منگل 11 مئی 2021ء
منگل 11 مئی 2021ء

عوامی ایکشن کمیٹیوں کا تقابلی جائزہ“۔۔۔۔عابد صدیق

” آخری قسط گلگت پاکستان کے عبوری (عارضی)صوبہ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شاہراہ قراقرم کے قریب واقع ہے۔ دریائے گلگت اس کے پاس سے گزرتا ہے۔گلگت کے مشرق میں کارگل، شمال میں چین، شمال مغرب میں افغانستان،مغرب میں چترال اور جنوب مشرق میں بلتستان کا علا قہ ہے۔دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کا سنگم اس کے قریب ہی ہے۔ یہاں کی زبان شینا ہے لیکن اردو عام  طور پرسمجھی اور بولی جاتی ہے۔ یہ خطہ چین سے تجارت کا مرکز ہے۔  اس کے شمال میں چین کے شہرکاشغر کی سرحد لگتی ہے۔گلگت کے مقامی شہریوں کو شناختی کارڈ کی بنیاد پر اس شہر میں ایک ماہ کی انٹری مل جاتی ہے جس سے ان کے لیے تجارت کی نئی رائیں کھلتی ہیں۔کے ٹو، نانگا پربت، راکاپوشی اور شمال کی دوسری بلند چوٹیاں سر کرنے والے کوہ پیماہ اور سیاح بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔یہاں کی خاص بات بلندو بالاپہاڑ اور یہاں کے بہتے ہوئے دریا اور سبزاہ ہیں۔گلگت شہر میں تین سے زیادہ مسالک کے لوگ آباد ہیں جن میں سنی،شیعہ، اسماعیلی مسلک اور نوربخشیہ مسلک کے لوگ شامل ہیں۔گلگت کی عوامی ایکشن کمیٹی کے بائیس نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں گلگت کی سرحدوں کا از سر نو تعین کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔یہ تنازعہ خیبر پختون خواہ(کے پی کے)اور چترال کے ساتھ ہے جس کے حل کے لیے وفاقی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی لیکن ابتداء میں اس میں گلگت کی نمائندگی نہیں تھی۔ اب عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبے پر گلگت اسمبلی کے ممبران میں سے بعض بھی اس کمیٹی میں شامل ہیں۔اس طرح دیامیر بھاشا ڈیم کے متنازعہ معاملات کے حل کا سہراہ بھی عوامی ایکشن کمیٹی کو جاتا ہے جس نے وفاقی حکومت سے تحریری معاہدے کیے کہ کس طرح اس ڈیم کی تعمیر میں مقامی ہنر مندوں کو شامل کیا جائے گا تا کہ بے روزگاری کم ہو۔بجلی کی مقامی ضرورت کو  پہلے پورا کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے ریجنل گرڈ اسٹیشن تعمیر کیا جائے گا۔ایک مطالبہ اور تھا جو گلگت کی حکومتیں ایک عرصے سے کر رہی تھیں کہ نیلم کے راستے ایک کشادہ روڈکے ذریعے ہمیں آزاد کشمیر سے ملایا جائے تا کہ بذریعہ مظفراباد ہم کم مسافت طے کر کے اسلام آباد جا سکیں۔اب اس منصوبے کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ذریعے وفاقی حکومت رضامندی دے چکی ہے۔چارٹرآف ڈیمانڈ میں سب سے اہم اور مشکل مطالبہ یہ رکھا گیا ہے کہ چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری میں گلگت کے عوام کو تیسرا فریق تسلیم کیا جائے۔ سلطان رائیس جو عوامی ایکشن کمیٹی کے سابق چیئرمین تھے کہتے ہیں کہ ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کوئی بھی مطالبہ ایسا نہیں جو مقامی حکومت حل کر سکے۔ہمارے مطالبات وفاقی حکومت سے متعلق ہیں اور ہم یہ مطالبات ان ہی کے ساتھ ڈسکس کرتے ہیں اور دلیل کے ساتھ بات کرتے ہوئے اپنے مطالبات منواتے ہیں۔وہ پر امید ہیں کہ کمیٹی کا چیئرمین اب کوئی بھی ہو ہمارے مطالبات وہی رہیں گے اور یہ حل بھی ہوں گے۔ آزاد کشمیر خصوصاًپونچھ ڈویژن میں گذشتہ کچھ عرصے سے ”ایکشن کمیٹیوں“کا قیام عمل میں آ رہا ہے۔یہ کمیٹیاں قبل ازیں وجود میں آنے والے ”محاذوں“ یعنی متحدہ محاذ وغیرہ کی جگہ لے رہی ہیں۔اس طرح کی کمیٹیوں کا قیام عموماًہنگامی طور پر چائے کی میز یا لمبے سفر کے دوران گپ شپ کے دوران ہی وجود میں آجاتا ہے اور عہدیداران کا چناؤ بھی اسی وقت ہو جاتا ہے۔بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اس طرح کی کمیٹی قائم کرنے سے پہلے باقاعدہ اجلاس ہوں رائے لی جائے۔ایکشن پلان مرتب کیا جائے۔آئین بنایا جائے اور چارٹر آف ڈیمانڈ مرتب کیا جائے۔پھر عہدیداران کا چناؤ کر کے انہیں ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ کسی ایک ایشو کو لے کر بنائی جانے والی کمیٹی اپنے اصل ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی متنازعہ ہو جاتی ہے۔کمیٹی کے پاس ایجنڈہ واضع نہیں ہوتا۔مسلئے کے حل کے لیے کوئی سفارشات نہیں ہوتیں۔اور سب سے بڑا فقدان اس بات کا ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کس وزارت یا محکمہ سے متعلق ہے اور ہم نے مذکرات کس کے ساتھ کرنے ہیں۔البتہ ایک چیز مشترکہ رکھی جاتی ہے کہ ”سڑک بند کرنی ہے“۔”سرکاری عمارتوں کا گھراؤ کرنا ہے“ اور سخت سے سخت تقریر کرنی ہے۔یہ ساری چیزیں ایکشن کمیٹیوں کے منشور کا حصہ بے شک ہوں لیکن ان کی درجہ بندی بہت ضروری ہے۔جو مسئلہ آسانی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے یا دلیل کے ساتھ بات کرنے سے حل ہو جائے اس میں شدت لانے سے سوائے خرابی کے حل کوئی نہیں نکلتا۔آزاد کشمیر خصوصاً پونچھ ڈویژن  میں جتنی بھی ایکشن کمیٹیاں یا اس سے ملتی جلتی تنظیمیں وجود میں آئیں ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کی سمت کا تعین ایک بڑا مسئلہ رہا۔دوسرا سیاسی جماعتیں اس طرح کی تنظیمات سے لاتعلق رہتی ہیں اگر ان کی شرکت ہو بھی تو غیر محسوس طریقے سے ہوتی ہے کشادہ دلی سے نہیں  جس کی وجہ شاید ان کو اعتماد میں لیے بغیر ”ایکشن“ کرنا ہوتا ہے۔اگر چارٹر آف ڈیمانڈ مرتب کرتے وقت تمام سیاسی جماعتوں اور ٹریڈ یونینز کو اعتماد میں لیا جائے۔احتجاج کے مرحلے متعین کیے جائے اور صرف ان اداروں یا نمائندگان کے سامنے مطالبات رکھے جائیں جو ان کو حل کرنے کا اختیار رکھتے ہوں  اور مطالبات میں لچک بھی ہوتو یقینا کوئی بھی تحریک ناکام نہیں ہو سکتی۔صرف مسئلہ حکمت عملی اور کشادہ دلی کے ساتھ ساتھ فتح و مفتوع کا تصور دماغ سے نکالنا ہے۔آٹے کے ایشو پر حالیہ احتجاجی مظاہرہ اس کی بہترین مثال ہے کہ ایک عام آدمی بھی مہنگائی کے خلاف سڑک پر آ گیا جس کو یہ پتہ تھا کہ آٹا مہنگا ہو گیا لیکن یہ مسئلہ حل کس طرح  ہو گا یہ کسی کو پتہ نہیں تھا یا اگر تھا بھی تو ظاہر نہیں کیا گیا۔اتنا بڑا احتجاج کر کے بھی ہم نے سوائے عام مسافروں،عام آدمی کو تکلیف پہنچانے کے حاصل کچھ نہ کیا اور ٓاج بھی آٹا مہنگا ہی دستیاب ہے۔ہمیں اپنے ان فیصلوں پر از سر نو جائزہ لینا ہو گا۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم