منگل 21 مئی 2019ء
منگل 21 مئی 2019ء

معروف صحافی، کالم نگار ودانشور مقتدا منصور انتقال کر گے

  راولاکوٹ ( دھرتی نیوز) کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی،کالم نگار اور بائیں بازو کے دانشور مقتدہ منصور علالت کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں انتقال کر گے۔وہ تاریخ کے بہترین استاد تھے اور متعدد جامعات میں تدریسی فرائض بھی سرانجام دئیے۔وہ صحافیوں کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبوں پر کام کرنے والی کئی غیر سرکاری تنظیمات سے بھی وابستہ رہے ،روزنامہ ایکسپریس میں ہفتہ وار کالم ’’صدائے جرس‘‘ کے عنوان سے لکھتے تھے۔زمانہ طالب علمی میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان سے وابستہ رہے۔پاک بھارت تعلقات اور پاک امریکہ تعلقات کے عروج و زوال ،سندھ اور کشمیر کی تاریخ پر انہیں مکمل عبور تھا۔اور یہ ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔انکی وفات پر روز نامہ دھرتی کے چیف ایڈیٹر عابد صدیق،نیوز ایڈیٹر اور صدر غازی ملت پریس کلب اعجاز قمر اور دیگر اسٹاف ممبران نے ان کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور ان کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ۔دریں اثناء غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ کے سرپرست اعلیٰ سردار نذر محمد ، سنیئر نائب صدر راجہ حفیظ کیانی ، نائب صدر حمید اللہ ، جنرل سیکرٹری عامر حنیف ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ساجد محمود انور ، سیکرٹری فنانس محمد فاروق ،ممبران مجلس عاملہ سردار عبدالرزاق ، مسعود احمد گردیزی ، راشد نذیر ، محمد سہیل خان، ظفر نذیر ، ممبران راجہ عزیز کیانی ، عمران ایوب ، شفقت ضیاء ، اعجاز صدیقی، احسان الحق ، زاہد بشیر ، محمد ذوالفقار ،سابق ممبران حارث قدیر ، محمد شہزاد نے نامور صحافی مقتدہ منصور کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی وفات سے شعبہ صحافت میں ایک ایسا خلاء پیدا ہو گیا جسے پرکرنا انتہائی مشکل ہے ، انہوں نے آزادی صحافت اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے جو خدمات ، قربانیاں دیں وہ ناقابل فراموش ہیں ، ان کی مدتوں پوری نہیں کی جا سکے گی ۔ معروف صحافی، کالم نگار ودانشور مقتدا منصور انتقال کر گے راولاکوٹ ( دھرتی نیوز) کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی،کالم نگار اور بائیں بازو کے دانشور مقتدہ منصور علالت کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں انتقال کر گے۔وہ تاریخ کے بہترین استاد تھے اور متعدد جامعات میں تدریسی فرائض بھی سرانجام دئیے۔وہ صحافیوں کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبوں پر کام کرنے والی کئی غیر سرکاری تنظیمات سے بھی وابستہ رہے ،روزنامہ ایکسپریس میں ہفتہ وار کالم ’’صدائے جرس‘‘ کے عنوان سے لکھتے تھے۔زمانہ طالب علمی میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان سے وابستہ رہے۔پاک بھارت تعلقات اور پاک امریکہ تعلقات کے عروج و زوال ،سندھ اور کشمیر کی تاریخ پر انہیں مکمل عبور تھا۔اور یہ ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔انکی وفات پر روز نامہ دھرتی کے چیف ایڈیٹر عابد صدیق،نیوز ایڈیٹر اور صدر غازی ملت پریس کلب اعجاز قمر اور دیگر اسٹاف ممبران نے ان کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور ان کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ۔دریں اثناء غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ کے سرپرست اعلیٰ سردار نذر محمد ، سنیئر نائب صدر راجہ حفیظ کیانی ، نائب صدر حمید اللہ ، جنرل سیکرٹری عامر حنیف ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ساجد محمود انور ، سیکرٹری فنانس محمد فاروق ،ممبران مجلس عاملہ سردار عبدالرزاق ، مسعود احمد گردیزی ، راشد نذیر ، محمد سہیل خان، ظفر نذیر ، ممبران راجہ عزیز کیانی ، عمران ایوب ، شفقت ضیاء ، اعجاز صدیقی، احسان الحق ، زاہد بشیر ، محمد ذوالفقار ،سابق ممبران حارث قدیر ، محمد شہزاد نے نامور صحافی مقتدہ منصور کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی وفات سے شعبہ صحافت میں ایک ایسا خلاء پیدا ہو گیا جسے پرکرنا انتہائی مشکل ہے ، انہوں نے آزادی صحافت اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے جو خدمات ، قربانیاں دیں وہ ناقابل فراموش ہیں ، ان کی مدتوں پوری نہیں کی جا سکے گی ۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم