پیر 10 دسمبر 2018ء
پیر 10 دسمبر 2018ء

کرتارپور سرحد سے کشمیریوں کو بھی آمد ورفت کی اجازت

لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں کرتارپور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھے جانے کے موقع پر وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اس راہداری کی تعمیر کا فیصلہ ذہن اور سوچ میں آنے والے تبدیلی کا عکاس ہے۔بدھ کو مغربی نشریاتی ادارے کو ایک خصوصی انٹرویو میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ راہداری انڈیا اور پاکستان کے درمیان ’مذاکرات کا، مل بیٹھنے کا، دوریاں کم کرنے اور فاصلے مٹانے کا راستہ ہے۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بدھ کو کرتارپور میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان پہلی ’ویزا فری‘ راہداری کا سنگِ بنیاد رکھ رہے ہیں جبکہ انڈیا میں دو دن قبل ملک کے نائب صدر نے ایک تقریب میں یہ عمل سرانجام دیا ہے۔اس تقریب میں پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ بھی شرکت کر رہے ہیں جبکہ انڈیا نے اپنے دو وزرا کو بھی تقریب میں نمائندگی کے لیے بھیجا ہے۔کرتارپور راہداری پر حالیہ بات چیت کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں آئے انڈین کرکٹر نوجوت سدھو نے اس بارے میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بات چیت کی۔ پھر وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے اس بات کا باضابطہ اعلان کر کے انڈیا میں بسنے والے سکھوں کے ارمان جگا دیے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان پر کرتارپور راہداری بنانے کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا۔ ’پہلے دن سے وزیرعظم عمران خان کی خواہش تھی کہ ہمارے خطے میں امن ہو۔ ان کی سوچ ہے کہ ٹھیک ہے کہ ہمارے (انڈیا سے) تنازعات ہیں، تاریخی تنازعات ہیں، تو ان کا حل کیا ہے؟ جنگ تو حل نہیں ہے۔ دو ایٹمی طاقتیں ہیں، لڑائی کرنا تو خوکشی کے مترادف ہوگا، لڑائی کی تو گنجائش نہیں ہے، تو پھر راستہ کیا ہے؟‘وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’کرتارپور راہداری فاصلہ مٹانے کی ایک زبردست کاوش ہے۔ آپ دیکھیں لوگ آیا کرتے تھے، واہگہ کے ذریعے آیا کرتے تھے، جو چار سو کلومیٹر کا راستہ تھا وہ ہم چار کلومیٹر پر لے آئے ہیں۔ تو راستے کم ہوگئے ہیں۔ جب راستے کم ہوں گے اور آمد و رفت میں اضافہ ہوگا، تو تعلقات میں بہتری آئے گی،مستقبل کے بارے میں وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے لوگوں کی آمد و رفت بڑھے۔’آج اگر حالات بہتر ہوں، تو یہاں سے بھی بہت سے لوگ اجمیر شریف جانا چاہیں گے، بہت سی کشمیری فیملیز ہیں جو آزاد کشمیر آنا چاہیں گی، اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے گلے ملنے کے لیے شادی غمی میں شامل ہونے کے لیے تو اس سے ماحول تبدیل ہو سکتا ہے۔’ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ممکنات ہیں، اگر سیاسی قیادت کی سوچ میں وسعت ہے، اور ارادہ پختہ ہے، سب کچھ ہو سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’جب لوگوں سے لوگوں کے روابط بڑھتے ہیں، جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو تاثرات تبدیل ہوتے ہیں، یہ خطہ غربت میں جکڑا ہوا ہے، یہ خطہ جہالت کی نذر ہوا ہے۔ ہم نے یہاں تبدیلی لانی ہے، اور تبدیلی کہاں سے آتی ہے، ذہنوں سے آتی ہے، رویوں سے آتی ہے، تو کرتارپور کا یہ جو فیصلہ ہے، یہ ذہن کی تبدیلی ہے۔ یہ سوچ کی تبدیلی ہے، جو کہ دوریوں کو کم کرتی ہے اور قربت میں اضافہ کرتی ہے، اور کہتی ہے ہاں آئیے مل بیٹھیں۔ تنوع میں بھی اتحاد ہو سکتا ہے، مل کر رہ سکتے ہیں۔وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ ’سکیورٹی اور احتیاط‘ کے لیے راہداری کے دونوں طرف باڑ لگائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہیں گے جو آئیں خیر و خیریت سے آئیں اور خیریت سے واپس جائیں، انھیں کوئی پاسپورٹ کی کسی ویزہ کی ضرورت نہیں ہوگی

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم