دنیا میں توانائی کے ذخائر کو صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ تیل کی فراہمی میں معمولی خلل بھی معیشت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور دفاعی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے عالمی سطح پر تیل کےاسٹریٹیجک ذخائر کے حوالے سے واضح اصول اور معیارات طے کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ممالک اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔
بین الاقوامی توانائی پالیسی کے مطابق” بین الاقوامی توانائی ایجنسی” نے یہ معیار مقرر کیا ہے کہ ہر ممبر ملک کے پاس کم از کم 90 دن کی خالص تیل درآمدات کے برابر ذخائر موجود ہونے چاہئیں۔ اس معیار کا مقصد یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں بحران پیدا ہو جائے، جنگ چھڑ جائے یا سپلائی لائن متاثر ہو جائے تو ملک کی معیشت اور دفاعی نظام فوری طور پر مفلوج نہ ہو۔بدقسمتی سے پاکستان اس ادارہ کا ممبر نہیں ہے اور اس عالمی معیار سے بہت پیچھے ہے۔ عمومی طور پر پاکستان کے پاس 20 سے 30 دن کے درمیان تیل کے ذخائر ہوتے ہیں،ہنگامی صورتحال( جیسا کہ موجودہ وقت ہے)پاکستان کو یا اس طرح کے دیگر ممالک کو 20 فیصد ذخائر ہر حال میں سنبھال کر رکھنے ہوتے ہیں جو کسی بھی بڑے عالمی بحران یا علاقائی کشیدگی کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہوتے ہیں ۔مجموعی ذخائر کی کمی کے باعث میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر پاکستان کی معیشت پر ظاہر ہوتے ہیں۔ مہنگا تیل درآمد کرنے کی مجبوری نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتی ہے بلکہ اس کا بوجھ بالآخر عوام کو مہنگی پٹرولیم مصنوعات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔تخل سپلائی کرنے والی کمپنیوں کو ایڈوانس آرڈر مہنگے نرخوں پر دینے پڑتے ہیں جس سے یہ ابہام پیدا ہوتا ہے ہے کہ تیل کا ذخیرہ تھا تو پھر مہنگا کیوں کیا گیا؟
عالمی سطح پر کئی ممالک نے اس خطرے کو بہت پہلے محسوس کرتے ہوئے لمبے عرصے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔مثال کے طور پر امریکہ اور جاپان نے بڑے پیمانے پر اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر قائم کر رکھے ہیں، جن کے ذریعے وہ کئی ماہ تک اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے ذخائر انہیں عالمی منڈی کے اچانک جھٹکوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اب وقت آ چکا ہے کہ توانائی کے شعبے میں قلیل المدتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ سب سے اہم قدم اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر کا قیام ہے تاکہ کم از کم 60 سے 90 دن تک کے ذخائر دستیاب ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ متبادل توانائی کے ذرائع جیسے پن بجلی، شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو بھی تیز رفتاری سے آگے بڑھانا ہوگا تاکہ تیل پر انحصار کم کیا جا سکے۔
حکومت کو تیل کی درآمدات اور ذخیرہ کرنے کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ بندرگاہوں کے قریب بڑے ذخیرہ گاہوں کی تعمیر، زیر زمین ذخائر کا قیام اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری وہ اقدامات ہیں جو مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
موجودہ عالمی حالات واضح کرتے ہیں کہ توانائی کا تحفظ محض اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان نے بروقت توانائی کے محفوظ ذخائر اور مؤثر پالیسی نہ بنائی تو عالمی منڈی میں آنے والے کسی بھی بحران کا سب سے بڑا بوجھ پاکستانی معیشت اور عوام کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کے اسٹریٹیجک ذخائر کا قیام اب ایک آپشن نہیں بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔












