آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدہ، ایک خطرناک پیش رفت

0

جنوبی ایشیا پہلے ہی سیاسی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور عدم اعتماد کی فضا کا شکار ہے، ایسے میں اگر پانی جیسے بنیادی اور حساس مسئلے کو بھی سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس کے اثرات نہ صرف دو ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے بعد اب دریا چناب پر ایک ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے جسے پاکستان میں آبی جارحیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔
سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا جس کی ضمانت عالمی بینک نے دی تھی۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے جبکہ مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے لیے مختص کیے گئے۔ اس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ شدید جنگوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود یہ معاہدہ کئی دہائیوں تک برقرار رہالیکن اگر بھارت واقعی یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم کرنے یا اس کی روح کے خلاف اقدامات کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے تو یہ صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے لیے بھی ایک خطرناک مثال ہوگی۔ دریا چناب پر ڈیم کی تعمیر یا پانی کے بہاؤ کو منظم انداز میں روکنے کی کوشش پاکستان کی زراعت، معیشت اور لاکھوں لوگوں کے روزگار پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ پاکستان کا زرعی نظام بڑی حد تک انہی دریاؤں پر منحصر ہے اور پانی کی کمی غذائی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جدید دور میں ایک نئی قسم کی جنگ کے مترادف سمجھا جاتا ہے جسے ماہرین ”واٹر وارفیئر” یا آبی جارحیت کہتے ہیں۔ اگر کسی ملک کی جانب سے جان بوجھ کر پانی کے بہاؤ کو کم یا زیادہ کر کے دوسرے ملک کو نقصان پہنچایا جائے تو یہ انسانی اور ماحولیاتی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بین الاقوامی آبی معاہدوں کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے اور انہیں یکطرفہ طور پر ختم کرنے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہ رکھے بلکہ سفارتی، قانونی اور عالمی سطح پر مؤثر حکمت عملی اختیار کرے۔ عالمی بینک، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اس مسئلے کو اٹھانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی پاکستان کو اپنے آبی ذخائر، ڈیموں اور پانی کے انتظام کے نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ آبی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔خطے کے دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان پانی کا تنازع اگر شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کو متاثر کریں گے۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں ممالک بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری کریں اور پانی جیسے حساس مسئلے کو تصادم کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں