تازہ خبریں
مظفرآباد ( سردار رضا خان سے ) چیف سیکرٹری آزاد کشمیر علم الدین بلو نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے آمدہ بجٹ میں ترقیاتی خزانے میں اضافے کی تجویز سے وفاق نے اتفاق کیا ہے، آزاد کشمیر کا آمدہ ترقیاتی بجٹ11ارب روپے ہوگا جبکہ بیل آؤٹ پیکج کے تحت 6ارب روپے کی پہلی قسط جولائی میں ملنا شروع ہوجائے گی۔ آزاد کشمیر کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق ہی ضافہ ہوگا ۔ہائیڈرل اور سیاحت کے شعبوں کی ترقی اور ان وسائل سے بھر پور استفادے کی حکمت عملی طے کی جارہی ہے اوور ڈرافٹ کا معاملہ یکسو ہوگیا ہے اب حکومت کے اخراجات اور آمدن میں توازن پیدا ہوگیا ہے، آئندہ سٹیٹ بنک کوئی سرکاری چیک نہیں روکے گا، بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے وفاق میں اعلی سطح پر بات چیت جاری ہے ۔1ہزارمیگاواٹ پیداواری صلاحیت کا حامل نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ 2015تک مکمل کر لیا جائے گا۔ ان خیالا ت کا اظہا ر انہوں نے سینئر صحافی سردار رضا خان سے گفتگو کے دوران کیا ۔چیف سیکرٹری آزاد کشمیر علم الدین بلو کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ آزاد کشمیر کا ترقیاتی بجٹ 18ارب روپے تک پہنچ جائے تاکہ خطہ میں تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی منازل طے کی جا سکیں آمدہ بجٹ میں آزاد کشمیر کے ترقیاتی میزانیے کے لیے وفاق سے 11ارب روپے طلب کیے گئے ہیں پی ایس ڈی پی ساڑھے 3ارب روپے ہوگی بجٹ کے علاوہ جولائی کے مہینے میں حکومت آزاد کشمیر کو بیل آؤٹ پیکج کی مد میں 6ارب روپے ملنا شروع ہو جائیں گے۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ طویل عرصہ سے اوور ڈرافٹ 4ارب 50کروڑ چلا آرہا تھا اسے کنٹرول کر لیا گیا ہے اخراجات اور آمدن برابر کر دیے گئے ہیں جس کے باعث اوور ڈرافٹ کا ایشو ختم ہو گیا ہے اور اب کوئی سرکاری چیک واپس نہیں ہوگا ریاستی وسائل کو خطہ کی تعمیر وترقی کے لیے بروئے کار لانے کے لیے حکمت عملی طے کی جارہی ہے اس مقصد کے لیے سیاحت اور ہائیڈرل کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے آزاد کشمیر میں ہائیڈرل کے بے پناہ وسائل موجود ہیں 10ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کی نشاندہی ہوچکی ہے اس وقت 18سو میگا واٹ بجلی کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے بات چیت کی جارہی ہے نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ 2015میں مکمل ہو جائے گا جس سے لوڈ شیڈ نگ کے خاتمے میں مدد ملے گی ۔سیاحت کی ترقی کے لیے مواصلاتی نظام میں بہتری لائی جارہی ہے اور اہم نوعیت کی شاہرات کی اپ گریڈیشن ہو رہی ہے مظفرآباد کے کوہالہ روڈ کو این ایچ اے کے سپرد کر دیا گیا ہے کیل تا اڑنگ کیل کیبل کار کا منصوبہ جولائی میں کام شروع کر دے گا ۔سرکاری ریسٹ ہاؤسسز میں جدید سہولیات مہیا کی جارہی ہیں اور سیاحت سے متعلق منصوبوں میں تیزی لائی جا رہی ہے سیاحت اور ہائیڈرل کے منصوبوں کا اولین ترجیحات میں رکھا گیا ہے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ صحت عامہ کی ترقی بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔آزادکشمیر میں تین میڈیکل کالج قائم کیے گیے ہیں اور ہسپتالوں وطبی مراکز میں ادویات کی فراہم یقینی بنائی جارہی ہے آزاد کشمیر میں سرکاری گاڑیوں کے ناجائز استعمال کوروکنے کے لیے حکمت عملی طے کرلی گئی ہے آئندہ کوئی بھی سیکرٹری حکومت دارالحکومت سے باہر جائے گا تو وہ اپنا شیڈول بتائے گا سیر سپاٹے ختم کردیے گے ہیں گاڑیوں کے ناجائز استعمال کوروکنے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں جن میں سے ایک تجویز یہ ہے کہ افسران سے سر کاری گاڑیاں واپس لے کر انہیں تنخواہوں کے ساتھ معقول کنونس الاؤنس ادا کیا جائے ۔آزاد کشمیر میں غیر ضروری اخراجات روکنے کے لیے خطہ میں نئی گاڑیوں کی خرید پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے ،چیف سیکرٹری علم الدین بلو نے کہاہے کہ آزاد کشمیر میں گڈ گورننس کے بغیر مشکلات میں کمی ،مسائل کا خاتمہ اورمقاصد کا حصول ممکن ہوگا گڈگورننس کے قیام کے لیے افسران اور ملازمین کے مسائل پر بھی توجہ دی جارہی ہے اور ان کی استعداد کار میں اضافہ بھی یقینی بنایا جارہا ہے ملازمین کے مسائل کے حل اور انہیں سہولیات کی فراہمی کے لیے ملازمین کی تمام فاؤنڈیشنز کا یکجا کرکے ایک ہی ایمپلائز ویلفیئر فاونڈیشن قائم کردی گئی ہے جس سے گریڈ 1سے لیکر 21تک کے 79ہزار ریاستی ملازمین مستفید ہونگے دارالحکومت کوشایان شان بنانے کے لیے شہر کی خوبصورتی پر بھی توجہ دی جارہی ہے شہر کی صفائی وستھرائی پر توجہ دی جارہی ہے تعمیر نو کے منصوبے مکمل ہونے کے بعد شہر کی خوبصورتی کے لیے مختلف پرجیکٹس کا آغاز کیا جائے گا شہرمیں پراجیکٹس کا آغاز کیا جائے گا شہر میں سٹریٹ الاوئنس کو سولر انرجی پرمنتقل کرنے کے لیے میونسپل کارپوریشن اور ترقیاتی ادارہ مظفرآباد کو ہدایت جاری دی ہیں اور ان سے اس سلسلہ میں سکیمیں بھی طلب کی ہیں علم الدین بلو کا کہنا تھا کہ وفاق کی طرف سے آزاد کشمیر کے معاملات میں کسی قسم کا دباؤ نہیں ،ہم قانون اور ضابطے کے مطابق کام کر رہے ہیں میرٹ کیمطابق جو کام ہو گا وہ نہیں رکے گا۔

























