واشنگٹن .....دھرتی نیوز....فیس بک کی ترجمان کرسٹین چن کے مطابق فیس بک انتظامیہ نے پاکستانی حکومت کا مطالبہ اپنے صارفین کی حقوق کے تحفظ کے پیش نظر مسترد کر دیا ہے۔واشنگٹن .....دھرتی نیوز....پاکستان نے جعلی اکاؤنٹس بنا کر فیس بک پر قابل اعتراض مواد کی اشاعت روکنے کے لیے فیس بک کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں اپنے صارفین کے اکاؤنٹس موبائل فون نمبر سے منسلک کر دے تاکہ ڈیٹا بیس کے ذریعے ان کا کھوج لگا کر ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔واشنگٹن .....دھرتی نیوز....ہم اپنی کمیونٹی کو حکومت کی غیر ضروری اور حد سے زیادہ مداخلت سے تحفظ فراہم کرنے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ترجمان

اشفاق احمد کا نام ادب کی دنیا میں ایسے ہی ہے جیسے کسی گاڑی کا ”ٹائی راڈ“ ہو۔ وہ اردو کے مشہور و معروف افسانہ نگار، ڈرامہ نویس ، ناول نگار، مترجم اور براڈ کاسٹر رہے۔ ان کی ڈرامہ سیریل” ایک محبت سو افسانے“ پاکستان ٹیلی وژن کی لازوال ڈرامہ سیریل رہی۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے، اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔وہ دیال سنگھ کالج، لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر ہے۔ بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگئے۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔اٹلی میں اپنے قیام کے دوران پیش آنے والے ایک واقعہ کو وہ یوں بیان کرتے ہیں۔”روم میں رہتے ہوئے ایک دفعہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر میری گاڑی کا چالان ہو گیا ،میں مصروفیات کے باعث مقررہ تاریخ سے پہلے چالان کی فیس جمع نہ کروا سکا جس پر مجھے وہاں کی عدالت میں جانا پڑا۔جج کے سامنے پیش ہوا تو اس نے لیٹ ہونے کی وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ میں پروفیسر ہوں اور مصروف ایسا رہا کہ وقت ہی نہیں ملا،اس سے پہلے کہ میں بات پوری کرتا جج نے کہاA TEACHER IS IN THE COURT پھر کیا ہوا کہ وہاں موجود سب لوگ کھڑے ہو گے ،جج نے مجھ سے معافی مانگی اور چالان معاف کر دیا۔بس اس روز میں اس قوم کی ترقی کا راز جان گیا“۔ ہمارے ہاں پروفیسرز بلکہ استاد کی حیثیت بتدریج کم ہوتی گئی ،اس کی عزت میں بھی کمی آتی گئی اور معاشرے میں وہ مقام نہ رہا جو آج سے پندرہ یا بیس سال پہلے تھا۔اگر نوے کی دہائی میں دیکھیں تو استاد جس پبلک سروس گاڑی میں سفر کرتا تھا طالب علم اس گاڑی میں نہیں بیٹھتا تھا۔وہ جس محفل میں بیٹھے ہوں وہاں عام طورپرشاگرد نہیں بیٹھتے تھے ۔استاد کی کہی ہوئی بات پر یقین کیا جاتا تھا ۔یہ تو عام استاد کا احترام تھا پروفیسرکا مقام اور بلند ہوتا تھا ۔عام خیال یہ ہے کہ جب سے پرائیویٹ تعلیمی ادارے وجود میں آئے عزت و احترام کی تنزلی بھی ساتھ ساتھ شروع ہو گئی ۔طلبہ کی تعلیم ،خاص کر انگریزی زبان پر تو توجہ دی گئی لیکن تربیت کا فقدان رہا۔بڑے چھوٹے کی تمیز ختم ہو گئی اور استاد شاگرد کا تعلق بھی وہ نہ رہا جو نوے کی دہائی یا اس پہلے تھا۔لاری اڈوں پر استاد کو اگلی نشست سے محض اس لیے اٹھا کر پچھلی نشست پر بیٹھا یا جاتا ہے کہ اگلی نشست پر پولیس کے انسپکٹر صاحب بیٹھیں گے۔ایک ہفتہ پہلے ہی وویمن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد حلیم خان سمیت چار پروفیسرز کو جو اب انتظامی عہدوں پر فائز ہیں کو اس لیے گرفتار کر لیا گیا کہ انہوں نے میرٹ سے ہٹ کر تقریاں کی ہیں اب عدالت نے انہیں محض تین، تین لاکھ روپے کے مچلکوں پر ضمانت دے دی۔اسی دوران اخبارات میں بیان بازی بھی بڑی دلچسپ آتی رہی ۔کہ وائس چانسلر پروفیسر یا استاد کے زمرے میں نہیں آتے۔اس بحث میں پڑے بغیر کہ انہوں نے تقریاں غلط کی ہیں یا صحیح،ان کی سروس ریکارڈ کا جائزہ لےتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد حلیم خان نے برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ،اپنی 37 سالہ سروس کے دوران 20 سال تدریسی فرائص سرانجام دئیے ،باقی سروس انتظامی عہدوں میں گذری۔ان کی اکیس پبلی کیشن ہیں ،کمیسٹری کی دو کتابیں لکھی ہیں جن کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی۔انہوں نے سات بین الاقوامی اور 8 مقامی کانفرنسوں میں شرکت کی ۔ان کی نگرانی میں 6 طلبہ نے ڈاکٹریٹ اور 16 طلبہ نے ایم فل مکمل کی۔2003 سے 2010 تک انہیں دو بار بہترین” استاد“ کا خطاب ملا۔انہیں 4 مرتبہ بہترین سکالر شپ کا ایوارڈ دیا گیا ۔وہ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی میں ڈین فکیلٹی آف سائنس اور چیرمین شعبہ کیمسٹری رہے۔اس کے علاوہ وہ متعدد کمیٹیوں کے چئیرمین اور ممبر بھی رہے ہیں۔وویمن یونیورسٹی باغ میں بطور وائس چانسلر تعیناتی کے بعد انہیں سلکشن بورڈ نے گریڈ بائیس سے نوازا جو کہ کم ہی کسی کے نصیب میں آتا ہے۔ان کے ساتھ جو دیگر پروفیسر ز زیر حراست رہے کم و بیش اسی طرح کی خوبیوں کے مالک تھے۔مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ انہوں نے تقریوں کے وقت سیاسی قوتوں کو ” خوش“ کیا ہو گا۔رشتے داروں کی بھی سنی ہو گی لیکن زیادہ اچھا ہوتا کہ احتساب بیورو ان کی گرفتاری کی بجائے سزا تجویز کرتا ، بقول درخواست گذار کے جو” غیر قانونی “ تقریاں ہوئی ہیں ان کے لیے حکومت کو سفارشات بھیجی جاتیں کہ انہیں نوکریوں سے فارغ کیا جائے اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے جن کی سفارش پر یہ تعینات ہوئے ہیں لیکن ایسا نہ ہوا اور محض تعصب اور کینہ پروری کی وجہ ان کی گرفتاری کا سبب بنی ورنہ احتساب بیورو میرٹ پر کام کرتا تو پہلی بات ہے کہ موجودہ چئیرمین احتساب بیورو ہی اس اہل نہیں تھے کہ ان کی تقرری ہوتی،”مسٹ“ میں کیا نہیں ہوا؟اے جے کے یونیورسٹی میں قائم مقام وائس چانسلر کیا گل کھلاتے رہے ؟اور جامعہ پونچھ میں ایک پروفیسر جنہیں ایچ ای سی کے چیرمین کی خاندانی قربت حاصل تھی کیا نہیں کیا؟ لیکن احتساب کیا ایک ہی جامعہ کے پروفیسرز کا کرنا ضروری تھا؟ اور وہ بھی بس یہ کہ ان کو گرفتار کیا جائے۔کیا گرفتاری کسی مسلے کا حل نکال سکی، عالمی یوم اساتذہ ہرسال 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ یوم اساتذہ منانے کا مقصد معاشرے میں اساتذہ کے اہم کردار کو اجاگرکرنا ہوتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھرمیں کئی سیمینارز، کانفرنسیں اورتقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 2009ء میں عالمی یوم اساتذہ کے حوالے سے یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2015ءتک دنیابھر میں تعلیم کو عام کیا جائے گا اور اسا تذہ کی عزت نفس بحال کی جائے گی ۔یہ ٹارگٹ پورا ہوا یا نہیں لیکن اس عظیم مقصد کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے میں پیشہ ور اساتذہ کو ان کا جائز مقام ملے اور تعلیمی درسگاﺅں سے سیاسی اثر وسوخ ختم کیا جائے تا کہ معاشرہ ترقی کی جانب مائل ہو سکے۔