بدھ 26  ستمبر 2018ء
بدھ 26  ستمبر 2018ء

حکومت پاکستان کا مزید تین ٹاسک فورسزکا اعلان،تسنیم اسلم بھی شامل

اسلام ااباد(اے این این ) وزیراعظم عمران خان نے حکومتی معاملات میں کفایت شعاری، سول سروس میں اصلاحات، اور قبائلی علاقے( فاٹا)کا خیبر پختونخوا میں انضمامی عمل مکمل کرنے کے لیے 3 ٹاسک فورس تشکیل دے دیں۔ٹاسک فورس برائے سادگی اور حکومتی تنظیمِ نو(ٹی ایف اے آر جی18)اراکین پر مشتمل ہے جو حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے اور حکومتی شعبہ جات کی تنظیمِ نو کرنے کے لیے تجاویز دے گی۔ذرائع کے مطابق ٹاسک فورس برائے سادگی اورحکومتی تنظیمِ نو کی سربراہی وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری ، ڈاکٹر عشرت حسین کریں گے۔ٹاسک فورس کے اراکین میں کشف فاو¿نڈیشن کی مینجنگ ڈائریکٹر روشانے ظفر، فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے سابق چیئرمین عبداللہ یوسف، سابق وفاقی سیکریٹری طارق کھوسہ، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے جنرل مینیجر برہان رسول، سابق سیکریٹری خزانہ سلمان صادق اور واجد رانا، ایف بی آر کے رکن رانا احمد، ارنسٹ اینڈ ینگ کے سابق مینیجنگ پارٹنر اسد علی شاہ، سابق سیکریٹری خارجہ تسنیم اسلم، کنٹری ڈائریکٹر آف انٹرنیشنل گروتھ اعجاز نبی اور دیگر شامل ہیں۔سول سروس اصلاحات کے سلسلے میں بنائی جانے والی ٹاسک فورس (ٹی ایف سی آر)کی سربراہی بھی ڈاکٹر عشرت حسین کریں اور اس میں 19 اراکین شامل ہیں۔اس ٹاسک فورس کے اراکین میں بیکن ہاو¿س نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر شاہد کاردار، پلاننگ کمیشن کے سابق ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر ندیم الحق، ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹریز ڈاکٹر ثانیہ نشتراور سلیمان غنی، وکیل سلمان راجہ، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے علی چیمہ اور عمیر جاوید، سابق وفاقی سیکریٹری اعجاز احمد قریشی، سندھ ایجوکیشن فانڈیشن کی مینیجنگ ڈائریکٹرناہید درانی اور دیگر شامل ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے قبائلی علاقوں فاٹا اور پاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے بھی ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دی جو اس سلسلے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے اور یہ عمل آسان بنانے کی نشاندہی کرے گی۔یہ ٹاسک فورس 11 اراکین پر مشتمل ہے جس کی سربراہی بطور کنوینر وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ محمد شہزاد ارباب کریں گے۔اس ٹاسک فورس کے اراکین میں خیبر پختونخوا کے گورنر اور وزیراعلی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری،سینیٹر ہدایت اللہ، وفاقی سیکریٹری برائے سیفرون, خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری، فاٹا کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، ملٹری جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ایم او کے نمائندے اور دیگر شامل ہیں