مظفرآباد (دھرتی نیوز)آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے یونیورسٹی آف پونچھ راولاکوٹ میں فیکلٹی بھرتیوں کے طریقہ کار سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے اشتہارات اور ان کے تحت شروع کیے گئے بھرتی کے عمل کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔یہ فیصلہ جسٹس سردار محمد اعجاز خان پر مشتمل سنگل بنچ نے رٹ پٹیشن بعنوان ہارون الرشید وغیرہ بنام یونیورسٹی آف پونچھ راولاکوٹ میں سنایا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یونیورسٹی کی جانب سے مورخہ 3 دسمبر 2025 اور 8 جنوری 2026 کو فیکلٹی کی مختلف آسامیوں کے لیے جاری کیے گئے اشتہارات قانون کے منافی ہیں اور ان کے ذریعے شروع کیا گیا بھرتی کا عمل آزاد جموں و کشمیر ریکروٹمنٹ ایکٹ 2021 اور ہائی کورٹ کے فیصلہ مورخہ 30 اکتوبر 2025 کے منافی ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ مذکورہ اشتہارات کو کالعدم قرار دیا جائے، بھرتی کے جاری عمل کو روکا جائے اور فیکلٹی آسامیوں پر بھرتی شفاف اور قانون کے مطابق کی جائے۔عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ آزاد جموں و کشمیر ریکروٹمنٹ (تھرڈ پارٹی کے ذریعے) ایکٹ 2021 کے تحت بی پی ایس 7 اور اس سے اوپر کی تمام مستقل آسامیوں پر بھرتی کے لیے تحریری امتحان کسی معتبر اور آزاد تھرڈ پارٹی ادارے کے ذریعے کروانا لازمی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ قانون صرف سرکاری محکموں تک محدود نہیں بلکہ خودمختار اداروں اور جامعات پر بھی مکمل طور پر لاگو ہوتا ہے، اس لیییونیورسٹی آف پونچھ راولاکوٹ بھی اس قانون کی پابند ہے۔عدالت نے مورخہ 3 دسمبر 2025 اور 8 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے اشتہارات اور ان کے تحت شروع کیا گیا سلیکشن پراسیس قانون کے تقاضوں کے مغائر قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا.عدالت نے مزید کہا کہ ان دو اشتہارات کے علاوہ بھی قبل ازیں کیا گیا سلیکشن پراسیس جو کہ بی پی ایس 7 اور اس سے اوپر کی مستقل آسامیوں کے متعلق تھا، جیسا کہ 25 فروری 2026 کی فہرست میں درج ہے، جو تھرڈ پارٹی ٹیسٹنگ کے بغیر جاری یا جزوی طور پر مکمل ہوئی، اسے بھے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔عدالت نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایت دی کہ فیکلٹی آسامیوں کے لیے نیا اور ازسرنو بھرتی کا عمل شروع کیا جائے جو آزاد جموں و کشمیر ریکروٹمنٹ (تھرڈ پارٹی کے ذریعے) ایکٹ 2021 کی سیکشن 4(1) کے تحت کسی مستند تھرڈ پارٹی ادارے کے ذریعے کیا جائے تاکہ بھرتیوں میں شفافیت، میرٹ اور مساوی مواقع کو یقینی بنایا جا سکے۔فیصلہ میں مزید کہا گیا کہ سلیکشن بورڈز اور کمیٹیوں کی تشکیل بھی قانون کے مطابق اور غیر جانبدارانہ ہونی چاہیے، اور بیرونی ماہرین کی مناسب نمائندگی شامل ہونی چاہیے تاکہ کسی قسم کے انتظامی اثر و رسوخ کو کم سے کم کیا جا سکے۔ سلیکشن بورڈ کا بنیادی کام امیدواروں کی میرٹ کی بنیاد پر جانچ
پڑتال کر کے سفارشات مجاز اتھارٹی کو پیش کرنا ہے، جبکہ تقرری کرنے والی اتھارٹی کا کردار صرف سفارشات کے بعد شروع ہوتا ہے۔عدالت نے حکومت آزاد جموں و کشمیر کو بھی ہدایت کی کہ آزاد جموں و کشمیر ریکروٹمنٹ (تھرڈ پارٹی کے ذریعے) ایکٹ 2021 کی سیکشن 5 کے تحت درکار قواعد و ضوابط ایک ماہ کے اندر مرتب کیے جائیں تاکہ مستقبل میں بھرتیوں کا عمل واضح قانونی فریم ورک کے تحت انجام دیا جا سکے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی آسامی کو فوری اور ہنگامی ضرورت کے تحت پر کرنا ناگزیر ہو تو اسے قانون کے مطابق عارضی بنیادوں پر بھرا جا سکتا ہے۔فیصلہ کی مصدقہ نقل متعلقہ حکام کو عملدرآمد کے لیے ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
جامعہ پونچھ میں خلاف قواعد تقرریاں کالعدم
0








