پاک افغان کشیدگی اور افغان مہاجرین: واضح پالیسی وقت کی اہم ضرورت

0

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد ملک کے مختلف شہروں سمیت آزاد کشمیر میں بھی افغان باشندوں کے خلاف پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض ایسے افغان شہریوں کو بھی ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جن کے پاس باقاعدہ ویزے موجود تھے۔ اس صورتحال نے کئی قانونی اور انسانی سوالات کو جنم دیا ہے اور یہ معاملہ حکومتی پالیسی کی وضاحت کا متقاضی ہے۔
پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ سوویت جنگ سے لے کر افغانستان میں مسلسل عدم استحکام تک، پاکستان نے ہمیشہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان بھائیوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ تاہم بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال، سیکیورٹی خدشات اور معاشی دباؤ کے باعث اب حکومت پاکستان افغان باشندوں کی واپسی کے حوالے سے سخت اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ریاست کو اپنی سلامتی اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن اس عمل میں قانونی تقاضوں اور انسانی حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کہ بعض ایسے افغان شہری بھی گرفتار کیے جا رہے ہیں جن کے پاس قانونی ویزے موجود ہیں، تشویش کا باعث ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے نہ صرف انتظامی بے ترتیبی ظاہر ہوتی ہے بلکہ پاکستان کے امیگریشن قوانین پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔ کسی بھی ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو قانونی پیچیدگیوں یا سفارتی مسائل کو جنم دیں۔
مزید برآں پاکستان اور افغانستان دونوں ہمسایہ ممالک ہیں اور دونوں کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط موجود ہیں۔ اس لیے کسی بھی قسم کی پالیسی بناتے وقت زمینی حقائق اور علاقائی حساسیت کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ افغان مہاجرین کا مسئلہ محض سیکیورٹی یا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور سفارتی مسئلہ بھی ہے۔
حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغان باشندوں کے حوالے سے ایک واضح، جامع اور مرحلہ وار پالیسی مرتب کرے۔ اس پالیسی میں قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد، پناہ گزینوں اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے۔ اسی طرح متعلقہ اداروں کو بھی واضح ہدایات دی جائیں تاکہ کسی قسم کی زیادتی یا غیر ضروری گرفتاریوں سے بچا جا سکے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ حالات میں جذبات کے بجائے حکمت، تدبر اور واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اپنی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ یہی متوازن طرز عمل نہ صرف داخلی استحکام بلکہ خطے میں بہتر سفارتی تعلقات کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں