مما لک سے بہتر تعلقات رکھیں گے،عمران خان

اسلام آباد (دھرتی نیوز )پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انتخابات 2018جیتنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان کو ایسی گورننس دیں گے جو پہلے کسی حکومت نے نہیں،احتساب سب سے پہلے عمران خان سے شروع ہوگا، اس کے بعد میرے وزراءکا احتساب ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ 22 سال کی جدوجہد کے بعد اللہ نے مجھے موقع دیا ہے کہ میں اپنے خواب کو پورا کر سکوں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن ایک تاریخی الیکشن ہو ا، میں نے ملک کو اوپر اور نیچے ا?تا دیکھا ،اس الیکشن میں دہشت گردی ہوئی، بلوچستان کے لوگوں کو داد دیتا ہوں جس طرح بلوچستان کے لوگ نکلے وہ داد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی گورننس دیں گے جو آج سے پہلے کسی حکومت نے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کا نظام اور جس کی لاٹھی بھینس والا نظام نہیں چل سکتا ، میں آپ کو ثابت کرکے دکھاوں گا کمزور طبقے کو اوپر لے جانے کے لیے پالیسی بناوئں گااور کوشش ہوگی کہ پورا زور لگائیں کہ نیچےکا طبقہ اوپر آجائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک ملک کی پہچان یہ نہیں ہوتی کہ امیر لوگ کیسے رہتے ہیں بلکہ غریب کی حالت سے ہوتی ہے۔پی ٹی آئی چیئرمیں نے کہا کہ سارا پاکستان متحد ہوجائے،میرے اوپر ذاتی حملے کیے گئےجو کسی سیاستدان پر نہیں ہوئے، وہ سب باتیں میں بھول چکا ہوں ، کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائیں گےجبکہ ہم ایسے مضبوط ادارے بنادیں گے جو کرپشن روکیں گے۔اس موقع پر عمران خان کاکہنا تھا کہ ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور انویسٹرز کو ملک میں واپس لے کر آئیںگئے۔ میں سب سے پہلے وعدہ کرتا ہوں عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ سادگی قائم کریں ، اپنے خرچے کم کریںجو بھی ہمارا پیسہ ہوگا وہ انسانوں کی فلاح پر خرچ ہوگا، ہمیں ادارے مضبوط کرنے ہیں ،خرچے کم کرنے ہیں جبکہ ہماری حکومت فیصلہ کرے گی کہ وزیر اعظم ہاﺅس کا کیا کرنا ہےاور ہم سارے گورنر ہاوس کو عوام کے استعمال کے لیے بنائیں گے۔انہوں نےبتایا کہ ہماری خارجہ پالیسی پر بڑا چیلنج ہے،ہم پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں جبکہ ہم چین سے تعلقات مزید بہتر کریں گےتاہم سب سے زیادہ افغانستان کے لوگوں نے نقصان اٹھایا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ افغانستان میں امن لانے میں کردار ادا کریں ،ایران سے ہم اپنے تعلقات اور بہتر کرنا چاہتے ہیں جبکہ مجھے تھوڑا افسوس ہوا کہ ہندوستان کے میڈیا نے میرے خلاف مہم چلائی اور ایسے لگا کہ میں بالی ووڈ فلم کا ولن ہوں لیکن میں وہ پاکستانی ہوں جو سمجھتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے بہتر تعلقات برصغیر کے لیے بہتر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم کشمیر کا مسئلہ ٹیبل پر بیٹھ کر حل کریں ،میں یہ چاہوں گا کہ بھارت کی لیڈر شپ اگر تیار ہے تو ہم بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں، بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا ہم دو قدم آگے بڑھیں گے۔عمران خان نے کہا کہ انشاللہ میں ثابت کرکے دکھاوئں گا ہم گورننس بہتر کرسکتے ہیں،میں آپ کی طرح کا شہری ہوں ،میں سادگی اختیار کروں گا ،میں وعدہ کرتا ہوں آپ مختلف قسم کی پاکستان میں گورننس دیکھیں گے ،میں ہر مظلوم طبقے کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ الیکشن کمیشن دونوں مرکزی سیاسی جماعتوں نے بنایا ،یہ الیکشن کمشنر ہمارا نہیں ،ساری جماعتوں سے کہتا ہوں جس حلقے کا کہیں گے وہاں کے حلقے کھلواﺅں گا اورجہاں دھاندلی کا کہہ رہے ہیں وہاں دھاندلی کی تحقیقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم