بدھ 01 اپریل 2020ء
بدھ 01 اپریل 2020ء

صدر پاکستان کا صدر آزاد کشمیر کو فون،ہرممکن مدد کی یقین دہانی

مظفرآباد (    دھرتی نیوز    )صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے منگل کے روز صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کو ٹیلی فون کر کے آزاد کشمیر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھا م کے لیے تیاریوں اور عوام کی بھلائی کے لیے اُٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے صدر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُنہیں آزاد کشمیر بھر  میں لاک ڈاؤن اور کرونا کے مشتبہ مریضوں کو تلاش کرنے اور قرنطینہ منتقل کر کے عالج معالجے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ جو لوگ حالیہ دنوں میں بیرون ملک سے واپس آئے یا وہ لوگ جو سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اُن پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے اپنی طرف سے اور پاکستان عوام کی طرف سے آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا  کو آزاد کشمیر میں کرونا وائرس کا صرف ایک مریض سامنے آیا ہے  جسے میرپور قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم صدر پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جہاں عوام پہلے ہی لاک ڈاؤن اور محاصرے کے اندر رہ رہے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے صدر پاکستان کو بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل مواصلاتی ناکہ بندی کی وجہ سے کرونا وائرس کے حوالہ سے مصدقہ اعداد و شمار کا حصول نا ممکن ہے لیکن جو اطلاعات مل رہی ہیں اُن کے مطابق کرونا وائرس کے بارے میں معلومات پر پاپندی نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ایک نہایت خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر ایک جانب کرونا وائرس کے مریضوں کی موجودگی اور دوسری طرف انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے عام لوگوں کو کرونا کے حوالے سے طبی معلومات تک عدم رسائی نے صورتحال کو نہایت سنگین بنا دیا ہے۔ بھارت کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف اور دوسری طبی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے کرونا وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ ہے۔صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور بھارت کی طرف سے کشمیری عوام پر نارووا  پابندیوں کی وجہ سے سخت تشویش ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے کشمیریوں کے مصائب و مشکلات اور اُن کے حق خود ارادیت کی جدوجہد سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اُنہوں نے 23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے قائدین کی طرف مبارکباد اور خیر سگالی کے پیغامات بھیجنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے صدر پاکستان کو کرونا کے حوالہ سے آزا کشمیر حکومت کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ آزاد کشمیر کے دس اضلاع میں متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کی سربراہی رپیڈ ریسپانس ٹیمیں تشکیل دے گی گئی ہیں جو مریضوں کے علاج معا لجہ میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ان ٹیموں کو کرونا کے حوالہ سے رابطہ کاری، تدارک اور مانیٹرنگ کے فر ائض تفویض کئے گئے ہیں اور اُنہیں محکمہ مال، ای پی آئی اور سول سوسائٹی تنظیموں کی مکمل مدد بھی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے دس ہسپتالوں میں کرونا کے متوقع مریضوں کے لیے علیحدہ وارڈز  بھی قائم کیے گئے ہیں جبکہ کرونا کے مشتبہ مریضوں کے لیے ٹیسٹ کے حوالے سے آزاد کشمیر اس وقت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ(این آئی ایچ) پر انحصار کر رہا ہے۔ لیکن آزاد کشمیر کا محکمہ صحت مظفرآباد میں قائم ایک وائرلوجی لیبارٹری کو اپ گریڈ کر کے کرونا کی تشخیص کے لیے بھی کوشاں ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے مذید بتایا کہ آزاد کشمیر سے کرونا کے مشتبہ ساٹھ مریضوں کے نمونے این آئی ایچ بھیجے گئے جن میں سے چالیس کے رزلٹ موصول ہوئے اور ان چالیس افراد میں سے اُنتالیس کے رزلٹ منفی اور ایک مثبت تھا۔ آزاد کشمیر میں الحمداللہ کسی مریض کی اب تک موت واقع نہیں ہوئی۔ صدر سردار مسعود خان نے آزاد کشمیر کے عوام کی طرف سے حکومت کو بھرپور تعاون فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا  اور کہا کہ حکومت کو اب تک کرونا کے حوالہ سے صحت و صفائی، لاک ڈاؤن، سماجی فاصلہ اور دیگر فیصلوں پر عملدرآمد کرنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہے۔ صدر نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کی کرونا کے متاثرین کو ریلیف فرہم کرنے کی تیاریوں کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام کو واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ لاک ڈاؤن کرفیو نہیں ہے بلکہ یہ قوم کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے ایک حفاظتی اقدام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام حکومت کے ساتھ دست تعاون بڑھا رہے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے ملک کی مسلح افواج کی طرف سے قرنطینہ سٹاف کی تربیت پر شکریہ ادا کیا اور علماء کی طرف سے اس ناگہانی آفت کے سدبات کے لیے مثبت کردار ادا کرنے پر اُنہیں خراج تحسین پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ علماء کرام انسانی جانیں بچانے میں حکومت  کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم کرونا کے خلاف جنگ میں صرف اسی صورت میں فتح مند ہو سکتے ہیں جب اس وبا سے کم سے کم جانی نقصان ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ ہمیں اللہ تبارک تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں اور پوری انسانیت کو اس وبا سے محفوظ رکھے (آمین)۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم