هفته 24 جولائی 2021ء
هفته 24 جولائی 2021ء

اہم خبریں

کشمیری الحاق یا آزادرہنے کا فیصلہ خود کریں گے،عمران خان

کشمیری الحاق یا آزادرہنے کا فیصلہ خود کریں گے،عمران خان  تراڑ کھل / کوٹلی(نیوز ایجنسیاں / نمائندگان)وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر میں 2 ریفرنڈم کرانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ریفرنڈم میں کشمیری عوام پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کریں گے جبکہ ہماری حکومت میں ہونے والے دوسرے ریفرنڈم میں وہ پاکستان کے ساتھ الحاق یا آزاد ریاست کے طور پر رہنے کا فیصلہ کریں گے۔ کشمیرکے لوگوں کی قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی، کشمیریوں کوان کا حق ملے گا اور ریفرنڈم ہو گا،کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔ انتخابی عمل میں شفافیت ہماری جدوجہد کا اہم نقطہ ہے۔ شکست کے خوف میں مبتلا جماعتیں دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں۔ تراڑ کھل میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ شاندار استقبال پر تراڑ کھل کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں سیاسی مخالفین آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کے حوالے سے بے بنیاد افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی بات کا مجھے علم نہیں ہے۔ سلامتی کونسل کی قرار داد میں کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ دینے کا حق دیا گیا۔ میرا ایمان ہے کہ کشمیر کے لوگوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انشاء اللہ کشمیر میں ریفرنڈم ضرور ہو گا۔ کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ (ن) لیگ نے ابھی سے دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیا ہے حالانکہ کشمیر میں ان کی اپنی حکومت عملہ اور الیکشن کمیشن ہے ہم کیسے دھاندلی کرا سکتے ہیں۔انہوں نے ماضی میں لاہور کے جم خانہ میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی آمد سے متعلق بتایا کہ جب نواز شریف وزیر خزانہ بننے اور جم خانہ آئے تو اپنے ساتھ دو امپائر لاتے تھے، ایک کمشنر اور دوسرا ڈپٹی کمشنر اور جب نواز شریف آٹ ہوتے تھے تب دونوں میں سے ایک امپائر نو بال قرار دے دیتا تھا'۔وزیر اعظم نے کہا کہ تب سے مسلم لیگ (ن) کو صرف ان امپائرز کے فیصلے پسند ہوتے ہیں جو ان کی منشا کے مطابق ہوں، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو بارہا کہہ چکے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے لیے مذاکرات کریں لیکن نہیں آتے۔ ہم نے شفاف انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی تجویز دی۔ اپوزیشن نے دھاندلی کا شور مچا دیا لیکن انتخابی اصلاحات کے لیے تیار نہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس قوم نے عظیم قوم بننا ہے۔ اس قوم کو اللہ نے بڑی صلاحیتیں اور نعمتیں دی ہیں۔ پلندری کا علاقہ صرف ٹورازم سے ہی آگے جا سکتا ہے۔  یہ انتہائی خوبصورت علاقہ ہے۔ 2013 ء میں پہلی دفعہ کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت آئی۔ جنگ سے یہ صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ روزگار ختم ہو گیا 2013 ء سے 2018 تک جب ہماری کے پی کے میں حکومت  تھی یو این ڈی پی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس عرصے میں جس صوبے میں سب سے زیادہ تیزی سے غربت کم ہوئی وہ کے پی کے ہے۔ وہاں امیر غریب میں فرق کم ہوا۔ ہماری کارکردگی کی بناء پر 2018 ء میں ہم دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوئے۔یہ وہ صوبہ ہے جو ایک کے بعد دوسری مرتبہ کسی پارٹی کو ووٹ نہیں دیتا ۔ آزاد کشمیر کے لوگوں میری سب سے پہلی کوشش آزاد کشمیر میں غربت میں کمی لانا ہو گی۔ احساس پروگرام ملک کی تاریخ کا غربت کم کرنے کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ ہمارے دو پروگرام چلیں گے ایک  احساس جس کے تحت دسمبر تک ملک کے چالیس فیصد غریب طبقہ کو اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دیں گے کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت ہر غریب خاندان کے ایک فرد کو فنی تعلیم دی جائے گی 

پاکستان

اسٹیٹ بینک نے بنکوں کو ذہنی معذوری کا شکار افراد کا اکاوئنٹ کھولنے کی ہدایت کر دی

کراچی (دھرتی نیوز)اسٹیٹ بینک نے ذہنی معذوری کا شکار افراد کو اکاوئنٹ کھولنے کے ایک واضح طریقے کے ذریعے بینک اکاوئنٹ کھولنے کی اجازت دے کر انہیں ایک اہم سہولت مہیا کی ہے۔ یہ طریقہ کار فریقین کی مشاورت کے بعد وضع کیا گیا ہے۔ اب پاکستان میں پہلی مرتبہ ذہنی معذور افراد صارفین کے ایک نئے زمرے کے تحت بینک اکاوئنٹ کھولنے کے قابل ہو جائیں گے جس کا نام ”ذہنی معذور فرد کا اکاوئنٹ“ ہو گا، جسے اسٹیٹ بینک نے اے ایم ایل/سی ایف ٹی/سی پی ایف ضوابط میں متعارف کرایا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ذہنی معذور افراد کو ذہنی صحت کے قابل اطلاق قوانین کے مطابق عدالت کے مقرر ہ منیجر کی مدد سے اکاوئنٹ کھولنے اور اسے برقرار رکھنے میں سہولت دے سکتے ہیں۔ اکاوئنٹ کھولنے کا طریقہ کار ذہنی معذور شخص اور عدالت کے مقررہ منیجر کی نادرا کے ذریعے بائیومیٹرک توثیق اور ان کی قانونی شناختی دستاویزات پیش کرنے پر مشتمل ہو گا۔ مزید برآں، بینک

انٹرنیشنل

امریکہ میں فیس بک کے نئے فیچر متعارف

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں فیس بک ایک نیا فیچر ٹیسٹ کر رہی ہے جہاں وہ صارفین سے یہ پوچھتے ہیں کہ انھیں اس بات کی پریشانی تو نہیں کہ ان کے جاننے والوں میں سے کوئی شدت پسندی کی طرف جا رہا ہو۔اس کے علاوہ کچھ صارفین کو یہ تنبیہی پیغام بھی بھیجا جائے گا کہ انھوں نے شدت پسندی پر مبنی مواد دیکھا ہے۔یہ دونوں فیچر فیس بک کے ری ڈائریکٹ انیشیٹیو کے تحت ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جس کا مقصد شدی پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔یہ پیغامات صارف کو ایک ایسے صفحہ پر از خود لے جاتے ہیں جہاں ان کے پاس اس سب سے نمٹنے کے لیے سپورٹ موجود ہوتی ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق فیس بک کی ترجمان کا کہنا تھا کہ‘یہ ٹیسٹ ان دیگر بڑے اقدامات کا حصہ ہیں جہاں ہم ایسے لوگوں کی مدد اور انھیں وسائل فراہم کر رہے ہیں جنھیں شدی پسندانہ مواد کا سامنا کرنا پڑا ہو یا وہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہوں جو کہ شدت پسند بن رہا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی غیر سرکاری تنظیموں اور سیکٹر کے ماہر

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم