اسلام آباد ( دھرتی نیوز )آزاد کشمیر کے جملہ اضلاع کے چیئرمین ضلع کونسل ہا کا اجلاس منگل کی رات گے جموں و کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ مراعات کے نوٹیفکیشن کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا۔ ترجمان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین ضلع کونسل / لوکل کونسل مقامی حکومت کا سربراہ ہے اپنے اختیارات ، منڈیٹ اور ذمہ داریوں کے حوالے سے تمام اضلاع برابر ہیں ان میں کوئی تفاوت نہیں، مراعات میں ان کی “گریڈنگ” قابل قبول نہیں۔ چیئرمین کو اس کے ماتحت افسر سے بھی کم گریڈ دینا عوامی منڈیٹ کی توہین ہے۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ بلدیاتی نمائندگان کی طرف سے جاری عدالتی ، قانونی اور آئینی جدوجہد ہی جاری رکھی جائیگی۔ ماضی میں متعدد بار مذاکرات کے بعد حکومت نے طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ اب تک کئی اجلاسوں میں طے ہونیوالے فیصلے تاخیر کا شکار ہیں۔ رولز، کنڈیکٹ آف بزنس رولز، ٹیکس شیڈول ، ٹریننگ ، دفاتر کیلئے مکانیت، اسامیوں پر تقرریاں، ٹیکنکل اسٹاف کی فراہمی کیلئے تین سالوں میں پیش رفت نہیں ہوئی۔
سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن منعقد کیے گئے اور ہائیکورٹ نے اختیارات کیلئے جامع اور بہترین فیصلہ دیا لیکن ایکٹ 2025 دستور العمل کے نام سے پاس کرکے ہائیکورٹ کے فیصلے کو ہی غیر موثر کردیا۔ لہذا آزادکشمیر کے بلدیاتی نمائندگان اب اپنی جنگ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں کریں گے تاکہ ایک بار اختیار مقامی حکومتوں کا نظام فعال اور بحال ہو سکے۔ اجلاس میں ضلعی چیئرمین سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ پونچھ، سردار امتیاز عباسی مظفرآباد ، راجہ نوید میرپور، عبدالغفور جاوید کوٹلی ، امجد جاوید پلندری، پروفیسر آصف باغ، جاوید ڈار حویلی، غلام مجتبیٰ نیلم ویلی، طیب منظور کیانی جہلم ویلی ، سید سکندر نثار گیلانی مئیر مظفرآباد نے شرکت کی جبکہ چیئرمین ضلع کونسل بھمبر نے آنلائن شرکت کی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے لوکل فنڈز کی ریلیز پر سترہ اپریل تک اسٹے آرڈر دے رکھا ہے جبکہ ہائیکورٹ نے 7 اپریل کو بحث کیلئے تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔
دس اضلاع کے چیئرمین ضلع کونسلزکا اجلاس، مراعات سے متعلق نوٹیفکیشن مسترد
0










