هفته 24 جولائی 2021ء
هفته 24 جولائی 2021ء

تنازعہ ”چغتائی“ کے ساتھ”خان“ لکھنے کا۔۔۔عابد صدیق

ایک عرصے سے سوشل میڈیا میں یہ بحث چلی آرہی ہے ہے کہ فلاں قبائل اپنے اپنے نام کے ساتھ ”خان“ یا ”سردار“لکھ رہے ہیں۔یہ لکھنا مناسب ہے یا نہیں؟یا یہ کہ اس طرح کے الفاظ کسی خاص قبیلے کے لیے مختص ہیں۔یہ بحث زیادہ تر انتخابات کے دنوں میں زور پکڑتی ہے کیونکہ گذشتہ دو تین انتخابات سے یہ بات دیکھنے کو ملی ہے کہ زیادہ تر امیدوار سیاسی جماعتوں کے منشور کو چھوڑ کر برادریوں کی بنیاد پر منتخب ہو رہے ہیں۔آج کل اس بحث کا محور تنویر الیاس معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔ان کا آفیشل یعنی شنا ختی کارڈ پر کیا نام ہے اس کا تو علم نہیں لیکن وہ عام طور پر اپنا نام سردار تنویر الیاس خان لکھتے ہیں اور اسی نام سے سوشل میڈیا پر ان کا پیچ بھی بنا ہوا ہے۔تنویر الیاس کا تعلق راولاکوٹ کے نواحی گاوں بنگوئیں سے ہے۔وہ چونکہ چغتائی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں جو مغلوں کا ایک اعلیٰ ترین قبیلہ ہے  لہذامیں نے اس گتھی کو سلجھانے کے لیے بہت ساری تاریخی کتابوں کو ٹٹولا،انسائکلوپیڈیا سے مدد لی  اور جدید ٹیکنالوجی کے دیگر ذرائع بھی استعمال کیے۔اس مضمون میں میری یہ کوشش رہی ہے کہ ”چغتائی“”خان“ اور سردار جیسے الفاظوں کے پس منظر پر روشنی ڈالی جائے۔ گو کہ یہ ایک طویل بحث ہے لیکن کوشش کی گئی ہے کہ مختصر طریقے سے اس بحث کا نچوڑ نکالا جا سکے۔ سعداللہ جان برق  ایک معروف کالم نگار اور مصنف ہیں۔انہیں پشتنوں کی تاریخ اور کلچر سمیت پشتو زبان پر بڑا عبور حاصل ہے،سال 2013 میں انہوں نے ایک مضمون لکھا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ”دائرۃ المعارف اسلامیہ کے مطابق اس کی اصل ”قآن“ ہے جو ”خاقان“ بن گیا تھا۔ قآن ایک چینی زبان کے الفاظ ”زوآن زوآن“ سے نکلا ہے جس کے معنی ”مسلح“ کے ہوتے ہیں۔ اس نے ترکی زبان میں ”قآن“ کی صورت اختیار کر لی اور خاقان سے ہوتا ہوا ”خان“ تک پہنچا لیکن یہ ایک اور سمت میں بھی جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ چینی لفظ زوآن زوآن کا مفہوم ”جوان“ اور جوانی میں بھی ہے۔ ”جوان“ بھی قوت اور مسلح کا مفہوم رکھتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چینی لفظ ”زوآن زوآن“ اب بھی پشتو میں ”زوان“ ہی بولا جاتا ہے۔اصل بحث ہمیں لفظ خان سے کرنی ہے، قآن سے معرب ہونے والے لفظ ”خاقان“ کو جب وسعت ملی تو اسے سردار یا حاکم کے مفہوم میں بولا جانے لگا اور پھر آہستہ آہستہ ”خان“ بن گیا۔ دائرۃ المعارف اسلامیہ میں لکھا ہے ”خان ایک ترکی لقب جو دراصل قاغان کا مخفف ہے جس کی عربی صورت ”خاقان“ ہے۔ ان معنوں میں یہ لفظ ”قان قاغان“ کے ساتھ اورخون (ORKNUN) کے آٹھویں صدی کے قدیم کتبوں میں آیا ہے“ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی زمانے میں لفظ ”خان“ کا استعمال پہلے چوتھی صدی ہجری (دسویں عیسوی) میں ”ایلک خان“ کے سکوں پر ہوا۔ پانچوں صدی کی ان کتابوں میں جو اس خاندان سے متعلق ہیں، تاتاریوں کے زمانے تک قآن اور قاغان اور خان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا جا سکتا مگر اس دور کے بعد قآن یا قآغان حاکم اعلیٰ کے لیے استعمال ہونے لگا جو معرب شکل میں خاقان تھا اور خان سلطنت کے ایک علیحدہ صوبے کے حاکم کے لیے مخصوص ہو گیا۔رفتہ رفتہ قاغان اور خاقان دونوں لفظ متروک ہو گئے اور ان کی جگہ ”خان“ نے لے لی، مغل فتوحات سے پہلے کی چند صدیوں میں عربی ”ملک“ اور فارسی ”شاہ“ کی طرح یہ ترکی لفظ ”خان“ امراء کے لیے استعمال ہوتا تھا اور ”سلطان“ حاکم اعلیٰ کے لیے مگر سلطان کا یہ مفہوم صرف مغربی ایشیاء اور مصر میں باقی رہا، وسطی ایشیاء میں جب منگول سلطنت مختلف ریاستوں میں تقسیم ہوئی تو ان علاقوں میں ”خان“  کا لقب اصل(ترک) حکمران کے لیے استعمال ہونے لگا اور ”سلطان“ کا لفظ ان تمام خاندانوں کے افراد کے لیے جو چنگیز خان کی نسل سے تھے۔ ایران کی صفوی سلطنت کے نظام حکومت میں (ایران اور وسط ایشیا) میں سلطان ایک چھوٹے صوبے کے حاکم یا گورنر کو کہتے تھے جو ”خان“ کے ماتحت ہوتا تھا (دائرۃ المعارف اسلامیہ جلد 8)، لفظوں کا سفر ایسے ہی ہوتا ہے کہ زمانوں اور زبانوں سے گزرتے گزرتے بہت کچھ کم ہو جاتا ہے اور بہت کچھ ان میں مل جاتا ہے۔لفظ زوآن سے قاغان، قآن، خاقان اور خان تک کا یہ سفر اس کا آئینہ دار ہے، کبھی کبھی تو اتنا بدل جاتا ہے کہ اصل لفظ سے اس کا رشتہ انتہائی کم زوررہ جاتا ہے لیکن ہوتا بہرحال ہے اور پھر ایک لفظ جب چینی سے چل کر ہند یورپی اور پھر سامی زبانوں میں چلتا ہے تو کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے کیوں کہ ان تینوں لسانی گروپوں کے نظام قطعی ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ سوال اب یہ ہے کہ پشتونوں میں یہ نام کیوں رائج ہوا کہ صرف ان ہی کے لیے مختص ہو گیا تو اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پشتونوں میں اپنے آپ کو کسی دوسرے سے کم سمجھا ہی نہیں جاتا، اگر ”خان“ وسط ایشیا میں حاکم یا سردار یا بادشاہ کو کہا جاتا ہے تو ہوا کرے لیکن اگر وہ خان ہے تو میں بھی ”خان“ ہوں۔یہ محاورہ تو ہر قوم و نسل میں ہے کہ بھئی ہم خود اپنے گھر کے بادشاہ ہیں، چاہے دو وقت کی روٹی بھی نصیب میں نہ ہو، لیکن بادشاہ اور خان تو ضرور ہیں اور پشتونوں میں تو یہ صفت یا عیب انتہائی شدت سے موجود ہے جسے واضح کرنے کے لیے بے شمار کہاوتوں اور اقوال کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اب بھلا ایسے لوگ بھی اپنے آپ کو ”خان“ نہ کہیں تو کون کہے گا، اسی لیے تو باقی اقوام خصوصاً وسط ایشیاء اقوام نے یہ تاج پھینک دیا ہے، صرف پشتون ہی اسے سر پر رکھے ہوئے ہیں اور اس وقت رکھے گا جب تک یہ سر ہی اڑ نہ جائے۔وکی پیڈیا کے مطابق بھی”خان“ لفظ منگولی زبان کا لفظ ہے جس کامطلب ہے بادشاہ، سب سے بڑا سردار یہ صرف منگول بادشاہوں کے لیے مخصوص تھا۔ لفظ خان، خاقان، خاگان، قاغان، ھان مختلف ادوار میں مختلف تلفظ اور لہجوں سے بھی بولااور استعمال ہُوا ہے۔ خان کی بادشاہت یا ریاست کو خانیت، خانات، خاقانیت بولا جاتا تھا۔منگول بادشاہ تموجن کا ٹائٹل چنگیز خان تھا جس کا مطلب ہے آفاقی بادشاہ یا کائناتی شہنشاہ۔ یہ نام دنیا میں اک اپنی ہی تاریخ چھوڑ گیا ہے۔ چنگیز خان نے کُچھ لوگوں کوترخان کے خطاب سے نوازا تھا جس کا مطلب تھا سب سے بڑا خان، خانوں کا خان، خانِ خاناں،خانوں کا سردار یہ منگولوں کا سب سے اعلی ترین خطاب تھا۔ لفظ خان سب سے پہلے منگول روران خانات نے استعمال کیا تھا۔ خان کی مونث خاتون ہے اور خان کی بیٹی کو خانم کہا جاتا ہے۔ پندرہویں صدی سے پہلے یہ لفظ سینٹرل ایشین ریاستوں میں مشہور تھا مگر چنگیز خان کی فتح افغانستان کے بعد اس خطے میں بسنے والے لوگوں نے خاص طور پر پشتونوں نے اس کو اختیار کیا جو آج بھی اُن کے نام کا حصہ ہے۔اس کے علاوہ دیکھا دیکھی ہندوستان کی دوسری قوموں نے بھی خان کا ٹائٹل استعمال کرنا شروع کر دیا۔مُغل دربار کی طرف سے یہ ٹائٹل ریاست کا اعلی ترین ٹائٹل تھا۔لیکن پشتونوں نے اسے ذیادہ استعمال کرنا شروع کردیا.حالانکہ خان دوسری قوموں نے بھی استعمال کیا.لیکن اب یہ لقب خاص پشتون قوم کیلئے استعمال ہوتا ہے.اور پشتون اپنے نام کیساتھ خان کا لاحقہ ضرور لگاتے ہیں۔جہاں تک قبیلہ چغتائی کا تعلق ہے یہ منگولوں کے قبیلے قیات بورجگین کی شاخ ہے اور حسب نسب کے لحاظ سے منگولوں (مغلوں)کا اعلی ترین قبیلہ ہے جو چنگیز خان کے دوسرے بیٹے چغتائی خان کی اولاد ہے اور ہندوستان میں حکومت کرنے والا شاہی خاندان بھی خود کو ”چغتہ یا چغتائی“خاندان ہی کہلواتا تھا اس لیے ان بادشاہوں کی اولادیں بھی چغتائی ہی کہلواتی ہیں،  چغتائی مغل اپنے ناموں کے ساتھ بیگ، خان اور چغتائی کا لاحقہ لگاتے ہیں۔ خان کا لقب ترکوں اور مغلوں کا ہے جسے افغانوں نے اور دیگر اقوام نے کاپی کیا، چغتائی کہلوانے والے سنٹرل ایشیا کے ممالک اور جنوبی ایشیا کے ممالک ہندوستان،پاکستان اور افغانستان میں بھی موجود ہیں 1857ء کی جنگ آزادی اور مغلیہ سلطنت کے زوال کے وقت ہجرت کی اور برصغیر کے مختلف حصوں میں رہائش پذیر ہوئے۔بیگ یا بے۔ ترکی اور تاتاری زبان کا ایک اعزازی خطاب کسی زمانے میں شاہزدگان، امرا اور معززین کے لیے مخصوص تھا۔ لیکن بعد میں فوجی افسروں کے لیے مخصوص ہو گیا۔ سلجوقی ترک یورپ گئے تو بیگ کا لفظ بے رہ گیا۔لفظ بیگ کا استعمال مغل قوم میں ایل خانی سلطنت کے بانی ہلاکو خان کی چوتھی پُشت سے پوتے امیرایکوتمربانی کے خاندان کے لڑکے امیر شکل بیگ کے نام کی نسبت سے شروع ہوااور امیرشکل بیگ کی اولاد نے متواتر لفظ“بیگ”استعمال کیا۔ امیر تیمور کی اپنی خودنوشت“تزک تیموری ”مترجم سید ابوہاشم ندوی کے صفحہ 89 پر درج ہے کہ“بیگ باشی ”ایک فوجی یونٹ کا نام ہے یہ فوجی اس کے عزیز ترین ماتحت ہوتے تھے۔ترکستان میں قدیم ایّام سے رواج چلا آتا ہے کہ میدان کارزار میں جو شخص جان قربان کرتا ہے اس کو بیگ کے خطاب سے سرفراز کیا جاتا ہے بیگ کے لغوی معنی سردار اور چیف کے ہیں اور پاک و ہند کے چغتائی اور برلاس مغل اپنے نام کے ساتھ بیگ کا لاحقہ لگاتے ہیں۔ یہ لوگ منگولیا یا ترکستان کے تھے۔ شہنشاہ بابر کے ساتھ ہندوستان آئے اور بیگ کہلائے۔بیگم کا لفظ بیگ ہی کا مونث ہے۔ بیگم سے ہی بیگی اور بی بی کے لفظ نکلے ہیں۔مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ مغل خاندان پشتونوں سے بہت پہلے خان کا لفظ استعمال کرتا تھا۔(یہ مضمون محض قارئین کی دلچسپی اور کچھ غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے تحریر کیا گیا ہے اس کی اشاعت کسی کا دل دکھانا نہیں)  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم