شادی ہال، ڈانس اور سوشل میڈیا…. اصل ذمہ دار کون؟

0

راولاکوٹ شہر سے تقریباً دو کلومیٹر دور واقع ایک نجی شادی ہال میں شادی کی ایک تقریب کے دوران پیش آنے والا حالیہ واقعہ کئی پہلوؤں سے غور طلب ہے۔ شادی کی اس تقریب کے دوران ہال کے اندر”موسیقی“ اور”ڈانس“کا پروگرام منعقد ہوا جس میں ایک خواجہ سرا جو شاید پاکستان کی کسی شہر سے لایا گیا تھانے پرفارمنس دی۔ یہ ایک محدود نوعیت کا پروگرام تھا جسے صرف وہی افراد دیکھ رہے تھے جو تقریب میں اپنی مرضی سے شریک تھے۔ بظاہر یہ ایک نجی سرگرمی تھی جو کچھ خاندانوں میں شادی کی روایتی خوشیوں کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔یہ معاملہ اس وقت بدل گیا جب تقریب میں موجود کسی شخص نے (جو پورا وقت اس پروگرام سے خود لطف اندوز ہوتا رہا) اس پروگرام کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر (اپنے بے باک تبصرے کے ساتھ) اپ لوڈ کر دی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس ویڈیو کو”فیس بکی بھائیوں“ نے اپنے اپنے تبصرے کے ساتھ شیئر کرنا شروع کیا اور یوں ایک محدود دائرے میں ہونے والا واقعہ ہزاروں لوگوں تک پہنچ گیا۔ نتیجتاً مقامی انتظامیہ اور پولیس بھی حرکت میں آئی، شادی ہال کو سیل کیا گیا اور شادی ہال کے منیجر کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اصل مسئلہ وہ پروگرام تھا یا اس کی تشہیر؟ اگر یہی تقریب ہال کے اندر محدود رہتی تو شاید یہ باہر کسی کی نظر میں نہ آتی۔ ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کے موقع پر موسیقی (یعنی ڈھول، باجا)کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ایک سماجی روایت کا حصہ رہا ہے، جسے مختلف انداز میں ہر طبقہ اپناتا ہے۔ہلکا پھلکا ڈانس بھی دولہا دولہن کے قریبی رشتے دار یا دوست،سہیلیاں کرتے رہتے ہیں۔البتہ جب کسی بھی سرگرمی میں حد سے تجاوز ہو، یا وہ معاشرتی اقدار کے خلاف چلی جائے، تو اس پر اعتراض اٹھنا فطری ہے۔ اس واقعے میں جو چیز زیادہ نمایاں ہے، وہ اس تقریب کے انعقاد سے زیادہ سوشل میڈیا کا کردار ہے۔ ایک ویڈیو، جو چند افراد تک محدود تھی، اسے عام کرنے والوں نے خود
اسے“عوامی معاملہ”بنا دیا۔
یہ ایک دلچسپ اور قدرے افسوسناک پہلو ہے کہ ہم بطور معاشرہ اکثر دوہرے معیار کا شکار ہیں۔ جو لوگ ایسی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، وہی بعد میں انہی لمحات کو ریکارڈ کر کے دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر اخلاقیاتکے نام پر اس پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ گویا ایک طرف ہم اس کلچر کا حصہ بنتے ہیں اور دوسری طرف خود کو اس سے الگ اور بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس واقعے میں ایک اور اہم پہلو خواجہ سرا کمیونٹی سے متعلق ہے۔ پاکستان میں خواجہ سرا افراد کو قانونی طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے اور انہیں باعزت روزگار کا حق دینے کی ضمانت دی گئی ہے۔پاکستان میں شادی بیاہ کی تقریبات میں پرفارمنس دینا ان کے لیے ایک ذریعہ معاش ہے۔ اس لیے محض اس بنیاد پر کہ پرفارمنس دینے والا خواجہ سرا تھا،اسے ہدف تنقید بنانا مناسب نہیں۔ اصل سوال ہمیشہ عمل کا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی کی شناخت کا۔
اس میں شک نہیں کہ ہمارے کلچر میں کچھ معاشرتی اقدار کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اس طرح کے پروگرام کا انعقاد معیوب سمجھا جاتا ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کی کارروائی بھی اپنی جگہ کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا فوری طور پر شادی ہال کو سیل کرنا اور منیجر کو گرفتار کرنا مسئلے کا حل ہے؟ یا پھر اس معاملے کی مکمل چھان بین کے بعد کوئی فیصلہ ہونا چاہیے تا کہ آئندہ ایسا نہ ہو؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دباؤ یا عوامی ردعمل کے تحت فوری اقدامات کیے جاتے ہیں، جو بعد میں قانونی طور پر کمزور ثابت ہوتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کے دور میں“نجی”اور“عوامی”کے درمیان حد بہت دھندلی ہو چکی ہے۔ ایک موبائل فون اور انٹرنیٹ کنکشن کسی بھی واقعے کو لمحوں میں عالمی سطح پر پہنچا سکتا ہے۔ ایسے میں ہر فرد کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر غور کرے۔اگر ہم واقعی معاشرتی اصلاح چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم کسی ویڈیو کو وائرل کر کے لوگوں یا کسی علاقے کی تضحیک کریں،نجی کاروبار کو بدنام کرین یا خود کو زیادہ نیک ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ بلکہ ہمیں اپنی اجتماعی سوچ اور رویوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسئلہ ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو نظر آ رہا ہو، بلکہ بعض اوقات اصل مسئلہ اس کا ردعمل اور اس کی تشہیر ہوتی ہے۔ اگر ہم ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، دوسروں کی نجی زندگی کا احترام کریں اور سوشل میڈیا کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں، تو ایسے کئی تنازعات سے بچا جا سکتا ہے۔راولاکوٹ کا یہ واقعہ محض ایک شادی کی تقریب کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں، سوشل میڈیا کے استعمال اور قانون کے اطلاق کے درمیان توازن کا ایک اہم کیس اسٹڈی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ڈانس ہوا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے کس نے اور کیوں پورے معاشرے کا مسئلہ بنا دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں