منگل 25 جنوری 2022ء
منگل 25 جنوری 2022ء

اہم خبریں

آزادکشمیر میں کاوٗنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا قیام اور 134نئی آسامیوں کی تخلیق

  مظفرآباد(دھرتی نیوز)حکومت آزادکشمیر نے آزادکشمیر میں کاوٗنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)کے قیام کی منظوری دے دی۔محکمہ داخلہ آزادکشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدر آزاد کشمیر نے سی ٹی ڈی کے قیام کی خاطر تقرریوں و تبادلوں پر عائد پابندی میں نرمی کرتے ہوئے مختلف کیڈر کی 134نئی آسامیوں کی منظوری دے دی ہے۔یہ آسامیاں آزادکشمیر سروسز رولز کے تحت پر کی جائیں گی۔نئی تخلیق ہونے والی آسامیوں میں ایس پی (سی ٹی ڈی)گریڈ 18کی1،ڈی ایس پی گریڈ17 کی1،انسپکٹرگریڈ16کی 3،سب انسپکٹر اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر گریڈ 11سے 14 کی20،ہیڈ کنسٹیبل گریڈ9 کی 15اورکنسٹیبل،ڈرائیور، وائرلیس آپریٹرکی 60آسامیوں سمیت سائیبر کرائمزانوسٹی گیشن آفیسر،ریسرچ اینڈ اننالائیسیزآفیسر،کرائم سین ایکسپرٹ،کمپیوٹر موبائیل فرنزک ایکسپرٹ،فور جی،جی ایس ایم ایکسپرٹ،انٹیلی جنس اننالائیسزایکسپرٹ کاوٗنٹر ٹیررازم اوپریشن ایکسپرٹ،سائیکالوجسٹ،فنانشل کرائم ایکسپرٹ سمیت دیگر آسامیاں شامل ہیں۔سی ٹی ڈی کا قیام موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس(آئی جی پی) کی کاوشوں سے عمل میں لایا جا رہا ہے جس کے بعد سائبر کرائم سمیت دیگر جرائم کی تفتیش میں مدد ملے گی۔ کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ یا سی ٹی ڈی پولیس کا کرمنل انوسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ تھا۔ 2007 کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی لہرسے داخلی سلامتی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک غیر فوجی ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی جو انٹیلی جنس جمع کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کرنے، مجرموں کو سزا دلوانے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہواس کے لیے سی آئی ڈی کا انتخاب کیا گیا۔صوبائی سطح پر اس کی موجودگی پہلے سے تھی،سنہ 2010 میں سی آئی ڈی کا نام بدل کر سی ٹی ڈی کر دیا گیا جس کا دائرہ کار صوبائی سطح تک بڑھایا گیا۔سنہ 2015 میں سی ٹی ڈی کے لیے مخصوص پولیس سٹیشن قائم کیے گئے جہاں دہشت گردی سے متعلقہ مقدمات درج کیے جاتے اور ان کی تفتیش کی جاتی ہے۔سی ٹی ڈی کے پاس انٹیلی جنس اکٹھی کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کا نظام موجود ہے۔ اس کی روشنی میں ادارہ اپنی کارروائیاں ترتیب دیتا ہے۔ اس کے دفاتر صوبوں کے مراکز کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی قائم ہیں۔چند برس قبل سی ٹی ڈی کے اندر ایک کاؤنٹر ٹیررزم فورس بھی قائم کی گئی۔ سی ٹی ڈی پنجاب کی ویب سائٹ کے مطابق ’پڑھے لکھے 1200 جوانوں پر مشتمل اس فورس کو جدید تقاضوں کے عین مطابق پاک فوج اور دوست ممالک سے تربیت دلوائی گئی ہے۔ سی ٹی ڈی کے آپریشنز کی منصوبہ بندی میں ’پورا تھِنک ٹینک شامل ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک افسر نے فورس اکٹھی کی اور آپریشن کرنے چل پڑے۔ اس میں دیگر اداروں کی رائے بھی شامل ہوتی ہے۔آزادکشمیر میں اس طرح کا ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کی پہلے ضرورت قدرے کم محسوس کی جاتی رہی ہے کیونکہ یہاں دہشتگردی کے واقعات بھی کم ہوتے تھے لیکن سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے دیگر جرائم کی تفتیش میں تاخیر کے باعث اس ڈیپارٹمنٹ کا قیام ضروری تصور کیا جاتا رہا ہے۔  

پاکستان

دہشت گردوں کے سامنے صدر پاکستان اور وزیراعظم جھک چکے ہیں بلاول بھٹو

لاڑکانہ (دھرتی نیوز)پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اب بس نام کی رہ گئی ہے، اس ملک میں کبھی آر او الیکشن تو کبھی آر ٹی ایس کا الیکشن کرا کر جمہوریت کو نقصان پہنچایا جاتا رہا اور عوام کے ووٹ پر ڈاکا مار کر جمہوریت چھینی گئی۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی 14ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج 14سال گزرنے کے باوجود لوگ بے نظیر بھٹو شہید کو یاد کرتے ہیں لیکن شہید بی بی کا پاکستان آج مشکل میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں جمہوریت بس نام کی رہ گئی ہے، نہ اس میں بولنے کی آزادی ہے، نہ جینے کی آزادی ہے، نہ سانس لینے کی آزادی ہے، شہید بی بی آپ کا پاکستان تو معاشی طور پر بھی نقصان میں ہے اور غریب عوام لاوارث ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہید بی بی آپ کہتی تھیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور ہم نے جمہوریت کو بحال بھی کیا، 1973 کے آئین، اسلامی جمہوری وفاقی نظام اور جمہوریت کی بحالی کے

انٹرنیشنل

امریکہ میں فیس بک کے نئے فیچر متعارف

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں فیس بک ایک نیا فیچر ٹیسٹ کر رہی ہے جہاں وہ صارفین سے یہ پوچھتے ہیں کہ انھیں اس بات کی پریشانی تو نہیں کہ ان کے جاننے والوں میں سے کوئی شدت پسندی کی طرف جا رہا ہو۔اس کے علاوہ کچھ صارفین کو یہ تنبیہی پیغام بھی بھیجا جائے گا کہ انھوں نے شدت پسندی پر مبنی مواد دیکھا ہے۔یہ دونوں فیچر فیس بک کے ری ڈائریکٹ انیشیٹیو کے تحت ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جس کا مقصد شدی پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔یہ پیغامات صارف کو ایک ایسے صفحہ پر از خود لے جاتے ہیں جہاں ان کے پاس اس سب سے نمٹنے کے لیے سپورٹ موجود ہوتی ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق فیس بک کی ترجمان کا کہنا تھا کہ‘یہ ٹیسٹ ان دیگر بڑے اقدامات کا حصہ ہیں جہاں ہم ایسے لوگوں کی مدد اور انھیں وسائل فراہم کر رہے ہیں جنھیں شدی پسندانہ مواد کا سامنا کرنا پڑا ہو یا وہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہوں جو کہ شدت پسند بن رہا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی غیر سرکاری تنظیموں اور سیکٹر کے ماہر

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم