بنگلہ دیش انتخابات،بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی برتری

0

ڈھاکا (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کے عام انتخابات
2026 کے ابتدائی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی(بی این پی) کو واضح برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مقامی اخبار ڈھاکہ ٹربیون کے حوالے سے جاری رپورٹ کے مطابق بی این پی کے چیئرمین نے ابتدائی نتائج میں ڈھاکا۔17 اور بوگرا۔6 کی نشستیں حاصل کر لی ہیں، جبکہ تازہ اطلاعات کے مطابق بی این پی 175 سے زائد حلقوں میں آگے ہے اور جماعتِ اسلامی تقریباً 30 نشستوں پر سبقت لیے ہوئے ہے۔بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی کی نشستیں کل300 ہیں اور سادہ اکثریت کے لیے 151 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔الیکشن کمیشن کے سینئر سیکریٹری اختر احمد کے مطابق 12 فروری کو ہونے والی پولنگ مجموعی طور پر پُرامن رہی۔ پولنگ کے اختتام سے قبل دوپہر دو بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 47 اعشاریہ 91 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ پولنگ کا عمل شام ساڑھے چار بجے مکمل ہوا۔ اس موقع پر قومی ریفرنڈم بھی منعقد کیا گیا جس میں ’’جولائی چارٹر‘‘ کی منظوری یا مسترد کیے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔دوسری جانب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، جو اس وقت بھارت میں مقیم ہیں، نے انتخابات کو ’’ڈھونگ‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا بیان ان کی جماعت عوامی لیگ کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں پولنگ مراکز پر قبضے، فائرنگ، ووٹوں کی خرید و فروخت اور بیلٹ پیپرز پر غیر قانونی مہریں لگانے جیسے الزامات عائد کیے گئے۔
شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ ووٹر ٹرن آؤٹ نہ ہونے کے برابر تھا اور عوام کے جمہوری و آئینی حقوق کو نظر انداز کیا گیا۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے عوامی لیگ کی رجسٹریشن منسوخ کیے جانے کے بعد یہ جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں