منگل 11 مئی 2021ء
منگل 11 مئی 2021ء

مسئلہ کشمیر کے حل تک ”گلگت بلتستان“ کو داخلی خود مختاری دی جائے،بابا جان

کراچی (بی بی سی)عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان (جی بی) کے رہنما بابا جان کا کہنا ہے کہ ’عبوری صوبہ‘ کچھ نہیں ہوتا، گلگت بلتستان کو مکمل صوبہ بنایا جائے یا پھر داخلی خود مختیاری دیں، ان دونوں کے بغیر عوام کو کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں۔ وفاقی حکومت نے جی بی کو عبوری صوبہ بنانے اور اس کے لیے آئینی ترامیم کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت تک جی بی کو پاکستان کے دیگر صوبوں جیسی حیثیت حاصل نہیں ہے۔برصغیر کی تقسیم کے بعد گلگت بلتستان کی عوام نے 1947 میں ڈوگرہ حکومت سے بغاوت کر کے پاکستان سے الحاق کیا تھا۔کراچی میں بی بی سی کو دئیے گے ایک انٹرویو میں بابا جان کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کا دارالخلافہ کراچی میں تھا، وہاں سے ان کی کوئی امداد نہیں کی گئی تھی لوگوں نے اپنے ڈنڈوں اور زور بازو پر گلگت بلتستان کو آزاد کرا کے اس کے پاکستان سے الحاق کے لیے خطوط لکھے تھے لیکن بدقسمتی سے یہاں کے حکمرانوں نے اس الحاق کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کو سابق حیثیت میں برقرار رکھا اور ایف سی آر کا قانون نافذ کردیا۔جب گلگت کا سوال سیاسی طور پر زیادہ ابھرا اور لوگوں نے برابری کے حقوق کے مطالبات کیے تو ایک معاہدہ کیا گیا، جس میں کشمیر اسمبلی کے صدر سردار ابراہیم اور مسلم کانفرنس کے بانی صدر چوہدری غلام عباس نے پاکستان کے وزیر مشتاق گرامانی سے معاہدہ کیا کہ پاکستان عارضی بنیادوں پر خطے کے انتظامات چلائے گا۔ اس کا پورا نقصان گلگت کے لوگوں کو ہوا کیونکہ انھیں نہ کشمیر کے برابر حقوق دیے گئے نہ پاکستان کی قومی اسمبلی، سینیٹ یا این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دیا گیا۔‘انہوں نے کہا کہ ستر سال گزرنے کے باوجود گلگت بلتستان پسماندہ ہے، وہاں ایک بھی میڈیکل، انجنیئرنگ اور شعبے قانون کی یونیورسٹی نہیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سنہ 2020 کے دوران گلگت بلتستان کے علاقے کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا اعلان کیا تھا۔اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 2009 کو گلگت بلتستان کے خطے کو صوبے جیسی حیثیت دی گئی۔ مسلم لیگ نون کی حکومت میں 2015 کو گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک قرار داد پاس کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ انھیں پاکستان کے صوبے کا درجہ دیا جائے۔ سینیٹر سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی بھی بنائی گئی لیکن عمل درآمد نہ ہوا۔انڈیا نے اگست 2019 کو جب اپنے زیر انتظام کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیا اور جاری کیے گئے نقشے میں گلگت بلتستان کے علاقوں کو نئی ریاست لداخ کا حصہ ظاہر کیا تو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو عارضی صوبہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا اور گلگت اسمبلی نے ایسی قرار داد بھی منظور کی۔بابا جان کا کہنا ہے کہ ’عبوری صوبے‘ کی اب ایک نئی بات چھیڑی جارہی ہے، جس سے یہ واضح نہیں ہے کہ گلگت بلتستان سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کتنی نشستیں ہوں گی، قومی مالیاتی ایوارڈ (این ایف سی ایوارڈ) سے کتنے وسائل ملیں گے اور وفاقی بجٹ میں کتنا حصہ رکھا جائے گا۔وہاں کے زیادہ تر عام لوگ پاکستان کا صوبہ بننے کے طلب گار ہیں جبکہ وہاں (ہم سمیت) سیاسی کارکنان کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک انھیں داخلی خود مختاری دی جائے۔اس علاقے کو چلانے کے تمام اختیارات وہاں کی اسمبلی کے پاس ہوں۔ پھر بجلی پیدا کرنا ہو، سکول سے سڑکوں تک کی تعمیر یا آئینی عدالتوں کا قیام، یہ مقامی اختیارات ہوں۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم